جمعرات، 22 اکتوبر 2026ء11 جمادی الاول، 1448 ہجریھ6 کاتک 2083 بکرمی
اپنا پسرور
اپنا پسرور
pasrur.pk
بریکنگ نیوز
لاہور مسلسل چوتھے روز دنیا کا آلودہ ترین شہر قراروزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کیمرے والی عینک و جاسوسی آلات پر پابندی لگانے کا حکمدہشتگردی کے خلاف پاکستان اور یورپی یونین کا مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا عزمپنجاب حکومت کے 4 افسران کے تبادلے، احکامات جاریصدر آصف زرداری جرمنی کے سرکاری دورے پر برلن روانہ، گورنر پنجاب نے الوداع کہاوسیم عباس کے کار سے کچلے جانے کے بعد یتیم خانے میں زیر کفالت 106 بچوں کو ورثاء کے حوالے کردیا گیاپیٹرولیم لیوی کا خاتمہ: وزیرِ اعظم شہباز شریف و حافظ نعیم الرحمٰن کی ملاقات کل متوقعایپکس کمیٹی کا اجلاس: وزیراعظم کی کے پی کو انسدادِ دہشتگردی کیلئے تعاون کی پیشکشمنشیات برآمدگی کیس: انمول عرف پنکی کی بریت کی درخواست دائرچلاس: گھر میں آگ لگنے سے 5 سالہ بچی جاں بحق، ماں زخمیلاہور مسلسل چوتھے روز دنیا کا آلودہ ترین شہر قراروزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کیمرے والی عینک و جاسوسی آلات پر پابندی لگانے کا حکمدہشتگردی کے خلاف پاکستان اور یورپی یونین کا مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا عزمپنجاب حکومت کے 4 افسران کے تبادلے، احکامات جاریصدر آصف زرداری جرمنی کے سرکاری دورے پر برلن روانہ، گورنر پنجاب نے الوداع کہاوسیم عباس کے کار سے کچلے جانے کے بعد یتیم خانے میں زیر کفالت 106 بچوں کو ورثاء کے حوالے کردیا گیاپیٹرولیم لیوی کا خاتمہ: وزیرِ اعظم شہباز شریف و حافظ نعیم الرحمٰن کی ملاقات کل متوقعایپکس کمیٹی کا اجلاس: وزیراعظم کی کے پی کو انسدادِ دہشتگردی کیلئے تعاون کی پیشکشمنشیات برآمدگی کیس: انمول عرف پنکی کی بریت کی درخواست دائرچلاس: گھر میں آگ لگنے سے 5 سالہ بچی جاں بحق، ماں زخمیلاہور مسلسل چوتھے روز دنیا کا آلودہ ترین شہر قراروزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کیمرے والی عینک و جاسوسی آلات پر پابندی لگانے کا حکمدہشتگردی کے خلاف پاکستان اور یورپی یونین کا مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا عزمپنجاب حکومت کے 4 افسران کے تبادلے، احکامات جاریصدر آصف زرداری جرمنی کے سرکاری دورے پر برلن روانہ، گورنر پنجاب نے الوداع کہاوسیم عباس کے کار سے کچلے جانے کے بعد یتیم خانے میں زیر کفالت 106 بچوں کو ورثاء کے حوالے کردیا گیاپیٹرولیم لیوی کا خاتمہ: وزیرِ اعظم شہباز شریف و حافظ نعیم الرحمٰن کی ملاقات کل متوقعایپکس کمیٹی کا اجلاس: وزیراعظم کی کے پی کو انسدادِ دہشتگردی کیلئے تعاون کی پیشکشمنشیات برآمدگی کیس: انمول عرف پنکی کی بریت کی درخواست دائرچلاس: گھر میں آگ لگنے سے 5 سالہ بچی جاں بحق، ماں زخمیلاہور مسلسل چوتھے روز دنیا کا آلودہ ترین شہر قراروزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کیمرے والی عینک و جاسوسی آلات پر پابندی لگانے کا حکمدہشتگردی کے خلاف پاکستان اور یورپی یونین کا مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا عزمپنجاب حکومت کے 4 افسران کے تبادلے، احکامات جاریصدر آصف زرداری جرمنی کے سرکاری دورے پر برلن روانہ، گورنر پنجاب نے الوداع کہاوسیم عباس کے کار سے کچلے جانے کے بعد یتیم خانے میں زیر کفالت 106 بچوں کو ورثاء کے حوالے کردیا گیاپیٹرولیم لیوی کا خاتمہ: وزیرِ اعظم شہباز شریف و حافظ نعیم الرحمٰن کی ملاقات کل متوقعایپکس کمیٹی کا اجلاس: وزیراعظم کی کے پی کو انسدادِ دہشتگردی کیلئے تعاون کی پیشکشمنشیات برآمدگی کیس: انمول عرف پنکی کی بریت کی درخواست دائرچلاس: گھر میں آگ لگنے سے 5 سالہ بچی جاں بحق، ماں زخمی
پسرور⏱️ 4 دن پہلے
🇬🇧 English

تحصیل پسرور کا تفصیلی تاریخی پس منظر: تزکِ بابری سے برطانوی دور تک کی مستند تاریخ

وقاص احمداسٹاف رپورٹر و محقق (پسرور)
18 اکتوبر 2026•دوپہر 2:28
تحصیل پسرور کا تفصیلی تاریخی پس منظر: تزکِ بابری سے برطانوی دور تک کی مستند تاریخ

📌 اہم تاریخی و تحقیقی نکات:

  • ظہیر الدین بابر نے اپنی خودنوشت تزکِ بابری میں 1526ء کی مہم کے دوران پسرور کے پڑاؤ اور شاہی لشکر کے قیام کا خصوصی ذکر کیا ہے۔
  • مغل دورِ حکومت میں پسرور سرکار سیالکوٹ کا ایک اہم ترین مالیاتی اور انتظامی پرگنہ (Tehsil) رہا ہے جس کا اندراج ابوالفضل کی آئینِ اکبری میں درج ہے۔
  • شہنشاہ جہانگیر اور شاہ جہاں کے دور میں کشمیر اور لاہور کے شاہی راستے پر واقع پسرور کا تاریخی تالاب اور کاروان سرائے خطے کا مرکز تھے۔
  • 1867ء میں برطانوی حکومت نے پسرور کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا، جس کی یادگار عمارتیں اور تحصیل کچہری آج بھی تاریخ کی گواہ ہیں۔

1. شہر پسرور کی قدیم بنیاد اور وجہ تسمیہ

پنجاب کے زرخیز خطے رچنا دوآب میں واقع تحصیل پسرور قدیم تاریخ کا امین ہے۔ تاریخی روایات اور نوآبادیاتی دور کے لینڈ ریونیو ریکارڈز کے مطابق پسرور کی قدیم بنیاد راجپوت راجہ پرسرام (Paras Ram) کے دور سے منسوب کی جاتی ہے، جس کے نام پر یہ قصبہ بعد ازاں بگڑ کر "پسرور" کہلایا۔ برطانوی محقق مسٹر پرنسپ (E.A. Prinsep) نے اپنے بندوبستی جائزے (1865ء) میں تحریر کیا ہے کہ پسرور جغرافیائی طور پر ہمالیہ کے دامن سے نکلنے والے نالہ ڈیک کے قدرتی بہاؤ کے عین قریب واقع ہونے کے باعث زرعی پیداوار کا بڑا گڑھ رہا ہے۔

2. مغل عہد کے مستند حوالے: تزکِ بابری اور آئینِ اکبری کے شواہد

تاریخی کتابوں میں پسرور کا سب سے مستند اور اولین حوالہ مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین محمد بابر کی مشہورِ زمانہ خودنوشت تزکِ بابری (Baburnama) میں ملتا ہے۔ سنہ 1525ء اور 1526ء کے واقعات قلمبند کرتے ہوئے بابر لکھتا ہے کہ جب اس کا لشکر کابل سے پنجاب کی طرف بڑھا اور سیالکوٹ پر قابض ہوا، تو اس کے ہراول دستوں نے پسرور کے گردونواح میں قیام کیا۔ بابر نے اس علاقے کے سبزہ زاروں، چشموں اور رسد کی فراوانی کی تعریف کی ہے۔

شہنشاہ اکبر اعظم کے درباری مورخ ابوالفضل کی تصنیف آئینِ اکبری میں صوبہ لاہور کے تحت "پرگنہ پسرور" کا باقاعدہ اندراج موجود ہے۔ مغل گزٹ کے مطابق پرگنہ پسرور سے شاہی خزانے کو سالانہ لاکھوں دام کا محاصل موصول ہوتا تھا اور یہ علاقہ اپنی گھڑ سوار فوج اور تیر اندازوں کی بھرتی کے لیے مشہور تھا۔

3. شاہی تالاب اور مغل سلاطین کا پڑاؤ

مغل عہد میں جب شاہی قافلے دارالحکومت دہلی و لاہور سے کشمیر کی سیر و تفریح کے لیے روانہ ہوتے تھے تو گوجرانوالہ، ایمن آباد، پسرور اور سیالکوٹ کا راستہ شاہی گزرگاہ کہلاتا تھا۔ شہنشاہ جہانگیر کی تزکِ جہانگیری میں بھی اس خطے کا ذکر ملتا ہے۔ مغل بادشاہ شاہ جہاں کے عہد میں پسرور کے معروف "شاہی تالاب" (Grand Historic Tank) کی تعمیر و مرمت کا خصوصی حکم دیا گیا تاکہ شاہی فوج اور مسافروں کے لیے میٹھے پانی کا ذخیرہ میسر رہے۔ یہ تالاب صدیوں تک پسرور کی شناخت رہا۔

4. برطانوی راج: تحصیل کا درجہ، کچہری اور ریلوے نیٹ ورک

سکھ مسلوں کے دورِ زوال اور 1849ء میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے پنجاب پر قبضے کے بعد پسرور کو انتظامی طور پر ضلع سیالکوٹ کی مستقل تحصیل بنایا گیا۔ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گزیٹیئر (1883-84ء) کے مطابق:

"پسرور سیالکوٹ کے جنوب مشرق میں 18 میل کے فاصلے پر واقع ایک قدیم اور گنجان آباد تحصیل ہیڈکوارٹر ہے۔ یہاں کی اناج منڈی گردونواح کے دیہات کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے جہاں باسمتی چاول اور گندم کی وسیع پیمانے پر تجارت ہوتی ہے۔"

1867ء میں پسرور میں میونسپل کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور کچہری روڈ پر برطانوی طرزِ تعمیر کی تحصیل کچہری، سول اسپتال اور تھانہ قائم کیا گیا۔ 1915ء کے لگ بھگ برطانوی ریلوے نے سیالکوٹ سے نارووال تک ریلوے لائن بچھائی جس نے پسرور کو برصغیر کے وسیع تر ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ دیا اور اس کی معاشی اہمیت میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔

📚 تاریخی ماخذ، اسناد و کتب کے حوالے:

  1. تزکِ بابری (بابر نامہ): ظہیر الدین محمد بابر، واقعات 932 ہجری (1526ء)، اردو ترجمہ رشید اختر ندوی۔
  2. آئینِ اکبری: علامہ ابوالفضل، جلد دوم، صوبہ لاہور اور سرکار سیالکوٹ کے پرگنہ جات کا اندراج۔
  3. Gazetteer of the Sialkot District (1883-84): Published by Punjab Government, Lahore (Civil and Military Gazette Press).
  4. Settlement Report of Sialkot District (1865): By E.A. Prinsep, Settlement Officer.
  5. Imperial Gazetteer of India: Provincial Series, Punjab, Vol. II, pages 84-88.

اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں

تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں

چینل جوائن کریں ↗

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں (آپ کی دلچسپی کی خاص خبریں)

پسرور، پاکستان اور گردونواح کی اہم اور مقبول خبریں جو قارئین کی توجہ کا مرکز ہیں

تمام خبریں دیکھیں
25 جولائی 2026•Mian Ashfaq

دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا ایک ایسا رہنما جسے تاریخ نے کم یاد رکھا

دیوان بہادر ستیہ پرکاش سنگھا، معروف بہ نام ایس۔ پی۔ سنگھا، پسرور میں پیدا ہونے والے ماہرِ تعلیم، قانون دان، منتظم اور پارلیمانی رہنما تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی 1933ء کی سرکاری تاریخ

17 ستمبر 2024•Admin

‏پنجاب کانسٹیبلری میں ڈرائیورز کی بھرتیاں

‏پنجاب کانسٹیبلری میں ڈرائیورز کی بھرتیاں کانسٹیبلان (Bs-07) کی خالی آسامیوں کی بھرتی کے لیے اشتہار جاری۔ اہلیت کے معیار پر پورا اترنے والے تمام امیدواران بھرتی کے لیے اپلائی کر سک...

4 ستمبر 2024•Mian Ashfaq

پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈ ایف اے (12) کے رزلٹ کا اعلان کر رہے ہیں

رزلٹ دیکھنے کے لیے نیچے رزلٹ بٹن پر کلک کریں http://dlvr.it/TCnQLJ

28 جولائی 2024•Mian Ashfaq

مسلم کمرشل بینک کا IBAN نمبر ایک کلک سے معلوم کریں

مسلم کمرشل بینک اکاؤنٹ ہولڈر انٹرنیشنل بینک اکاؤنٹ نمبر حاصل کرنے کے لیے نیچے بٹن پر کلک کریں http://dlvr.it/TB9KwR

27 جولائی 2024•وقاص احمد

پرچم (52) ۔ دنیا کا پرچم

بیسویں صدی کا دوسرا نصف خلا سے رومانس کا وقت تھا۔ اس وقت ایک سوال یہ کیا گیا کہ اگر بالفرض انسان دور دراز کے سیاروں پر جاتے ہیں اور دوسری دنیاؤں کی مخلوقات سے ملاقات ہوتی ہے تو انس...