ٹیکسٹائل مصنوعات کی قدر میں اضافے کی ضرورت

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- اس کے لیے صنعتی تحقیق، تربیت یافتہ افرادی قوت، جدید مشینری، معیار کی جانچ، برانڈنگ اور عالمی خریداروں کے ساتھ طویل مدتی تجارتی تعلقات اہم ہیں۔
- عالمی منڈی میں مقابلہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ کون سستا کپڑا بناتا۔
- اس کے علاوہ مصنوعات کی یکسانیت، ماحول دوست پیداوار اور خریدار کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم بتاتا ہے کہ یہ شعبہ قومی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، تاہم برآمدات کی اصل قوت جانچنے کے لیے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ملک اپنی پیداوار میں کتنی مقامی قدر شامل کر رہا ہے۔ کپاس برآمد کرنا بے شک ایک معاشی سرگرمی ہے، دھاگہ تیار کرنا اس سے آگے کا مرحلہ ہے، کپڑے کی تیاری، رنگائی، ڈیزائننگ، سلائی، پیکنگ اور اپنے برانڈ کا نام ہو، اس کے تحت عالمی منڈی میں فروخت کرنا قدر میں مزید اضافے کے امکانات پیدا کر دیتا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دھاگہ برآمد کرنا بے فایدہ ہے، بعض اوقات یہ مصنوعات بھی منافع بخش تجارت کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن طویل مدت میں پاکستان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ زیادہ قدر والی مصنوعات میں سرمایہ کاری کے ذریعے برآمدی آمدنی کیسے بڑھائی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ہی مقدار میں کپاس سے تیار ہونے والے مختلف درجوں کے سامان کی قیمت مختلف ہو سکتی ہے، اگر پاکستان جدید ٹیکنالوجی، بہتر معیار، ڈیزائن اور موٹر مارکیٹنگ کے ذریعے اپنی مصنوعات کی عالمی قیمت بڑھا سکتا ہے تو ایسی صورت میں اسے اپنی پیداواری صلاحیت سے زیادہ فایدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے صنعتی تحقیق، تربیت یافتہ افرادی قوت، جدید مشینری، معیار کی جانچ، برانڈنگ اور عالمی خریداروں کے ساتھ طویل مدتی تجارتی تعلقات اہم ہیں۔
عالمی منڈی میں مقابلہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ کون سستا کپڑا بناتا ہے۔ ایک وقت تھا اٹھارہویں صدی میں جب یہ دیکھا جاتا تھا کہ کسی شے کی تیاری میں کس ملک کو تخصیص حاصل ہے، یعنی اگر کپڑا ہے تو کون سا ملک ایسا ہے جہاں اس کا خام مال کپاس تیار ہوتا ہے اور اس بنا پر وہ سستا ترین کپڑا تیار کر سکتا ہے، لیکن اب معیار اہمیت اختیار کر گیا۔
معیار کے ساتھ بروقت ترسیل اور خاص طور پر پاکستان تمام تر خصوصیت کا حامل ہونے کے باوجود بروقت ترسیل کے کھاتے میں پیچھے چلا جاتا ہے کیونکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، ہڑتال، ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور ملک گیر ہڑتال یا پھر بندرگاہ میں ہڑتال کے باعث بروقت روانگی ممکن نہیں ہوتی اور بعض اوقات بات آرڈر کینسل ہونے تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعات کی یکسانیت، ماحول دوست پیداوار اور خریدار کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ جسے اکثر تجارتی اعداد و شمار میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے جیسے کہ ٹیکسٹائل برآمدات میں سہ ماہی بنیاد پر 5 فی صد اضافے کا جائزہ لیں تو یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ فیکٹری میں مشین چلانے کے لیے بجلی چاہیے، کپڑے کو رنگنے اور مختلف مراحل کے لیے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی اور کیمیکلز کی ضرورت ہوتی ہے۔ خام مال خریدنے کے لیے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ برآمدی آرڈرز کی تکمیل کے لیے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے، اگر پیداواری لاگت بڑھ جائے تو صنعتکار کے سامنے مشکل انتخاب آتا ہے منافع کم کرے، مصنوعات کی قیمت بڑھائے، پیداوار گھٹائے یا نئی سرمایہ کاری موخر کر۔
عالمی منڈی میں خریدار اضافی لاگت قبول نہیں کرتا۔ وہ دوسرے ممالک کے سپلائرز سے بھی قیمت اور معیار کا تقابل کرتا ہے کہیں سے اسے ذرا بھی فایدہ لگ رہا ہو اپنی خریداری کا رخ اس جانب موڑ دیتا ہے اور پہلے ہی کئی ملکوں کے صنعتکار اپنی پراڈکٹ لیے اس کے دروازے پر کھڑے ہوتے ہیں اور اسے بہترین پیکیج یا پیشکش کر رہے ہوتے ہیں لہٰذا پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے لیے توانائی کی مناسب قیمتوں اور بجلی گیس کی مستقل فراہمی، موثر ٹرانسپورٹ، آسان مالیاتی سہولیات ،ٹیکس کا نظام اور دیگر باتیں انتہائی اہم ہیں۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










