سپریم کورٹ، 25 سالہ لڑکی کے قتل کا ملزم شک کی بنیاد پر بری

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- دوران سماعت، وکیل مدعی نے دلائل دیے کہ ملزم نے 25 سالہ مقتولہ سائمہ بی بی کو چھری سے ذبح کرکے قتل کر دیا تھا، ملزم مقتولہ کا ہمسایہ اور مقتولہ پر بری نظر رکھتا تھا۔
- جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی آر کے مطابق ملزم اکیلا جبکہ وقوعہ کی تین گواہ ہیں۔
- وکیل مدعی نے کہا کہ مقتولہ کو ذبح کرنے سے قبل گلے میں دوپٹہ ڈال کر چارپائی سے باندھا گیا۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 25 سالہ لڑکی کے قتل میں ملوث ملزم کو شک کی بنیاد پر بری کر دیا۔
دوران سماعت، وکیل مدعی نے دلائل دیے کہ ملزم نے 25 سالہ مقتولہ سائمہ بی بی کو چھری سے ذبح کرکے قتل کر دیا تھا، ملزم مقتولہ کا ہمسایہ اور مقتولہ پر بری نظر رکھتا تھا، مقتولہ کا شوہر اور دیور اور ایک تیسرا شخص بھی واقعے کا گواہ۔
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی آر کے مطابق ملزم اکیلا جبکہ وقوعہ کی تین گواہ ہیں۔ شوہر، دیور اور تیسرے شخص نے ملزم کو وقوعہ کے وقت روکا کیوں نہیں؟ مقتولہ کو ذبح کیا جا رہا تھا تو عینی شاہدین خاموش تماشائی بنے کھڑے رہے؟
وکیل مدعی نے کہا کہ مقتولہ کو ذبح کرنے سے قبل گلے میں دوپٹہ ڈال کر چارپائی سے باندھا گیا۔
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل رپورٹ میں دوپٹے کے نشانات کا ذکر نہیں، دوپٹے کو فارنزک کے لیے کیوں نہیں دیا گیا؟ ہائیکورٹ نے بری نظر رکھنے اور چھری برآمدگی ہو اپنے فیصلے میں قابل بھروسہ نہیں لکھا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











