بھارتی پنجاب اسمبلی کا کرتارپور راہداری فوری کھولنے کا مطالبہ

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- انڈین میڈیا کے مطابق بھارتی پنجاب اسمبلی نے کرتارپور راہداری فوری کھولنے کے مطالبے پر متفقہ قرارداد منظور کر لی۔
- اراکین نے مذکورہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا۔
- قرارداد کے متن میں کہا گیا تھا کہ کرتارپور راہداری مذہبی ہم آہنگی اور مشترکہ ورثے کی علامت۔
لاہور (خصوصی نامہ نگار): بھارت (یکم نومبر 2026): بھارتی صوبے پنجاب کی اسمبلی نے کرتارپور راہداری فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کر دیا۔
انڈین میڈیا کے مطابق بھارتی پنجاب اسمبلی نے کرتارپور راہداری فوری کھولنے کے مطالبے پر متفقہ قرارداد منظور کر لی ہے۔ یہ قرارداد وزیر تعلیم ہرجوت سنگھ بینس نے پیش کی جس کی وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے بھی بھر پور حمایت کی اور کہا کہ مذہبی عقیدت کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔
اراکین نے مذکورہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا تھا کہ کرتارپور راہداری مذہبی ہم آہنگی اور مشترکہ ورثے کی علامت ہے۔ مرکزی حکومت اسے دوبارہ کھولنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور سکھ زائرین کے لیے بلا تعطل رسائی یقینی بنائے-۔
واضح رہے کہ بھارت نے پہلگام ڈرامے کے بعد 7 مئی 2025 سے کرتارپور راہدری کو بند کر رکھا۔
اس حوالے سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت قومی سلامتی کے نام پر سیاسی کھیل کھیل رہی ہے۔ مودی حکومت مقدس ترین سکھ مذہبی مقام تک رسائی روک کر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ سکھ برادری کے مذہبی جذبات، ان کے مقدس عقائد اور احساسات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











