قلعہ سوبھا سنگھ (احمد آباد): سکھ عہد کی فصیل، قلعہ اور تاریخی ریلوے جنکشن

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
قلعہ کا قیام اور سکھ دور
تحصیل پسرور کا قصبہ قلعہ سوبھا سنگھ (جو اب سرکاری ریکارڈ میں احمد آباد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) خطے کا ایک غیر معمولی تاریخی مرکز ہے۔ اٹھارویں صدی کے وسط میں مغل سلطنت کے زوال کے وقت سکھ مسلوں کا غلبہ ہوا تو کنہیا مسل کے سردار سوبھا سنگھ نے پسرور کے مغرب میں ایک مضبوط اینٹوں کا قلعہ تعمیر کروایا جس کے گرد گہری خندق اور فصیل بنائی گئی۔
سردار سوبھا سنگھ نے اس قلعے کو سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے درمیان دفاعی اور تجارتی چوکیداری کا مرکز بنایا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بعد ازاں اس قلعے کو اپنی تحویل میں لے کر اپنی فوج کا اناج ذخیرہ کرنے اور گھڑسوار دستوں کی چھاؤنی کے طور پر استعمال کیا۔
1915ء کا تاریخی ریلوے جنکشن
برطانوی راج کے دوران جب نارتھ ویسٹرن ریلوے کا جال بچھایا گیا، تو 1915ء میں قلعہ سوبھا سنگھ کو وزیرآباد-سیالکوٹ-نارووال سیکشن پر ایک اہم جنکشن بنایا گیا۔ یہاں سے زرعی اجناس بالخصوص خالص باسمتی چاول پورے برصغیر اور کراچی بندرگاہ کے ذریعے یورپ تک برآمد کیے جاتے تھے۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










