ادیب و صحافی غلام عباس. 📌 Key Highlights & Quick Takeaways: 20 ویں صدی اس اعتبار سے بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ بالخصوص 20 ویں صدی کا اولین دوسرا و تیسرا عشرہ کہ ان دو تین عشروں میں ادب کی تاریخ میں بہت ب. ان کے والد محترم کا اسم گرامی میاں عبدالعزیز تھا، گمان کیا جا سکتا ہے کہ غلام عباس نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں ہی حاصل کی اور جب لکھنے پڑھنے. انھوں نے جو اولین افسانہ قلم بند کیا وہ تھا موت کا درخت، یہ افسانہ سالنامہ نیرنگ خیال میں شائع ہوا اور اس افسانے کا انھیں معاوضہ بھی ملا۔ یہ. 20 ویں صدی اس اعتبار سے بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ بالخصوص 20 ویں صدی کا اولین دوسرا و تیسرا عشرہ کہ ان دو تین عشروں میں ادب کی تاریخ میں بہت بڑے بڑے ترقی پسند اہل قلم پیدا ہوئے۔ یہ اہل قلم 20 ویں صدی کے چوتھے و پانچویں عشرے میں جب یہ قلم سے اپنا رشتہ قائم کر چکے تو اس دور کا بہترین ادب جو تخلیق ہوا تو وہ ادب باذوق قارئین آج بھی بڑی توجہ و شوق سے پڑھتے ہیں بلکہ یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ ان ادبا کی تحریریں آج کے اہل قلم کے لیے حوالہ کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہ بھی ایک صداقت ہے کہ ان ادبا کی تحریروں کی بدولت 20 ویں صدی کے چوتھے و پانچویں عشرے میں دنیا بھر میں آزادی کی تحریکوں نے زور پکڑا اور بالآخر دنیا سامراج سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی چلی گئی ، برصغیر میں بھی بڑے بڑے ادبا کے نام ہمارے سامنے آئے ان ادبا میں ایک نمایاں نام ہے غلام عباس صاحب کا، جنھوں نے 17 نومبر 1909 کو امرتسر میں جنم لیا۔ ان کے والد محترم کا اسم گرامی میاں عبدالعزیز تھا، گمان کیا جا سکتا ہے کہ غلام عباس نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں ہی حاصل کی اور جب لکھنے پڑھنے کی صلاحیت حاصل کر چکے تو کم عمری میں ہی غلام عباس نے قلم سے رشتہ قائم کر لیا۔ یہ ضرور ہے کہ انھوں نے میٹرک تک تعلیم و ادیب عالم کی تعلیم خاصی تاخیر کے بعد حاصل کی، غلام عباس کو قدرت نے لکھنے کی صلاحیت عطا کر دی تھی کہ انھوں نے فقط15 برس کی عمر میں ٹالسٹائی کی کتاب جلاوطن کا ترجمہ بھی کر ڈالا اور یہ ترجمہ کردہ تحریر ہزار داستان لاہور میں چھپی۔ یہ ذکر ہے جنوری 1925۔ انھوں نے جو اولین افسانہ قلم بند کیا وہ تھا موت کا درخت، یہ افسانہ سالنامہ نیرنگ خیال میں شائع ہوا اور اس افسانے کا انھیں معاوضہ بھی ملا۔ یہ ذکر ہے 1929 کا جب کہ اسی برس انھوں نے ماہنامہ پھول سے اپنا تعلق قائم کر لیا، جہاں نامور ادیب پطرس بخاری صاحب کے ساتھ کام کرنے کا انھیں موقعہ مل گیا، پطرس بخاری صاحب نے غلام عباس صاحب کو آل انڈیا ریڈیو سے متعارف کروا دیا، اسی زمانے میں غلام عباس تہذیب نسواں سے بھی منسلک ہو گئے یوں انھیں امتیاز علی تاج کا ساتھ نصیب ہو گیا۔ حقیقت ہے کہ امتیاز علی تاج کی فرمائش پر غلام عباس نے واشنگٹن ارونگ کے افسانوں کا اردو میں ترجمہ کیا، اس افسانوں کے مجموعے کا نام الحمرا رکھا گیا۔ افسانوں کا یہ مجموعہ بے حد پسند کیا گیا جب کہ 1937 میں غلام عباس صاحب نامور ترین قلم کار جناب چراغ حسن حسرت کے ہفت روزہ شیرازہ کے لیے ایک طنزیہ افسانہ جزیرہ سخنواراں کے عنوان سے لکھا، اس طنزیہ افسانے کے چھپنے کے ساتھ ہی محترم غلام عباس کی شہرت ہر جانب پھیل گئی۔ Official Wire Source & Legal Disclaimer Read ▼ 📰 Official Source & Legal Provenance: Express News Documented Wire Record Editorial & Legal Notice: Ingested and verified from official journalistic wire (Express News) under applicable press regulations. Full primary documentary sources are permanently archived.