📌 اہم تاریخی و تحقیقی نکات:
- ظہیر الدین بابر نے اپنی خودنوشت تزکِ بابری میں 1526ء کی مہم کے دوران پسرور کے پڑاؤ اور شاہی لشکر کے قیام کا خصوصی ذکر کیا ہے۔
- مغل دورِ حکومت میں پسرور سرکار سیالکوٹ کا ایک اہم ترین مالیاتی اور انتظامی پرگنہ (Tehsil) رہا ہے جس کا اندراج ابوالفضل کی آئینِ اکبری میں درج ہے۔
- شہنشاہ جہانگیر اور شاہ جہاں کے دور میں کشمیر اور لاہور کے شاہی راستے پر واقع پسرور کا تاریخی تالاب اور کاروان سرائے خطے کا مرکز تھے۔
- 1867ء میں برطانوی حکومت نے پسرور کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا، جس کی یادگار عمارتیں اور تحصیل کچہری آج بھی تاریخ کی گواہ ہیں۔
1. شہر پسرور کی قدیم بنیاد اور وجہ تسمیہ
پنجاب کے زرخیز خطے رچنا دوآب میں واقع تحصیل پسرور قدیم تاریخ کا امین ہے۔ تاریخی روایات اور نوآبادیاتی دور کے لینڈ ریونیو ریکارڈز کے مطابق پسرور کی قدیم بنیاد راجپوت راجہ پرسرام (Paras Ram) کے دور سے منسوب کی جاتی ہے، جس کے نام پر یہ قصبہ بعد ازاں بگڑ کر "پسرور" کہلایا۔ برطانوی محقق مسٹر پرنسپ (E.A. Prinsep) نے اپنے بندوبستی جائزے (1865ء) میں تحریر کیا ہے کہ پسرور جغرافیائی طور پر ہمالیہ کے دامن سے نکلنے والے نالہ ڈیک کے قدرتی بہاؤ کے عین قریب واقع ہونے کے باعث زرعی پیداوار کا بڑا گڑھ رہا ہے۔
2. مغل عہد کے مستند حوالے: تزکِ بابری اور آئینِ اکبری کے شواہد
تاریخی کتابوں میں پسرور کا سب سے مستند اور اولین حوالہ مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین محمد بابر کی مشہورِ زمانہ خودنوشت تزکِ بابری (Baburnama) میں ملتا ہے۔ سنہ 1525ء اور 1526ء کے واقعات قلمبند کرتے ہوئے بابر لکھتا ہے کہ جب اس کا لشکر کابل سے پنجاب کی طرف بڑھا اور سیالکوٹ پر قابض ہوا، تو اس کے ہراول دستوں نے پسرور کے گردونواح میں قیام کیا۔ بابر نے اس علاقے کے سبزہ زاروں، چشموں اور رسد کی فراوانی کی تعریف کی ہے۔
شہنشاہ اکبر اعظم کے درباری مورخ ابوالفضل کی تصنیف آئینِ اکبری میں صوبہ لاہور کے تحت "پرگنہ پسرور" کا باقاعدہ اندراج موجود ہے۔ مغل گزٹ کے مطابق پرگنہ پسرور سے شاہی خزانے کو سالانہ لاکھوں دام کا محاصل موصول ہوتا تھا اور یہ علاقہ اپنی گھڑ سوار فوج اور تیر اندازوں کی بھرتی کے لیے مشہور تھا۔
3. شاہی تالاب اور مغل سلاطین کا پڑاؤ
مغل عہد میں جب شاہی قافلے دارالحکومت دہلی و لاہور سے کشمیر کی سیر و تفریح کے لیے روانہ ہوتے تھے تو گوجرانوالہ، ایمن آباد، پسرور اور سیالکوٹ کا راستہ شاہی گزرگاہ کہلاتا تھا۔ شہنشاہ جہانگیر کی تزکِ جہانگیری میں بھی اس خطے کا ذکر ملتا ہے۔ مغل بادشاہ شاہ جہاں کے عہد میں پسرور کے معروف "شاہی تالاب" (Grand Historic Tank) کی تعمیر و مرمت کا خصوصی حکم دیا گیا تاکہ شاہی فوج اور مسافروں کے لیے میٹھے پانی کا ذخیرہ میسر رہے۔ یہ تالاب صدیوں تک پسرور کی شناخت رہا۔
4. برطانوی راج: تحصیل کا درجہ، کچہری اور ریلوے نیٹ ورک
سکھ مسلوں کے دورِ زوال اور 1849ء میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے پنجاب پر قبضے کے بعد پسرور کو انتظامی طور پر ضلع سیالکوٹ کی مستقل تحصیل بنایا گیا۔ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گزیٹیئر (1883-84ء) کے مطابق:
"پسرور سیالکوٹ کے جنوب مشرق میں 18 میل کے فاصلے پر واقع ایک قدیم اور گنجان آباد تحصیل ہیڈکوارٹر ہے۔ یہاں کی اناج منڈی گردونواح کے دیہات کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے جہاں باسمتی چاول اور گندم کی وسیع پیمانے پر تجارت ہوتی ہے۔"
1867ء میں پسرور میں میونسپل کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور کچہری روڈ پر برطانوی طرزِ تعمیر کی تحصیل کچہری، سول اسپتال اور تھانہ قائم کیا گیا۔ 1915ء کے لگ بھگ برطانوی ریلوے نے سیالکوٹ سے نارووال تک ریلوے لائن بچھائی جس نے پسرور کو برصغیر کے وسیع تر ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ دیا اور اس کی معاشی اہمیت میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔
📚 تاریخی ماخذ، اسناد و کتب کے حوالے:
- تزکِ بابری (بابر نامہ): ظہیر الدین محمد بابر، واقعات 932 ہجری (1526ء)، اردو ترجمہ رشید اختر ندوی۔
- آئینِ اکبری: علامہ ابوالفضل، جلد دوم، صوبہ لاہور اور سرکار سیالکوٹ کے پرگنہ جات کا اندراج۔
- Gazetteer of the Sialkot District (1883-84): Published by Punjab Government, Lahore (Civil and Military Gazette Press).
- Settlement Report of Sialkot District (1865): By E.A. Prinsep, Settlement Officer.
- Imperial Gazetteer of India: Provincial Series, Punjab, Vol. II, pages 84-88.











