Tribes and People of Pasrur: The Historical Chronicles of Bajwa, Kahlon, Ghumman, Cheema, Kakazai, and Kashmiri Clans. 📌 اہم نسلی و سماجی نکات: تحصیل پسرور کا خطہ 'باجوہ' قبیلے کا تاریخی مسکن ہے؛ باجوہ قوم کا اصل مرکز پسرور کی زرخیز پٹی اور دریائے چناب کے دامن تک پھیلا ہوا تھا۔ کاہلوں اور گھمن جٹ قبائل نے تحصیل کے مشرقی و شمالی دیہات میں زرعی آبادکاری، ناہری زراعت اور دیہی دفاع میں نمایاں کردار ادا کیا۔ پسرور کے قدیم شہر کے اندر کاکازئی (پٹھان) اور کشمیری برادری نے صدیوں تک تجارت، دستکاری، پیتل اور تانبے کے برتن سازی اور اناج کی منڈیوں کی بنیاد رکھی۔ آرائیں اور انصاری برادری نے سبزیوں کی نرسریوں، باغات اور کپڑے کے ہینڈ لومز کے ذریعے خطے کی اقتصادی خودکفالت کو عروج بخشا۔ باجوہ قوم: پسرور کے تاریخی فرزند اور زمین کے وارث تحصیل پسرور کی تاریخ باجوہ قبیلے کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے۔ ایچ اے روز کی کلاسک انسائیکلوپیڈیا A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab (1911ء) اور سر لیپل گرفن کی The Punjab Chiefs (1865ء) کے مطابق باجوہ قبیلے کا نسب راجپوت راجہ شالپ سے جا ملتا ہے۔ روایات کے مطابق راجہ شالپ کی اولاد راجستھان کے صحراؤں سے ہجرت کر کے پنجاب آئی اور بالآخر سیالکوٹ کے خطہ باجوات اور تحصیل پسرور میں آباد ہوئی۔ پسرور کے درجنوں بڑے دیہات باجوہ خاندانوں نے آباد کیے۔ ان کی شجاعت، گھڑ سواری اور مہمان نوازی خطے میں ضرب المثل رہی ہے۔ برطانوی عہد کے بندوبستی افسر مسٹر پرنسپ نے اپنے ریکارڈ میں لکھا کہ پسرور تحصیل کی زیادہ تر زرعی اراضی پر باجوہ مالکان قابض تھے، جنہوں نے اپنی محنت سے جنگلات کو کاٹ کر پنجاب کے سرسبز ترین کھیتوں میں تبدیل کیا۔ کاہلوں، گھمن، چیمہ اور ورک قبائل کی زرعی و عسکری خدمات پسرور کی دھرتی پر دیگر عظیم کسان اور جنگجو قبائل میں کاہلوں اور گھمن نمایاں ہیں۔ کاہلوں برادری کے دیہات پسرور اور ظفروال کی حدود میں پھیلے ہوئے ہیں جنہوں نے نالہ ڈیک کے پانی سے باسمتی چاول کی ایسی فصلیں تیار کیں جو برصغیر میں لاجواب تسلیم کی گئیں۔ گھمن اور چیمہ قبائل نے ڈسکہ اور پسرور کی سرحدوں پر مضبوط بستیوں کی بنیاد رکھی۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں ان دیہات کے نوجوانوں نے برطانوی فوج کی پنجاب رجمنٹ میں شمولیت اختیار کر کے دنیا بھر کے محاذوں پر بہادری کے جھنڈے گاڑے، اور بعد ازاں قیامِ پاکستان کے وقت پاک فوج کی باوقار تشکیل میں ہراول دستہ بنے۔ کاکازئی، کشمیری، آرائیں اور شہری تجارتی طبقہ جہاں دیہی پسرور اپنی جاگیردارانہ اور زرعی روایات کا علمبردار تھا، وہیں شہر پسرور کے اندر کاکازئی پٹھانوں اور کشمیری مہاجرین کا تجارتی و انتظامی اثر و رسوخ انتہائی نمایاں تھا۔ مغل عہد اور درانی سلطنت کے زمانے میں کاکازئی تاجروں نے پسرور کے قدیم بازاروں (بشمول کٹڑہ بازار اور صرافہ منڈی) کو وسعت دی۔ وہ گھوڑوں کی تجارت، اون، اور غلہ بانی کے بڑے مراکز کے مالک تھے۔ کشمیری خاندانوں نے اپنے فن، کشمیری شال بافی، دھات کاری اور لکڑی کے کام سے پسرور کو صنعتی رونق بخشی۔ آرائیں برادری نے شہر کے گردونواح میں کثیر الحاصلی زراعت اور باغبانی کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کا اعتراف 1920ء کے ڈسٹرکٹ گزیٹیئر میں تفصیل سے کیا گیا ہے۔ 📚 مستند نسلیاتی و تاریخی حوالہ جات: A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and NWFP: H. Rose (1911), Vol. II (pp. 53-56: Bajwa) & Vol. III. The Punjab Chiefs: Sir Lepel H. Griffin (1865), Historical Notices of the Principal Families of Sialkot District. تاریخِ اقوامِ پنجاب: محمد دین فوق (1934ء)، لاہور: کشمیری، کاکازئی اور جٹ قبائل کے شجرہ جات اور تواریخ۔ Revised Settlement Report of Sialkot District (1865): E. Prinsep, Ethnographical and Caste Distribution Maps. Imperial Gazetteer of India (Provincial Series: Punjab): Vol. II, Sialkot District Population Statistics.