1965ء معرکۂ چونڈہ: دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
چونڈہ سیکٹر کی اسٹریٹجک حیثیت
ستمبر 1965ء میں جب بھارتی فوج نے بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیالکوٹ پر حملہ کیا، تو ان کا بنیادی ہدف تحصیل پسرور کا ریلوے جنکشن اور قصبہ چونڈہ تھا۔ بھارتی جنرلز کا منصوبہ چونڈہ پر قبضہ کر کے جی ٹی روڈ اور وزیرآباد-لاہور ریلوے لائن کو کاٹنا تھا تاکہ پاکستانی فوج کے رابطے منقطع کیے جا سکیں۔
بھارتی فوج نے اپنی فخرِ روزگار 1st آرمرڈ ڈویژن (جسے بلیک ایلیفنٹ کہا جاتا تھا) کے 600 جدید سینچورین اور شرمین ٹینکوں کے ساتھ چونڈہ، گڈگور اور پھلورہ پر حملہ کیا۔ اس کے مقابلے میں پاک فوج کی 6 آرمرڈ ڈویژن، 25 کیولری اور 11 کیولری کے شیر دل جوان سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔
لازوال قربانیاں اور فتح
میجر ضیاء الدین احمد عباسی شہید (ستارۂ جرات)، لیفٹیننٹ کرنل نثار احمد خان (ستارۂ جرات) اور میجر جنرل ابرار حسین (ہلالِ جرات) کی دلیرانہ قیادت میں پاکستانی ٹینکوں نے کم تعداد کے باوجود چونڈہ کے ہر چپے پر دشمن کے ٹینکوں کو تباہ کیا۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے چونڈہ کے آسمان پر دشمن کی سپلائی لائنوں کے پرخچے اڑا دیے۔
22 ستمبر کو جنگ بندی تک چونڈہ کا محاذ دنیا بھر میں 'ٹینکوں کے قبرستان' کے نام سے شہرت پا چکا تھا، جہاں بھارتی فوج کے 120 سے زائد ٹینک تباہ اور درجنوں مالِ غنیمت کے طور پر حاصل کیے گئے۔ یہ معرکہ عالمی عسکری تاریخ میں دفاعِ وطن کا لازوال شاہکار مانا جاتا ہے۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں









