برطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
برطانوی تسلط اور تحصیل پسرور کا باقاعدہ قیام
مارچ 1849ء میں سکھ خالصہ راج کے خاتمے اور سکھ افواج کی غیر مشروط اطاعت کے بعد انگریز حکومت نے خطۂ پنجاب کو برطانوی ہند میں باقاعدہ ضم کر لیا۔ خطۂ پسرور جو صدیوں سے ایک اہم مغل و سکھ پرگنہ تھا، 1850ء کی ابتدائی دہائی میں نئی تشکیل پانے والی انتظامی تقسیم کے تحت ضلع سیالکوٹ کی ایک مرکزی تحصیل بنا دیا گیا۔
برطانوی گزٹیر 1883ء کے صفحہ 108 کے مطابق، تحصیل پسرور کا مجموعی رقبہ 394 مربع میل پر محیط تھا اور اس کے زیرِ انتظام 450 سے زائد دیہات شامل تھے۔ انگریز انتظامیہ نے خطے میں امن و امان قائم کرنے اور مالیہ (لینڈ ریونیو) کی باقاعدہ وصولی کے لیے کچہری روڈ پر ایک شاندار تحصیل ہیڈکوارٹر کمپلیکس تعمیر کروایا جس میں تحصیلدار کورٹ، سب جیل اور تحصیل کا مرکزی خزانہ قائم کیا گیا۔
1867ء: پسرور میونسپلٹی کا تاریخی قیام
پنجاب میونسپل ایکٹ کے تحت 1867ء میں پسرور کو میونسپل کمیٹی (بلدیہ) کا درجہ دیا گیا، جو کہ پورے خطۂ گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں قدیم ترین بلدیاتی اداروں میں سے ایک تھا۔ گزٹیر 1883ء کے اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت پسرور شہر کی آبادی 8,376 نفوس پر مشتمل تھی۔ میونسپلٹی نے شہر کے صفائی کے نظام، ڈرینج اور چاروں مرکزی دروازوں کی نگرانی سنبھالی۔ اسی دور میں شہر میں باقاعدہ ڈسپنسری اور برطانوی طرز کا سول اسپتال قائم ہوا۔
زرعی ترقی اور برطانوی بندوبست
1865ء کی سیٹلمنٹ رپورٹ میں برطانوی سیٹلمنٹ کمشنر مسٹر ایڈورڈ پرنسپ نے تحریر کیا کہ تحصیل پسرور کی اراضی نالہ ڈیک کے قدرتی گدلے پانی کی بدولت غیر معمولی زرخیز تھی۔ برطانوی حکومت نے نالہ ڈیک کے گرد پختہ پشتے تعمیر کروائے تاکہ سالانہ سیلاب سے فصلیں محفوظ رہ سکیں۔ گزیٹیئر میں درج ہے کہ پسرور کے کسان نہ صرف پنجاب کے محنتی ترین کاشتکار تھے بلکہ یہاں کا باسمتی چاول اور گڑ برطانوی چھاؤنیوں تک سپلائی کیا جاتا تھا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










