بدھ، 4 نومبر 2026ء24 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
بریکنگ نیوز
والد کے انتقال کے بعد 3 بہنوں نے زندگی کیسے بدلی؟آئی ٹی سرٹیفیکیشن پروگرام، رجسٹرڈ امیدواروں کو فی کس 70 ہزار روپے ملیں گے’پنجاب میں کرپشن سے متعلق چوہدری سالک کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے‘خواتین کے لیے اسکوٹی اور موٹر سائیکل ٹریننگ بالکل مفتشاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں گر کر زخمی ہوگئے: وکیلوفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملڈی جے ایلن واکر لاہور پہنچ گئے، پاکستانی گلوکاروں کے ساتھ نئے میوزک پروجیکٹ کا امکان‏چوہدری سالک کا کرپشن پر بیان مستقبل کے کسی سیاسی ایجنڈے کا حصہ تو سمجھ میں آتا ہے، خواجہ آصفوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاوالد کے انتقال کے بعد 3 بہنوں نے زندگی کیسے بدلی؟آئی ٹی سرٹیفیکیشن پروگرام، رجسٹرڈ امیدواروں کو فی کس 70 ہزار روپے ملیں گے’پنجاب میں کرپشن سے متعلق چوہدری سالک کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے‘خواتین کے لیے اسکوٹی اور موٹر سائیکل ٹریننگ بالکل مفتشاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں گر کر زخمی ہوگئے: وکیلوفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملڈی جے ایلن واکر لاہور پہنچ گئے، پاکستانی گلوکاروں کے ساتھ نئے میوزک پروجیکٹ کا امکان‏چوہدری سالک کا کرپشن پر بیان مستقبل کے کسی سیاسی ایجنڈے کا حصہ تو سمجھ میں آتا ہے، خواجہ آصفوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاوالد کے انتقال کے بعد 3 بہنوں نے زندگی کیسے بدلی؟آئی ٹی سرٹیفیکیشن پروگرام، رجسٹرڈ امیدواروں کو فی کس 70 ہزار روپے ملیں گے’پنجاب میں کرپشن سے متعلق چوہدری سالک کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے‘خواتین کے لیے اسکوٹی اور موٹر سائیکل ٹریننگ بالکل مفتشاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں گر کر زخمی ہوگئے: وکیلوفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملڈی جے ایلن واکر لاہور پہنچ گئے، پاکستانی گلوکاروں کے ساتھ نئے میوزک پروجیکٹ کا امکان‏چوہدری سالک کا کرپشن پر بیان مستقبل کے کسی سیاسی ایجنڈے کا حصہ تو سمجھ میں آتا ہے، خواجہ آصفوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاوالد کے انتقال کے بعد 3 بہنوں نے زندگی کیسے بدلی؟آئی ٹی سرٹیفیکیشن پروگرام، رجسٹرڈ امیدواروں کو فی کس 70 ہزار روپے ملیں گے’پنجاب میں کرپشن سے متعلق چوہدری سالک کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے‘خواتین کے لیے اسکوٹی اور موٹر سائیکل ٹریننگ بالکل مفتشاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں گر کر زخمی ہوگئے: وکیلوفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملڈی جے ایلن واکر لاہور پہنچ گئے، پاکستانی گلوکاروں کے ساتھ نئے میوزک پروجیکٹ کا امکان‏چوہدری سالک کا کرپشن پر بیان مستقبل کے کسی سیاسی ایجنڈے کا حصہ تو سمجھ میں آتا ہے، خواجہ آصفوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا
یونیورسٹی (24)
🎙️ اپنا پسرور ڈیپ ڈائیو (Google NotebookLM انداز)2-میزبان آڈیو پوڈکاسٹ

مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ

👨‍💼
اسد

میزبان و براڈکاسٹر

👩‍💼
عظمیٰ

تجزیہ کار و شریک میزبان

00:00--:--
🎧 مکمل پوڈکاسٹ سماعت کے لیے تیار ہے
مطالعہ کی سہولیات:
یونیورسٹی (24). یورپ میں سائنس کی واپسی گیارہویں صدی میں ہوئی جب ایک پادری کانسٹینٹکس ایفریکانس نے عرب کتابوں کے تراجم لاطینی میں کرنا شروع کئے۔ انہوں نے میڈیسن اور آسٹرونومی کی کتابوں کے دوسرے تراجم کا کام بھی شروع کیا۔ 1085 میں اندلس کی فتح کے بعد عربی لائبریریاں کرسچن ہاتھوں میں آ گئیں اور اگلی دہائیوں میں بڑی تعداد میں یہ ترجمہ کیا جانے لگا۔ مقامی بشپ تھے جنہوں نے اس کی فنڈنگ کی۔ اگلی صدیوں میں ترجمے کی سپانسرشپ کرنا یورپی اشرافیہ میں ایک سٹیٹس سمبل بن گیا۔ ویسے ہی جس طرح آرٹ اکٹھا کیا جاتا ہے۔ لیکن ترجمہ کر دینا اور اسے پڑھ لینا کافی نہیں ہوتا۔ ایسے تو کچھ بھی نہیں بدلتا۔ نئی فکر کے لئے معاشرتی تبدیلیاں اور جدتیں درکار ہیں۔ یورپ میں ایسی ایک جدت ایک نئے ادارے کی ایجاد تھی جو اس فکری تبدیلی کی بنیاد بنی۔ یہ یونیورسٹی تھی۔ یہ ادارہ سائنس کو اس شکل تک لانے کی وجہ بنا جس طرح ہم اسے جانتے ہیں۔ بولوگنا، پیرس، پاڈوا اور آکسفورڈ علم کے مراکز کے حوالے سے شہرت پا چکے تھے۔ طلبا اور اساتذہ یہاں آیا کرتے تھے۔ استاد آ کر اپنی دکان بناتے تھے۔ یہ ایک پیشہ تھا اور اس کا لین دین کسی بھی اور جنس کی طرح ہوا کرتا تھا۔۔ یہ دکان اکیلے آزادانہ طور پر سجائی جاتی تھی یا کسی سکول کے ساتھ۔ ان پیشہ وروں کے آپس میں تعاون سے ایسوسی ایشن بنیں جو تجارتی گلڈ کی طرز کی تھیں۔ ان ایسوسی ایشن کو یونیورسٹی کہا گیا۔ ان کے پاس کوئی زمین یا باقاعدہ جگہ نہیں ہوتی تھی۔ یہ رفتہ رفتہ آئی۔ بولوگنا میں 1088، پیرس میں 1200، پاڈوا میں 1222 اور آکسفورڈ میں 1250 میں باقاعدہ یونیورسٹی قائم ہوئی۔ یہاں پر فوکس نیچرل سائنس پر تھا۔ نہیں، یہ یونیورسٹیاں ویسے نہیں تھیں جن کو ہم آج جانتے ہیں۔ مثال کے طور پر 1495 میں جرمن حکام کو قانون بنانا پڑا کہ نئے آنے والوں پر پیشاب نہیں کیا جائے گا۔ (یہ قانون اب موجود نہیں لیکن اساتذہ توقع رکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا)۔ پروفیسروں کے پاس باقاعدہ کلاس روم نہیں ہوتے تھے۔ گھروں میں، چرچ میں، حتیٰ کہ کئی بار قحبہ خانوں میں لیکچر ہوتے تھے۔ اور عام طریقہ یہ تھا کہ طلبا اساتذہ کو پڑھانے کے پیسے دیا کرتے تھے۔ یونیورسٹی آف بولوگنا میں طلبا اساتذہ کو چھٹی کرنے پر یا لباس ٹھیک نہ ہونے پر جرمانہ کرتے تھے۔ یا مشکل سوال کا جواب نہ دینے پر استاد کی سرزنش کی جاتی تھی۔ اور اگر لیکچر دلچسپ نہ ہو تو استاد پر آوازے کسے جاتے تھے۔ یہاں تک کے لیپزگ یونیورسٹی کو باقاعدہ قانون منظور کرنا پڑا کہ “پروفیسر کو پتھر مارنا منع ہے”۔ ان مشکلات کے باوجود یہ والی یورپی یونیورسٹیاں تھیں جنہوں نے سائنسی پروگریس کو ممکن کیا۔ اس لئے کہ یہ علم کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کر سکتی تھیں۔ آئیڈیا شئیر ہو سکتے تھے۔ بحث ہو سکتی تھی۔ خیالات خیالات سے مل سکتے تھے۔ سائنس آوازے کسنے والے طلبا اور استاد کی طرف اڑتے پتھر تو برداشت کر سکتی ہے۔ لیکن آئیڈیا شئیر نہ ہوں، بحث اور فکر کا گلا گھونٹ دیا جائے تو مر جاتی ہے۔ یونیورسٹیاں وہ جگہیں ہیں جہاں آج بھی کی گئی تحقیق سائنس کو بڑھنے کے لئے بے حد اہم ہے اور بنیادی ریسرچ فنڈنگ ان کو ملتی ہے۔ لیکن ان کا سب سے اہم کردار ذہنوں کو اکٹھا کرنا ہے۔ انفرادی فکر کے ملاپ سے اجتماعی فکر کی تخلیق ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عام بیانیہ ہے کہ سائنسی انقلاب جو ہمیں ارسطویت سے دور لے گیا اور فطرت کی سمجھ اور معاشرے کو بدل کر رکھ دیا، کاپرنیکس کی فلکیات یا نیوٹن کی فزکس سے شروع ہوا لیکن یہ ضرورت سے زیادہ سادہ تصویر ہے۔ اور سائنسی انقلاب دو چار سال میں آ جانے والی تبدیلی نہیں تھی۔ اور اس کے سائنسدان کوئی ایک مقصد لے کر کام نہیں کر رہے تھے۔ یہ سوچ کا سسٹم تھا اور بہت تدریج سے ہوا تھا۔ 1550 سے 1700 کے درمیان کے بہت سے عظیم سکالر تھے جنہوں نے یہ عمارت تعمیر کی اور اس میں نیوٹن کہیں اچانک ہی نہیں ابھر آئے۔ ابتدائی یونیورسٹیوں کے مفکر تھے جنہوں نے اس کی بنیاد کھودنے کے لئے کمرتوڑ مشقت کی۔ ان میں سے 1325 سے 1359 کے درمیان مرٹن کالج آکسفورڈ کے ریاضی دانوں کا گروپ تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)

Follow Apna Pasrur Official WhatsApp Channel

Get breaking news, instant alerts, and district updates directly on your WhatsApp

Join Channel ↗

Related Tags & Topics:

You May Also Like

View All News
Nov 4, 2026•Recent•محمد رضوان

How did the 3 sisters change their lives after the death of their father?

Rahim Yar Khan: 3 educated sisters of Rahim Yar Khan, Punjab's city, after the death of their father, instead of giving up in the face of difficulties, they achieved success with their hard work and determination.

Nov 4, 2026•Recent•عائشہ نور

IT Certification Program, registered candidates will get Rs.70 thousand per person

ISLAMABAD (November 4, 2026): Officially launched the 'PM IT Certification Reimbursement Program' for IT graduates and professionals, in which registration

Nov 4, 2026•Recent•عائشہ نور

’پنجاب میں کرپشن سے متعلق چوہدری سالک کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے‘

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر چوہدری سالک کا بیان میری ناقص سیاسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے ل

Nov 4, 2026•Recent•محمد رضوان

خواتین کے لیے اسکوٹی اور موٹر سائیکل ٹریننگ بالکل مفت

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے خواتین کو بااختیار اور خودمختار بنانے کے مشن کے تحت صوبے میں خواتین کو اسکوٹی اور موٹر سائیکل چلانے کی مفت تربیت فراہم

Nov 4, 2026•Recent•طاہر محمود

Shah Mehmood Qureshi's health is unwell, he fell in the barracks and got injured: Lawyer

Lahore (November 4, 2026): Former Foreign Minister Shah Mehmood Qureshi's condition suddenly deteriorated in Kot Lakhpat Jail. Lawyer Barrister Taimur Malik claimed that the nature of Shah Mehmood Qureshi

Nov 4, 2026•Recent•عائشہ نور

وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیے

اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے عمل سے متعلق 6 اہم ترین قانونی اصول واضح کرتے ہوئے بڑا فیصلہ جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی

یونیورسٹی (24) | Apna Pasrur