پروٹیکٹر فراڈ : بیرونِ ملک جانے والے خبردار

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کے نام پر اضافی رقم وصول کرنے۔
- بیرونِ ملک ایمپلائمنٹ یا ورک ویزے پر جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پروٹیکٹر رجسٹریشن لازمی ہے، تاہم اس کا عمل صرف مقررہ سرکاری طریقہ کار کے تحت مکمل کیا جاسکتا۔
- اسی طرح مکمل دستاویزات کے بغیر پروٹیکٹر کلیئرنس دلوانے کا دعویٰ بھی فراڈ ہوسکتا۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): اسلام آباد : بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والے پاکستانی شہریوں کو پروٹیکٹر رجسٹریشن کے نام پر سرگرم غیر مجاز ایجنٹس اور جعل سازوں سے خبردار رہنے کی ہدایت کی گئی۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کے نام پر اضافی رقم وصول کرنے، فوری کلیئرنس دلوانے یا پاسپورٹ اور اصل دستاویزات اپنے پاس رکھنے کا دعویٰ کرنے والے افراد پر اعتماد نہ کریں۔
بیرونِ ملک ایمپلائمنٹ یا ورک ویزے پر جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پروٹیکٹر رجسٹریشن لازمی ہے، تاہم اس کا عمل صرف مقررہ سرکاری طریقہ کار کے تحت مکمل کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے منظور شدہ ای پروٹیکٹر نظام یا متعلقہ پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس کے سرکاری دفتر سے رجوع کرنا ضروری۔
بیورو نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی شخص خود کو پروٹیکٹر آفس کا نمائندہ یا اندرونی ایجنٹ ظاہر کرتے ہوئے اضافی رقم کے عوض فوری رجسٹریشن یا کلیئرنس کی پیشکش کرے، پاسپورٹ اپنے پاس رکھنے پر اصرار کرے یا سرکاری فیس کے علاوہ سروس چارجز طلب کرے تو اس پر ہرگز اعتماد نہ کیا جائے۔ اسی طرح مکمل دستاویزات کے بغیر پروٹیکٹر کلیئرنس دلوانے کا دعویٰ بھی فراڈ ہوسکتا۔
اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کا ایسے غیر مجاز ایجنٹس سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا شہری اپنے پاسپورٹ، شناختی کارڈ، ویزا، ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ اور دیگر اصل دستاویزات کسی غیر متعلقہ شخص کے حوالے کرنے سے گریز کریں۔
غیر مجاز افراد کو اصل دستاویزات فراہم کرنے سے ان کے چوری یا غائب ہونے کا خدشہ رہتا ہے، جبکہ شناختی معلومات کا غلط استعمال کرکے جعلی ویزے اور ملازمت کے معاہدے تیار کیے جاسکتے ہیں۔
بیورو کے مطابق ان دستاویزات کو غیر قانونی سفر یا مالی فراڈ میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بعض صورتوں میں جعل ساز رقم اور اصل دستاویزات لے کر فرار بھی ہوسکتے ہیں۔
شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے پاسپورٹ اور دیگر شناختی دستاویزات کی غیر ضروری تصاویر واٹس ایپ یا سوشل میڈیا کے ذریعے نامعلوم افراد کو نہ بھیجیں، کیونکہ ڈیجیٹل نقول کا غلط استعمال بھی ممکن۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











