بھارتی وزیر اعلیٰ پنجاب کو پاکستان آنا چاہیے، سکھ رہنما کا مطالبہ

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- انہوں نے کرتارپور راہداری کی بندش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی آزادی اور مقدس مقامات کی زیارت کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
- لاہور میں ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سادھو بھوپیندر سنگھ نے کہا کہ پاکستان نے دنیا بھر میں مقیم سکھ برادری کے لیے ویزا حاصل کرنے کا عمل آسان بنانے کا فیصلہ کیا۔
- اب برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں مقیم سکھ آن لائن پورٹل کے ذریعے پاکستانی ویزے کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ درخواست کے دوران انہیں اپنے آبائی ملک خاص طور پر انڈیا کا نام درج کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے باوجود مذہبی اور ثقافتی روابط برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کینیڈا میں مقیم سکھ رہنما اور ورلڈ انٹرفیتھ ہارمنی کونسل کے صدر سادھو بھوپیندر سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کو پاکستان آنا چاہیے، جبکہ دونوں ملکوں کو مذہبی معاملات کو سیاسی کشمکش سے الگ رکھ کر سکھ یاتریوں کی آمدورفت میں حائل رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کرتارپور راہداری کی بندش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی آزادی اور مقدس مقامات کی زیارت کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
لاہور میں ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سادھو بھوپیندر سنگھ نے کہا کہ پاکستان نے دنیا بھر میں مقیم سکھ برادری کے لیے ویزا حاصل کرنے کا عمل آسان بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جو قیام پاکستان کے بعد سکھ برادری کے لیے ایک اہم پیش رفت۔
اب برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں مقیم سکھ آن لائن پورٹل کے ذریعے پاکستانی ویزے کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ درخواست کے دوران انہیں اپنے آبائی ملک خاص طور پر انڈیا کا نام درج کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے دنیا بھر میں مقیم سکھوں کے لیے پاکستان آنا آسان ہوگا اور وہ اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے زیادہ سہولت کے ساتھ سفر کرسکیں۔
انہوں نے اس سلسلے میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام کی کوششوں کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان اور پاکستان سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردار رمیش سنگھ اروڑا کا شکریہ ادا کیا۔
پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں سادھو بھوپیندر سنگھ نے کہا کہ کرتارپور راہداری کو دونوں ملکوں کے سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ پاکستان نے روزانہ پانچ ہزار سکھ یاتریوں کی آمدورفت کے لیے انتظامات کیے ہیں، تاہم ان کے بقول بھارت کی جانب سے محدود تعداد میں یاتریوں کو اجازت دی جاتی رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مذہبی مقامات کی زیارت کو بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے تو کرتارپور آنے والے سکھوں کے لیے بھارت کی طرف سے رکاوٹیں کیوں برقرار رکھی جا رہی ہیں؟
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










