آئینی عدالت، سپریم کورٹ کے فیصلے کی پابند نہیں، جسٹس عامر فاروق

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- جسٹس عامر فاروق نے آئینی عدالت کیِ نظرثانی۔
- عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹس کے فیصلوں۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): وفاقی آئینی عدالت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔
جسٹس عامر فاروق نے آئینی عدالت کیِ نظرثانی اور اپیل کے اختیار کے متعلق 8 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا ہے کہ آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلے کی پابند نہیں ہیں تاہم انکی قانونی حیثیت رہنمائی کی حامل ہے اور جہاں سپریم کورٹ کی جانب سے وضع کردہ قانونی اصول قابلِ قبول ہوں یا قانون اور آئین سے مطابقت رکھتے ہوں، وہاں ان پر عمل کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹس کے فیصلوں اور احکامات کے خلاف اپیل سے متعلق سپریم کورٹ کی جانب سے وضع کردہ قانونی اصول آئینی عدالت کے لیے لازمی نہیں ہیں تاہم آئینی عدالت سپریم کورٹ کے قانونی اصولوں اور عدالتی نظائر سے رہنمائی حاصل کر سکتی۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











