
پسرور کے مٹی کے تاریخی برتن اور روایتی دستکاری کا سنہری دور
انیسویں اور بیسویں صدی میں پسرور کے کمہاروں کے بنے ہوئے باریک مٹی کے برتن، صراحیاں اور دیئے جن کی نفاست برصغیر اور لاہور کے شاہی محلات میں سراہی جاتی تھی۔
پنجاب
تاریخ
سیالکوٹلڑکوں اور لڑکیوں کے خوبصورت نام
تھانہ، ہسپتال، ریسکیو 1122
سبزی، پھل، مرغی، گوشت و اجناس
پسرور : اینٹی کرپشن سیالکوٹ کی بڑی کارروائی، جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے اور رشوت لینے کے الزام میں دو اہلکار گرفتارپسرور۔۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سیالکوٹ نے سرکل آفیسر رانا مبشر ع
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چوہدری سالک کو مبینہ کرپشن کے بیان پر قانونی نوٹس بھجوا دیا۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں پسرور کے کمہاروں کے بنے ہوئے باریک مٹی کے برتن، صراحیاں اور دیئے جن کی نفاست برصغیر اور لاہور کے شاہی محلات میں سراہی جاتی تھی۔
ڈپٹی کمشنر انٹرویو سے پہلے لگا ہوا تھا، ایک بندے نے سوال پوچھا اور میں نے دیانت داری سے جواب دیا، وفاقی وزیر۔
وزیراعظم یوتھ انٹرن شپ (PKR 40K)، او جی ڈی سی ایل (PKR 45K)، اسٹیٹ بینک سمیت فل برائٹ، شیوننگ اور کاؤسٹ کے مصدقہ مواقع
مغل اور سکھ ادوار میں تعمیر شدہ قلعہ کالروالہ کی فصیلوں، تاریخی درباروں اور تزویراتی حیثیت کا مستند جائزہ جو شاہی لشکروں کا محفوظ مورچہ رہا۔
1850ء کی دہائی میں قائم ہونے والے کلاسوالہ کے تاریخی مشن ہائی اسکول کی داستان، جس نے برصغیر کے نامور جج، ادیب، سیاستدان اور دانشور پیدا کیے۔
اسلام آباد: سابق سینیٹر مشتاق احمد کی اہلیہ نے خلع لے لی اور فیملی کورٹ نے ڈگری جاری کردی۔
اسلام آباد : انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کرلی تاہم رہائی ممکن نہ ہوسکی۔
ایچ ای سی کی جانب سے جاری […]۔
سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں شرکت کی خبروں پر خاموشی توڑ۔
باوقار اشتہارات کے لیے رابطہ کریں: [email protected]
تزکِ بابری سے شہزادہ داراشکوہ، برطانوی گزٹیرز، معرکۂ چونڈہ 1965ء اور 1947ء کے بٹوارے تک — تحصیل پسرور و گردونواح کے مستند تاریخی مقالے

انیسویں اور بیسویں صدی میں پسرور کے کمہاروں کے بنے ہوئے باریک مٹی کے برتن، صراحیاں اور دیئے جن کی نفاست برصغیر اور لاہور کے شاہی محلات میں سراہی جاتی تھی۔

مغل اور سکھ ادوار میں تعمیر شدہ قلعہ کالروالہ کی فصیلوں، تاریخی درباروں اور تزویراتی حیثیت کا مستند جائزہ جو شاہی لشکروں کا محفوظ مورچہ رہا۔

1850ء کی دہائی میں قائم ہونے والے کلاسوالہ کے تاریخی مشن ہائی اسکول کی داستان، جس نے برصغیر کے نامور جج، ادیب، سیاستدان اور دانشور پیدا کیے۔

مقبوضہ جموں کے پہاڑوں سے نکل کر پسرور کے درجنوں دیہات کو سیراب کرنے والے تاریخی نالہ ڈیک کی جغرافیائی اور زرعی تاریخ جس نے پسرور کو باسمتی چاول کا عالمی تاج بخشا۔

اٹھارویں صدی کے آخری عشرے میں سردار سوبھا سنگھ کنہیا کے تعمیر کردہ تاریخی قلعے اور 1915ء کے برطانوی ریلوے جنکشن کی مستند تاریخی داستان۔

8 ستمبر سے 22 ستمبر 1965ء تک لڑی جانے والی تاریخ ساز جنگ، جس میں پسرور کے قصبے چونڈہ میں پاکستان کے 135 ٹینکوں نے بھارت کے 600 ٹینکوں کے غرور کو خاک میں ملا کر اسے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔

تزکِ جہانگیری کے چودہویں سال کے احوال کے مطابق، مغل شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نورجہاں نے کشمیر سفر کے دوران پسرور کے عظیم الشان پختہ تالاب پر پڑاؤ کیا اور اس کے فنِ تعمیر کو سراہا۔

تزکِ بابری کے مصدقہ اوراق کے مطابق شہنشاہ بابر نے دہلی فتح کرنے سے قبل پسرور اور سیالکوٹ کے زرخیز میدانوں میں شاہی پڑاؤ ڈالا اور یہاں کے قدرتی مناظر و شکارگاہوں کا تفصیلی احوال قلمبند کیا۔

تحصیل پسرور کے اہم ترین تاریخی قصبے قلعہ سوبھا سنگھ کی بنیاد، بھنگی سردار کا تاریخی قلعہ، اناج منڈی اور احمد آباد نام رکھے جانے کے مکمل تاریخی حقائق۔

مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کی تزکِ بابری سے لے کر آئینِ اکبری اور ڈسٹرکٹ گزیٹیئر آف سیالکوٹ تک، پسرور کے تاریخی قلعے، شاہی تالاب اور تجارتی راستوں کے ناقابلِ تردید شواہد۔

تحصیل پسرور کا تاریخی قصبہ کلاسوالہ کس طرح برصغیر میں جدید اور معیاری تعلیم کا گہوارا بنا؟ 1855ء سے قائم مشن اسکول اور سماجی خدمات کے دستاویزی حقائق۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے پہاڑوں سے نکل کر تحصیل پسرور کو سیراب کرنے والے نالہ ڈیک کی صدیوں پرانی تاریخ، سیلابوں کا احوال اور باسمتی چاول کی فصل میں اس کا کردار۔

ستمبر 1965ء کی جنگ میں تحصیل پسرور کا ریلوے قصبہ چونڈہ کس طرح بھارتی فوج کے لیے 'ٹینکوں کا قبرستان' بنا؟ پاک فوج کے عسکری ریکارڈز اور تاریخی حقائق۔

تحصیل پسرور کے اہم ترین تاریخی قصبے قلعہ سوبھا سنگھ کی بنیاد، بھنگی سردار کا تاریخی قلعہ، اناج منڈی اور احمد آباد نام رکھے جانے کے مکمل تاریخی حقائق۔

مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کی تزکِ بابری سے لے کر آئینِ اکبری اور ڈسٹرکٹ گزیٹیئر آف سیالکوٹ تک، پسرور کے تاریخی قلعے، شاہی تالاب اور تجارتی راستوں کے ناقابلِ تردید شواہد۔