
پسرور کے مٹی کے تاریخی برتن اور روایتی دستکاری کا سنہری دور
انیسویں اور بیسویں صدی میں پسرور کے کمہاروں کے بنے ہوئے باریک مٹی کے برتن، صراحیاں اور دیئے جن کی نفاست برصغیر اور لاہور کے شاہی محلات میں سراہی جاتی تھی۔
تاریخ
پنجاب
پنجاب
پنجابلڑکوں اور لڑکیوں کے خوبصورت نام
تھانہ، ہسپتال، ریسکیو 1122
سبزی، پھل، مرغی، گوشت و اجناس
انیسویں اور بیسویں صدی میں پسرور کے کمہاروں کے بنے ہوئے باریک مٹی کے برتن، صراحیاں اور دیئے جن کی نفاست برصغیر اور لاہور کے شاہی محلات میں سراہی جاتی تھی۔
(7 نومبر 2026): این اے 77 گوجرانوالہ ضمنی الیکشن میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کو نوٹس جاری کر دیا۔
لاہور (7 نومبر 2026): وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بتدریج کمی کی جا رہی۔
لاہور: پاکستان میں رمضان المبارک کے آغاز اور اختتام کی ممکنہ تاریخیں سامنے آگئیں، 8 فروری یا 9 فروری 2027ء کو نظر آنے اور پہلے روزے کا امکان۔
لاہور ہائیکورٹ کا نجی میڈیکل کالجز کو اضافی فیس طلبہ کو واپس کرنے کا حکم۔
لاہور(7 نومبر 2026): پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی نے آئندہ سیریز کے لیے قومی اسکواڈ میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے دو کھلاڑیوں کو ریلیز کر دیا۔
سیالکوٹ: سمبڑیال پولیس نے سنار کے گھر سے لوٹا گیا 7 کروڑ روپے مالیت کا 2 کلو سے زائد سونا کھیتوں سے برآمد کرلیا۔
لاہور(7 نومبر 2026): مغلپورہ میں رشتہ ختم ہونے کی رنجش پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں نوجوان زخمی ہوگیا۔
وزیراعظم یوتھ انٹرن شپ (PKR 40K)، او جی ڈی سی ایل (PKR 45K)، اسٹیٹ بینک سمیت فل برائٹ، شیوننگ اور کاؤسٹ کے مصدقہ مواقع
مغل اور سکھ ادوار میں تعمیر شدہ قلعہ کالروالہ کی فصیلوں، تاریخی درباروں اور تزویراتی حیثیت کا مستند جائزہ جو شاہی لشکروں کا محفوظ مورچہ رہا۔
پسرور کی خوبصورتی، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری! 🌱🌸
پسرور کی خوبصورتی، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری! 🌱🌸
1850ء کی دہائی میں قائم ہونے والے کلاسوالہ کے تاریخی مشن ہائی اسکول کی داستان، جس نے برصغیر کے نامور جج، ادیب، سیاستدان اور دانشور پیدا کیے۔
مدرسہ اختر العلوم کی انتظامیہ کو 15 روز میں عمارت کا منظور شدہ نقشہ جمع کرانے کی ہدایت۔
اسلام آباد : شاہ اللہ دتہ کی بدھا غاریں اسلام آباد میں سلسلہ کوہ مارگلہ کے دامن میں ایک قدیم گاؤں میں واقع ہیں، مذکورہ غاریں یونین کونسل 93 گاؤں پنڈ سنگڑیال اور خان پور جانے والے راستے پر مزار کے پاس واقع ہیں۔
اسلام آباد (6 نومبر 2026): وزیر اعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان کا کہنا ہے کہ ایک وقت آئے گا شہباز شریف گورننس ماڈل پر پی ایچ ڈی ہوا کرے۔
خاتون کو امریکا جانے سے روک دیا گیا، ایئرپورٹ سے باہر بھی نہیں آئیں، کوئی چارج بھی نہیں ہے لاپتا ہیں، درخواست۔
باوقار اشتہارات کے لیے رابطہ کریں: [email protected]
تزکِ بابری سے شہزادہ داراشکوہ، برطانوی گزٹیرز، معرکۂ چونڈہ 1965ء اور 1947ء کے بٹوارے تک — تحصیل پسرور و گردونواح کے مستند تاریخی مقالے

انیسویں اور بیسویں صدی میں پسرور کے کمہاروں کے بنے ہوئے باریک مٹی کے برتن، صراحیاں اور دیئے جن کی نفاست برصغیر اور لاہور کے شاہی محلات میں سراہی جاتی تھی۔

مغل اور سکھ ادوار میں تعمیر شدہ قلعہ کالروالہ کی فصیلوں، تاریخی درباروں اور تزویراتی حیثیت کا مستند جائزہ جو شاہی لشکروں کا محفوظ مورچہ رہا۔

1850ء کی دہائی میں قائم ہونے والے کلاسوالہ کے تاریخی مشن ہائی اسکول کی داستان، جس نے برصغیر کے نامور جج، ادیب، سیاستدان اور دانشور پیدا کیے۔

مقبوضہ جموں کے پہاڑوں سے نکل کر پسرور کے درجنوں دیہات کو سیراب کرنے والے تاریخی نالہ ڈیک کی جغرافیائی اور زرعی تاریخ جس نے پسرور کو باسمتی چاول کا عالمی تاج بخشا۔

اٹھارویں صدی کے آخری عشرے میں سردار سوبھا سنگھ کنہیا کے تعمیر کردہ تاریخی قلعے اور 1915ء کے برطانوی ریلوے جنکشن کی مستند تاریخی داستان۔

8 ستمبر سے 22 ستمبر 1965ء تک لڑی جانے والی تاریخ ساز جنگ، جس میں پسرور کے قصبے چونڈہ میں پاکستان کے 135 ٹینکوں نے بھارت کے 600 ٹینکوں کے غرور کو خاک میں ملا کر اسے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔

تحصیل پسرور کے اہم ترین تاریخی قصبے قلعہ سوبھا سنگھ کی بنیاد، بھنگی سردار کا تاریخی قلعہ، اناج منڈی اور احمد آباد نام رکھے جانے کے مکمل تاریخی حقائق۔

مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کی تزکِ بابری سے لے کر آئینِ اکبری اور ڈسٹرکٹ گزیٹیئر آف سیالکوٹ تک، پسرور کے تاریخی قلعے، شاہی تالاب اور تجارتی راستوں کے ناقابلِ تردید شواہد۔

تزکِ جہانگیری کے چودہویں سال کے احوال کے مطابق، مغل شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نورجہاں نے کشمیر سفر کے دوران پسرور کے عظیم الشان پختہ تالاب پر پڑاؤ کیا اور اس کے فنِ تعمیر کو سراہا۔

سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گزیٹیئر 1883ء، ایڈورڈ پرنسپ کی بندوبست رپورٹ 1865ء اور برطانوی سرکاری دستاویزات میں تحصیل پسرور کی انتظامی تشکیل، ریلوے، زراعت اور بلدیاتی تاریخ کے نایاب اور مستند حقائق۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں پسرور کے کمہاروں کے بنے ہوئے باریک مٹی کے برتن، صراحیاں اور دیئے جن کی نفاست برصغیر اور لاہور کے شاہی محلات میں سراہی جاتی تھی۔

مغل اور سکھ ادوار میں تعمیر شدہ قلعہ کالروالہ کی فصیلوں، تاریخی درباروں اور تزویراتی حیثیت کا مستند جائزہ جو شاہی لشکروں کا محفوظ مورچہ رہا۔

1850ء کی دہائی میں قائم ہونے والے کلاسوالہ کے تاریخی مشن ہائی اسکول کی داستان، جس نے برصغیر کے نامور جج، ادیب، سیاستدان اور دانشور پیدا کیے۔

مقبوضہ جموں کے پہاڑوں سے نکل کر پسرور کے درجنوں دیہات کو سیراب کرنے والے تاریخی نالہ ڈیک کی جغرافیائی اور زرعی تاریخ جس نے پسرور کو باسمتی چاول کا عالمی تاج بخشا۔

اٹھارویں صدی کے آخری عشرے میں سردار سوبھا سنگھ کنہیا کے تعمیر کردہ تاریخی قلعے اور 1915ء کے برطانوی ریلوے جنکشن کی مستند تاریخی داستان۔