سیاسی مخالفین کے ساتھ سلوک

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کے قابل اعتماد وزیر اور کنونشن لیگ میں نہایت اہمیت کے حامل رہنما تصور کیے جاتے تھے جنھوں نے بعد میں ایوب خان کی مخالفت میں وزارت چھوڑ کر 1967 میں پیپلز پارٹی قائم کی تھی۔
- ذوالفقار علی بھٹو ملک ٹوٹنے کے بعد بقیہ پاکستان کے وزیر اعظم بنائے گئے تھے جن کی پارٹی کے پاس سندھ و پنجاب کی حکومتیں بھی تھیں۔
- 1977 میں بھٹو حکومت کے متنازعہ انتخابات میں دھاندلی کے باعث ان کے خلاف ملک بھر میں تحریک چلی تو پیرپگاڑا کے سوا تمام سیاسی قائدین سے جیلیں بھر دی گئی تھیں اور ان کے ساتھ شرم ناک سلوک کیے جانے کا آغاز ہوا تھا۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاسی مخالفین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔نیلسن منڈیلا اور برما میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک سب کو معلوم ہیں۔ پاکستان میں سیاسی مخالفین کے ساتھ غیر سیاسی سلوک پہلے مارشل لا سے شروع ہوئے تھے، جب ایبڈو قانون کے تحت تمام سیاسی مخالفین پر سیاست کرنے کی پابندی لگی تھی اور صرف سرکاری کنونشن مسلم لیگ کو کھل کر سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جب کہ حکومت مخالف کونسل مسلم لیگ، جماعت اسلامی، عوامی لیگ، نیشنل عوامی پارٹی، جے یو آئی بڑی اور نوابزادہ کی جمہوری پارٹی و دیگر چھوٹی پارٹیاں موجود تھیں۔
ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کے قابل اعتماد وزیر اور کنونشن لیگ میں نہایت اہمیت کے حامل رہنما تصور کیے جاتے تھے جنھوں نے بعد میں ایوب خان کی مخالفت میں وزارت چھوڑ کر 1967 میں پیپلز پارٹی قائم کی تھی۔ 1968 میں ایوب حکومت کے خلاف عوامی احتجاج پر مخالفین کی سیاسی گرفتاریاں ہوئی تھیں۔ 1969 میں جنرل یحییٰ نے ایوب خان سے خود اقتدار لے لیا تھا اور 1970 میں نئے انتخابات کے لیے جنرل یحییٰ نے عام انتخابات کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں کو سیاسی آزادی دی تھی جو انتخابات کے نتائج برآمد نہ ہونے سے پوری نہ ہو سکی تھی ۔ جنرل یحییٰ ہی کے دور میں مشرقی پاکستان میں بھاری اکثریت حاصل کرنے والے شیخ مجیب کو اقتدار منتقل کرنے کی بجائے گرفتار کرکے لایا گیا تھا اور سندھ و پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے والے بھٹو کی نئی سیاست کا نیا نعرہ سنا گیا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو ملک ٹوٹنے کے بعد بقیہ پاکستان کے وزیر اعظم بنائے گئے تھے جن کی پارٹی کے پاس سندھ و پنجاب کی حکومتیں بھی تھیں اور بعد میں انھوں نے سرحد و بلوچستان میں پی پی کی حکومتیں بنوا لی تھیں اور اپنی مخالفت پر نیپ کے سربراہ ولی خان کو گرفتار اور نیپ پر پابندی بھی لگا دی تھی اور اس کے اہم عہدوں پر رہنے والے رہنماؤں کو گرفتار بھی کرا دیا تھا۔
1977 میں بھٹو حکومت کے متنازعہ انتخابات میں دھاندلی کے باعث ان کے خلاف ملک بھر میں تحریک چلی تو پیرپگاڑا کے سوا تمام سیاسی قائدین سے جیلیں بھر دی گئی تھیں اور ان کے ساتھ شرم ناک سلوک کیے جانے کا آغاز ہوا تھا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











