وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیے

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری بھرتیوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محض ایف آئی آر درج ہونے کی بنیاد پر کسی امیدوار کو سرکاری ملازمت سے نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔
- چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ مقدمے سے بری ہونے والے امیدوار کو سابقہ ایف آئی آر کی بنیاد پر بھرتی سے روکنا آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کے منافی۔
- عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری بھرتیوں میں میرٹ، انصاف اور مساوات کے آئینی تقاضے پورے کرنا لازم ہیں، جبکہ امیدوار کے خلاف کوئی منفی فیصلہ محض شبے کی بنیاد پر نہیں بلکہ مستند شواہد کی روشنی میں کیا جاسکتا۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے عمل سے متعلق 6 اہم ترین قانونی اصول واضح کرتے ہوئے بڑا فیصلہ جاری کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری بھرتیوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محض ایف آئی آر درج ہونے کی بنیاد پر کسی امیدوار کو سرکاری ملازمت سے نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ مقدمے سے بری ہونے والے امیدوار کو سابقہ ایف آئی آر کی بنیاد پر بھرتی سے روکنا آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کے منافی۔
عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری بھرتیوں میں میرٹ، انصاف اور مساوات کے آئینی تقاضے پورے کرنا لازم ہیں، جبکہ امیدوار کے خلاف کوئی منفی فیصلہ محض شبے کی بنیاد پر نہیں بلکہ مستند شواہد کی روشنی میں کیا جاسکتا۔
فیصلے کے مطابق بریت کے بعد امیدوار کے کردار کا جائزہ مستند شواہد کی بنیاد پر لیا جائے گا اور بری ہونے والے مقدمے کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں منفی انداز میں ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ زیر سماعت مقدمات کا ذکر صرف ان کی موجودہ قانونی حیثیت تک محدود رکھا جائے گا، جبکہ امیدوار کو سنے بغیر بھرتی کے عمل سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کا 22 مئی 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے امیدوار عبداللطیف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن بھی منسوخ کردیا۔
عدالت نے عبداللطیف کی میرٹ لسٹ میں دوسری پوزیشن کے مطابق امیدواری بحال کرنے اور 30 روز میں طبی معائنہ سمیت قانونی کارروائی مکمل کرکے تقرری کا حکم دے دیا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










