Spiritual Heritage of Pasrur: The Shrines of Baba Mastan Shah, Pir Fazal Shah, and Ancient Pilgrim Routes. 📌 اہم روحانی و تاریخی حقائق (مستند ریکارڈ): دربار امام میراں برخوردارؒ: پسرور شہر کا قدیم ترین مزار جس پر کلاں گنبد اور ساتھ تاریخی نوگزا مزار واقع ہے، جو صدیوں سے مرجعِ خاص و عام ہے۔ دربار حضرت گُلو شاہؒ (کوریکے، تحصیل پسرور): برطانوی گزٹیر کے مطابق ضلع سیالکوٹ کا سب سے بڑا میلہ اور عرس گُلو شاہ کے مقام پر 7 آسو کو لگتا تھا جہاں پچاس ہزار زائرین شرکت کرتے تھے۔ دربار شاہ دریا دیوانؒ: پسرور کے مشرقی قبرستان (مائی تابی) میں پختہ مزار، جہاں روایتی طور پر 15 ساون کو تاریخی چراغاں اور میلہ منعقد ہوتا تھا۔ پیر جہانیاںؒ اور دلشاد پسروریؒ: مغربی قبرستان ہشت پہلو تالاب کے پاس واقع درگاہ، جس کے احاطے میں برصغیر کے نامور فارسی شاعر دلشاد پسروریؒ مدفون ہیں۔ دربار امام میراں برخوردارؒ: پسرور کا قدیم ترین روحانی مرکز پسرور شہر کی اندرونی قدیم تاریخ میں سب سے معتبر اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جانے والا مزار حضرت امام میراں برخوردارؒ کا ہے۔ یہ مزار صدیاں پرانا ہے اور ان کی لحد کے عین قریب ایک غیر معمولی لمبی قبر واقع ہے جسے روایتی طور پر "نوگزا پیر" کہا جاتا ہے۔ مزار کے اوپر ایک شاندار بلند گنبد تعمیر ہے جس کے بارے میں تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ مغل عہد میں گجرات کے معروف صوفی شاہ دولہ دریائی یا مقامی مغل حاکموں نے اس کی پختہ عمارت اور گنبد تعمیر کروایا۔ امام صاحب کا مزار نہ صرف پسرور شہر بلکہ گردونواح کے ککے زئی، باجوہ اور کشمیری خاندانوں کے لیے صدیوں تک خیر و برکت اور روحانی رہنمائی کا مرکز رہا ہے۔ دربار حضرت گُلو شاہؒ (موضع کوریکے): گزٹیر آف سیالکوٹ کی مستند گواہی تحصیل پسرور میں سرکاری طور پر دستاویزی تاریخ کا حامل سب سے بڑا میلہ اور دربار حضرت گُلو شاہؒ کا ہے جو پسرور کے قریبی موضع کوریکے میں واقع ہے۔ برطانوی حکومت کے مرتب کردہ Gazetteer of the Sialkot District (1883-84ء ایڈیشن، صفحہ 108 اور 1920ء ایڈیشن، صفحہ 65) میں صراحت کے ساتھ درج ہے: "The tomb of Gulu Shah, a faqir, at Koreke in the Pasrur tehsil, is the scene of an immense annual fair held on the 7th of Asu (September-October). It is attended by upwards of 40,000 to 50,000 people and constitutes the largest combined cattle and religious fair in the entire district. ترجمہ: "تحصیل پسرور کے گاؤں کوریکے میں درویش گُلو شاہ کا مزار ایک عظیم الشان سالانہ میلے کا مرکز ہے جو ہر سال 7 آسو کو لگتا ہے۔ اس میں چالیس سے پچاس ہزار افراد شرکت کرتے ہیں اور یہ پورے ضلع کا سب سے بڑا تجارتی اور مذہبی اجتماع ہے۔" گُلو شاہ ایک برگزیدہ بزرگ تھے جن کے لنگر اور دعاؤں سے کسانوں اور تاجروں کو فیض ملتا تھا، اور یہ میلہ پورے رچنا دوآب میں مشہور تھا۔ شاہ دریا دیوانؒ، سید جلال شاہ بخاریؒ اور پیر جھنگی شاہ خاکیؒ پسرور کے مشرقی جانب مائی تابی کے تاریخی قبرستان میں حضرت شاہ دریا دیوانؒ کا پختہ مزار مرجعِ خلائق ہے۔ یہاں ہر جمعرات کو چراغاں کیا جاتا تھا اور روایتی طور پر 15 ساون کو ایک پررونق میلہ سجتا تھا۔ اس کے علاوہ محلہ دوبرجی میں سید جلال شاہ بخاریؒ کا مزار اور ریلوے اسٹیشن کے راستے میں شاہ ببنؒ (شاہ ابن) کا مزار واقع ہے۔ جبکہ کچے تالاب کے شمال میں اور پسرور-گوجرانوالہ شاہراہ پر پیر جھنگی شاہ خاکیؒ کی قدیم خانقاہ موجود ہے جس کا تذکرہ گزٹیر میں جون کے مہینے کے سالانہ میلے کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔ اسی طرح لاری اڈا کے قریب ہشت پہلو تالاب کے پاس واقع قبرستان میں پیر جہانیاںؒ کی درگاہ ہے، جس کے احاطے میں پسرور کے فخر اور مغل عہد کے مشہور فارسی شاعر دلشاد پسروریؒ آسودہِ خاک ہیں۔ 📚 مستند تاریخی و سرکاری ماخذ (صفحات و ریکارڈ): Gazetteer of the Sialkot District (1883-84 Edition): Chapter III: The People — Section: Fairs and Shrines, Page 108 (Civil & Military Gazette Press, Lahore)۔ دربار گُلو شاہ کوریکے و میلوں کی تفصیل۔ Gazetteer of the Sialkot District (1920 Edition): Part A, Chapter I, Page 65-67 — Shrines and Religious Gatherings in Pasrur Tehsil۔ سیٹلمنٹ ریکارڈ آف تحصیل پسرور (1892ء): اسنادِ اراضی، مساجد و مزارات (محلہ دوبرجی، مائی تابی، اور ہشت پہلو تالاب)۔ تذکرہ اولیائے پنجاب: مفتی غلام سرور لاہوری و تحقیقاتِ چشتی، خطہ سیالکوٹ و پسرور کے صوفیاء۔ آرکائیو اپنا پسرور: "پسرور میں مزارات"، مستند مقامی تحقیق و فیلڈ سروے۔