چودھری رحمت علی کی ’’پاکستان اسکیم‘‘ کے سپاہی

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- بزم شبلی کے اجلاس منعقدہ اسلامیہ کالج لاہور 1915ء میں آزاد اسلامی ریاست کا تصور پیش کرنے والی ہستی۔
- چودھری رحمت علی کا نام آتے ہی ذہن 23 مارچ 1940سے پہلے کے دور کی طرف لوٹتا۔
- برصغیر جنوبی ایشیا میں مسلمان تقریباََ آٹھ سو سال تک حکمران رہے اور بالآخر برطانوی سامراج سے شکست کھا گئے۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): اس دعویٰ میں کوئی مبالغہ نہیں کہ پاکستان، دنیا کا واحد ملک ہے جو المُسلِمونَ اَمَّۃٌ واحد کے معروف نظریہ کی اساس پر جمہوری طریقے سے معرض وجود میں آیا ہے۔ کہنے کو تو یہ نظریہ چودہ سو سال پرانا ہے۔ اس خرمن کا ابتدائی خاکہ، چودھری رحمت علی کی مجتہدانہ آراء کا مرہون منت ہے۔ چودھری رحمت علی کے مجتہدانہ جغرافیائی خاکے، جنوبی ایشیا کے جدید اسلامی نظریاتی شعور کی بنیاد ہیں۔ یہی نظریاتی شعور، تحریک پاکستان کی جان تھا اور اب اور آئندہ اسی سے ہماری پہچان وابستہ۔
بزم شبلی کے اجلاس منعقدہ اسلامیہ کالج لاہور 1915ء میں آزاد اسلامی ریاست کا تصور پیش کرنے والی ہستی نے جس کی عمر اُس وقت اٹھارہ برس تھی نے جب اپنی سوچ فکر کو تحریک کا نام دیا تو بہت جلد یہ تحریک اُن کی محنت اور جدوجہد سے تحریک قیام پاکستان کے مطالبے کی صورت اختیار کرگئی جس کے لیے آپ نے نہ صرف خوبصورت نام پاکستان تجویز کیا بلکہ اُس کا جھنڈا بھی بنایا اور اُس ہستی نے اپنی تمام عمر تحریک قیام پاکستان کی نذر کردی۔
چودھری رحمت علی کا نام آتے ہی ذہن 23 مارچ 1940سے پہلے کے دور کی طرف لوٹتا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز نے منتشر ہندی مسلمانوں میں مختلف تنظیموں اور انجمنوں کی شکل میں یک جائی کا احساس ابھرتے دیکھا۔1933ء میں اس دیرینہ احساس تشخص کو چودھری رحمت علی نے واضح جغرافیائی خدوخال دئیے لیکن کاروانِ احساس کے سفر کا یہ موڑ، انتہائی خطرناک ثابت ہوا۔ نادان دوستوں اور دانا دشمنوں نے اس موڑ پر فکری اور منطقی شکوک و شبہات کی رکاوٹیں کھڑی کردیں اور قافلے والوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے بھرپور قلمی یلغار کا آغاز کیا۔ اس یلغار میں ہندو دانشور، نیشنلسٹ مسلمان اور حکمران انگریز سبھی مصروفِ کار نظر آتے ہیں۔ اسے روکنے کے لیے 1937ء اور 1940ء کے رحمت علی کے افکار سے سرشار چند نوجوان مفکروں نے مجلسِ کبیر پاکستان کے نام سے ایک فکری حلقہ قائم کیا اور اپنے مضامین و مقالات کے ذریعہ قرارداد پاکستان کے لیے زمین ہموار کی۔ اس قلمی جہاد میں حصہ لینے والوں میں سے اکثر اصحاب، مرزا عبداللّہ انور بیگ، خورشید عالم، احمد بشیر، ظفر علی گوندل اور محمد یونس کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ لاتعداد نوجوانوں نے اُن کی تحریک میں شمولیت اختیار کی اور اُن کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں مدد۔
برصغیر جنوبی ایشیا میں مسلمان تقریباََ آٹھ سو سال تک حکمران رہے اور بالآخر برطانوی سامراج سے شکست کھا گئے۔ چونکہ ہندو اور مسلمان برسوں کی معاشرتی اور وطنی رفاقت کے باوجود دو مختلف مذاہب کے پیرو اور دو علیحدہ تہذیبوں کے علم بردار تھے اور اپنے اصول حیات ومعاشی مفاد نیز سیاسی عزائم اور قومی تصورات کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھے۔ لیکن مسلمانوں نے ہندوؤں کے اس کھیل کو بخوبی بھانپ لیا اور ان کا قومی مؤقف واضح ہوکر سامنے آگیا کہ برصغیر جنوبی ایشیا میں ایک نہیں بلکہ دو قومیں آباد ہیں۔ اس مسئلے کا واحد حل یہی تھا کہ برصغیر میں ایک کی بجائے دو آزاد اور خودمختار مملکتیں قائم ہوں اور جن علاقوں میں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے، وہاں ایک آزاد مملکت بنا دی جائے۔ تقسیم ہند اور قیامِ پاکستان کی بنیاد یہی دو قومی نظریہ تھا جو اسلام کے نظریہ قومیت کی عملی تفسیر تھا۔ چودھری رحمت علی کی فکری کاوشیں اور ان کے تتبع میں، مجلسِ کبیر پاکستان کا قلمی جہاد، تحریک و نظریہ پاکستان کی روشن تاریخ۔
چودھری رحمت علی (1897 - 1951)۔
آپ 16نومبر 1897ء کو موضع موہر، تحصیل گڑھ شنکر، ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چھوٹے سے قصبہ بالا چور (ہوشیار پور) اور راہوں (جالندھر) میں حاصل کی۔ بعدازآں بعد 1911ء میں اینگلو سنسکرت ہائی اسکول، جالندھر میں متعلم رہے، جہاں سے 1914ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اسی سال، اسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے اور 1919ء میں بی۔اے کیا۔ دوران تعلیم، کالج کے مجلہ ’’کریسنٹ‘‘ کی ادارت کی اور 1915ء میں ’’بزمِ شبلی‘‘ کی بنیاد رکھی۔
بی۔اے کرنے کے بعد لا کالج لاہور میں سے 1923تا 1925 تک تعلیم حاصل کرتے رہے لیکن ڈگری نہ حاصل کرسکے۔ بعد ازاں کچھ عرصے کے لیے منشی محمد دین فوق کے مختلف رسالوں اور اخبارات میں بطور ایڈیٹر کام کرنے لگے اور ایچی سن کالج لاہور میں بطور ’ہاؤس ماسٹر‘ بھی کام کیا۔ 1930ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان تشریف لے گئے۔ نومبر 1930ء میں "Inner Temple Inn" میں شمولیت اختیار کی اور 26جنوری 1931ء سے ایمینول کالج میں تعلیم حاصل کرنے لگے جہاں سے آپ نے 1933 میں بی۔ اے کیا اور 1940ء میں ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1943ء میں ’’بار‘‘ تک رسائی حاصل۔
چودھری رحمت علی نے اس تخیل کی آبیاری کے لیے 1933ء میں ’’پاکستان نیشنل موومنٹ‘‘ کے نام سے، سات اُصولوں کی بنیاد پر، تحریک کی داغ بیل ڈالی اور اس ضمن میں ایک پمفلٹ بعنوان "What does the Pakistan National Movement Stand for?" شائع کیا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











