شہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء) (شام کا تاریخی مقالہ)

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
کشمیر شاہراہ پر پسرور کا شاہی پڑاؤ
مغل دورِ حکومت میں لاہور سے مقبوضہ کشمیر اور سری نگر جانے والی شاہی شاہراہ گجرات اور پسرور کے راستوں پر منقسم تھی۔ شہنشاہ نور الدین محمد جہانگیر اپنی ملکہ نورجہاں کے ہمراہ سالانہ بنیادوں پر گرمیوں کا موسم گزارنے کشمیر جایا کرتے تھے۔ 1620ء (1029ھ) کے موسمِ بہار میں شاہی قافلے نے پسرور میں قیام کیا۔
شہنشاہ جہانگیر اپنی یادداشتوں 'تزکِ جہانگیری' میں تحریر کرتا ہے کہ پسرور میں اس کے معتمد نواب فداء خان (خانِ دوراں) نے ایک غیر معمولی وسیع اور پختہ حوض (تالاب) تعمیر کروا رکھا تھا جس کے وسط اور کناروں پر برآمدے اور فوارے نصب تھے۔ جہانگیر نے یہاں کئی روز قیام کیا اور تالاب کی خوبصورتی اور اس کے گرد لگے سدا بہار باغات کی بھرپور توصیف کی۔
حوضِ شاہی کے آثار اور تاریخ
یہ عظیم الشان تالاب آج بھی تاریخِ پسرور کا روشن ترین باب ہے۔ برطانوی عہد کے ڈپٹی کمشنر مسٹر پرنسپ نے 1855ء میں تحریر کیا کہ پسرور کا مغل تالاب خطے کے شاندار ترین پختہ تالابوں میں سے ایک تھا جس کا رقبہ درجنوں کنالوں پر محیط تھا۔ ملکہ نورجہاں نے اس مقام پر مقامی خواتین کے لیے خیراتی لنگر خانے اور کنوئیں بھی بنوائے تھے۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں







