
کلاسوالہ کا ڈیڑھ سو سالہ تعلیمی ورثہ: برصغیر کا قدیم اسکول اور سماجی بیداری
1850ء کی دہائی میں قائم ہونے والے کلاسوالہ کے تاریخی مشن ہائی اسکول کی داستان، جس نے برصغیر کے نامور جج، ادیب، سیاستدان اور دانشور پیدا کیے۔
پاکستان
پاکستان
تاریخ
تعلیملڑکوں اور لڑکیوں کے خوبصورت نام
تھانہ، ہسپتال، ریسکیو 1122
سبزی، پھل، مرغی، گوشت و اجناس
اسلام آباد : شاہ اللہ دتہ کی بدھا غاریں اسلام آباد میں سلسلہ کوہ مارگلہ کے دامن میں ایک قدیم گاؤں میں واقع ہیں، مذکورہ غاریں یونین کونسل 93 گاؤں پنڈ سنگڑیال اور خان پور جانے والے راستے پر مزار کے پاس واقع ہیں۔
اسلام آباد (6 نومبر 2026): وزیر اعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان کا کہنا ہے کہ ایک وقت آئے گا شہباز شریف گورننس ماڈل پر پی ایچ ڈی ہوا کرے۔
1850ء کی دہائی میں قائم ہونے والے کلاسوالہ کے تاریخی مشن ہائی اسکول کی داستان، جس نے برصغیر کے نامور جج، ادیب، سیاستدان اور دانشور پیدا کیے۔
لاہور: آئندہ سال سے پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کی جانب سے تمام مضامین کے امتحانات مکمل طور پر ای شیٹ پر ہی لیے جائیں۔
لاہور(6 نومبر 2026): پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسٹار بیٹر بابر اعظم کی ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی توقع کے مطابق شاندار نہیں رہی۔
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کے دورہ پاکستان کی اجازت بھارتی حکومت کو دینی ہے، ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ۔
لاہور : وفاقی وزیر چوہدری سالک نے مریم نواز کی جانب سے بھجوایا گیا قانونی نوٹس موصول ہونے کے بعد جلد جواب دینے کا اعلان کردیا۔
کرائم سرویلنس یونٹ میں جرائم کی 20 مختلف کیٹیگریز کا ڈیٹا مرتب کیا جائے۔
وزیراعظم یوتھ انٹرن شپ (PKR 40K)، او جی ڈی سی ایل (PKR 45K)، اسٹیٹ بینک سمیت فل برائٹ، شیوننگ اور کاؤسٹ کے مصدقہ مواقع
مقبوضہ جموں کے پہاڑوں سے نکل کر پسرور کے درجنوں دیہات کو سیراب کرنے والے تاریخی نالہ ڈیک کی جغرافیائی اور زرعی تاریخ جس نے پسرور کو باسمتی چاول کا عالمی تاج بخشا۔
پسرور کی خوبصورتی، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری! 🌱🌸
اٹھارویں صدی کے آخری عشرے میں سردار سوبھا سنگھ کنہیا کے تعمیر کردہ تاریخی قلعے اور 1915ء کے برطانوی ریلوے جنکشن کی مستند تاریخی داستان۔
پسرور کے حسن میں ایک اور خوبصورت اضافہ!
ملزم کو ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل اسلام آباد کے حوالے کیاگیا اور مزید تفتیش جاری ہے، حکام۔
پاکپتن : دکانوں اور ہوٹلوں پر مردہ جانوروں کے گوشت کی سپلائی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 7 من مردہ گوشت برآمد کرلیا گیا۔
پرانی حلقہ بندیوں کی قانونی حیثیت کا تعین کیے بغیر الیکشن نہیں کرایا جا سکتا، درخواست گزار۔
اسلام آباد : نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ترجمان نے انتقال کر جانے والے شہری کے یوسی ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر شناختی کارڈ منسوخ ہونے سے متعلق اہم وضاحت جاری کردی۔
باوقار اشتہارات کے لیے رابطہ کریں: [email protected]
تزکِ بابری سے شہزادہ داراشکوہ، برطانوی گزٹیرز، معرکۂ چونڈہ 1965ء اور 1947ء کے بٹوارے تک — تحصیل پسرور و گردونواح کے مستند تاریخی مقالے

1850ء کی دہائی میں قائم ہونے والے کلاسوالہ کے تاریخی مشن ہائی اسکول کی داستان، جس نے برصغیر کے نامور جج، ادیب، سیاستدان اور دانشور پیدا کیے۔

مقبوضہ جموں کے پہاڑوں سے نکل کر پسرور کے درجنوں دیہات کو سیراب کرنے والے تاریخی نالہ ڈیک کی جغرافیائی اور زرعی تاریخ جس نے پسرور کو باسمتی چاول کا عالمی تاج بخشا۔

اٹھارویں صدی کے آخری عشرے میں سردار سوبھا سنگھ کنہیا کے تعمیر کردہ تاریخی قلعے اور 1915ء کے برطانوی ریلوے جنکشن کی مستند تاریخی داستان۔

8 ستمبر سے 22 ستمبر 1965ء تک لڑی جانے والی تاریخ ساز جنگ، جس میں پسرور کے قصبے چونڈہ میں پاکستان کے 135 ٹینکوں نے بھارت کے 600 ٹینکوں کے غرور کو خاک میں ملا کر اسے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔

تحصیل پسرور کے اہم ترین تاریخی قصبے قلعہ سوبھا سنگھ کی بنیاد، بھنگی سردار کا تاریخی قلعہ، اناج منڈی اور احمد آباد نام رکھے جانے کے مکمل تاریخی حقائق۔

مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کی تزکِ بابری سے لے کر آئینِ اکبری اور ڈسٹرکٹ گزیٹیئر آف سیالکوٹ تک، پسرور کے تاریخی قلعے، شاہی تالاب اور تجارتی راستوں کے ناقابلِ تردید شواہد۔

تزکِ جہانگیری کے چودہویں سال کے احوال کے مطابق، مغل شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نورجہاں نے کشمیر سفر کے دوران پسرور کے عظیم الشان پختہ تالاب پر پڑاؤ کیا اور اس کے فنِ تعمیر کو سراہا۔

سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گزیٹیئر 1883ء، ایڈورڈ پرنسپ کی بندوبست رپورٹ 1865ء اور برطانوی سرکاری دستاویزات میں تحصیل پسرور کی انتظامی تشکیل، ریلوے، زراعت اور بلدیاتی تاریخ کے نایاب اور مستند حقائق۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں پسرور کے کمہاروں کے بنے ہوئے باریک مٹی کے برتن، صراحیاں اور دیئے جن کی نفاست برصغیر اور لاہور کے شاہی محلات میں سراہی جاتی تھی۔

مغل اور سکھ ادوار میں تعمیر شدہ قلعہ کالروالہ کی فصیلوں، تاریخی درباروں اور تزویراتی حیثیت کا مستند جائزہ جو شاہی لشکروں کا محفوظ مورچہ رہا۔

1850ء کی دہائی میں قائم ہونے والے کلاسوالہ کے تاریخی مشن ہائی اسکول کی داستان، جس نے برصغیر کے نامور جج، ادیب، سیاستدان اور دانشور پیدا کیے۔

مقبوضہ جموں کے پہاڑوں سے نکل کر پسرور کے درجنوں دیہات کو سیراب کرنے والے تاریخی نالہ ڈیک کی جغرافیائی اور زرعی تاریخ جس نے پسرور کو باسمتی چاول کا عالمی تاج بخشا۔

اٹھارویں صدی کے آخری عشرے میں سردار سوبھا سنگھ کنہیا کے تعمیر کردہ تاریخی قلعے اور 1915ء کے برطانوی ریلوے جنکشن کی مستند تاریخی داستان۔

8 ستمبر سے 22 ستمبر 1965ء تک لڑی جانے والی تاریخ ساز جنگ، جس میں پسرور کے قصبے چونڈہ میں پاکستان کے 135 ٹینکوں نے بھارت کے 600 ٹینکوں کے غرور کو خاک میں ملا کر اسے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔

تزکِ جہانگیری کے چودہویں سال کے احوال کے مطابق، مغل شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نورجہاں نے کشمیر سفر کے دوران پسرور کے عظیم الشان پختہ تالاب پر پڑاؤ کیا اور اس کے فنِ تعمیر کو سراہا۔