ظہیر الدین محمد بابر کا خطۂ پسرور میں تاریخی ورود اور شکار (1525-1526ء) (صبح کا تاریخی واقعہ)

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مغل سلطنت کی بنیاد اور خطۂ پسرور کی جغرافیائی اہمیت
برصغیر پاک و ہند کی تواریخ میں شہنشاہ ظہیر الدین محمد بابر کا نام ایک عظیم فاتح اور حقیقت پسند مورخ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ بابر نے اپنی خود نوشت 'تزکِ بابری' (بابر نامہ) میں پنجاب کے جن گنے چنے مقامات کا خصوصی ذکر کیا ہے، ان میں خطۂ پسرور اور سیالکوٹ نمایاں ترین ہیں۔
1525ء کے اواخر اور 1526ء کے آغاز میں جب بابر اپنے لشکر کے ہمراہ کابل سے پانی پت کے تاریخی میدان کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا، تو اس نے کشن گنگا اور چناب کو عبور کرنے کے بعد سیالکوٹ کے جنوب میں پسرور کے زرخیز اور خوشگوار میدانوں میں اپنی شاہی چھاؤنی قائم کی۔ بابر نامہ کے فارسی و انگریزی تراجم کے مطابق، بابر نے اس علاقے کے قدرتی چشموں، گھنے باغات اور لذیذ باسمتی چاولوں کی زرخیزی کی کھلے دل سے تعریف کی۔
شاہی شکار اور مغل فوج کا قیام
بابر نامہ کے مطابق شہنشاہ نے نالہ ڈیک اور گردونواح کے دلدلی اور جنگلاتی علاقوں میں کئی روز تک شکار کھیلا۔ اس دور میں پسرور کا علاقہ ہمالیہ کے دامن سے نکلنے والے میٹھے پانی کے نالوں کی بدولت شاداب ترین خطہ تصور کیا جاتا تھا۔ بابر کے سپاہیوں نے یہاں تازہ دم ہو کر پانی پت کی فیصلہ کن جنگ کے لیے اپنی صف بندی مکمل کی، جس کے نتیجے میں ہندوستان میں تین سو سالہ مغل سلطنت کی بنیاد پڑی۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں







