پاکستان کی سفارتی مساعی. 📌 Key Highlights & Quick Takeaways: مشرق وسطیٰ کی صورت حال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکا ایران جنگ کے باعث پہلے ہی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے ،اس پہ مستزاد یمن میں پیدا ہونے والے خلف. ایسے حالات میں امریکا ایران جنگ کا خاتمہ، حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف پیش قدمی روکنے اور بطور ثالث پاکستان کے لیے سفارتی محاذ پر مشکل اور بڑ. عالمی میڈیا نے فیلڈ مارشل کے دورے کے حوالے سے نمایاں خبریں شائع کیں۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر باقر. مشرق وسطیٰ کی صورت حال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکا ایران جنگ کے باعث پہلے ہی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے ،اس پہ مستزاد یمن میں پیدا ہونے والے خلفشار اور حوثیوں کے سعودی عرب پر ہر روز ہونے والے حملوں نے اسے دو آتشہ کر دیا۔ ایسے حالات میں امریکا ایران جنگ کا خاتمہ، حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف پیش قدمی روکنے اور بطور ثالث پاکستان کے لیے سفارتی محاذ پر مشکل اور بڑے سنجیدہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس پس منظر میں گزشتہ ہفتے ایران کے دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران کے اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں، خطے کی تازہ ترین صورت حال اور امریکا ایران دو طرفہ مذاکرات کی بحالی کے تناظر میں بات چیت نہایت اہمیت کی حامل۔ عالمی میڈیا نے فیلڈ مارشل کے دورے کے حوالے سے نمایاں خبریں شائع کیں۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سیکریٹری نیشنل کونسل جنرل محسن رضائی سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مفید ملاقاتیں ہوئیں جس کے نتیجے میں ایران اور پاکستان کا بارڈر دوبارہ کھول دیا گیا۔ امریکا ایران کشیدگی اور مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے ایرانی قیادت نے اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ تہران اس وقت تک امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا جب تک واشنگٹن کی جانب سے اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے، ایران جنگ کا حامی نہیں لیکن اپنے وطن اور قومی وقار کے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر تیار۔ مقام اطمینان کہ ایرانی قیادت نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرانے میں سفارتی محاذ پر پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے کھلے دل سے اس کا اعتراف کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا کو دھمکیاں اور پابندیاں ختم کرنا ہوں گی جب کہ اسپیکر باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکا کو پیش کی گئی سات شرائط پوری ہونے تک امریکا ایران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔ ایرانی شرائط میں منجمد اثاثوں کی بحالی، تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنا، ایران کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور دوران جنگ نقصانات کے ازالے جیسی اہم شرائط شامل ہیں۔ ایرانی قیادت نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ دوبارہ امریکی حملے کی صورت میں پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ جواب دیا جائے گا، ہم اپنے دفاع اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں۔ Official Wire Source & Legal Disclaimer Read ▼ 📰 Official Source & Legal Provenance: Express News Documented Wire Record Editorial & Legal Notice: Ingested and verified from official journalistic wire (Express News) under applicable press regulations. Full primary documentary sources are permanently archived.