لاہور کی مصروفیات اور تقریبات

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- 2026 میں شائع ہونے والی میری تصانیف کے پبلشر سنگِ میل پبلیکیشنز کے علی کامران کی خواہش تھی۔
- اس دوران پنجاب یونیورسٹی کے آئی ای آر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر عبدالقیوم چوہدری نے فون پر بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی میں میری تازہ تصانیف کی تقریب پذیرائی بھی 17 اکتوبر کو منعقد ہوگی، جس کی صدارت وائس چانسلر کریں۔
- ہمارے زوال کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم بحیثتِ قوم نہ تعلیم کو اہمیّت دیتے ہیں اور نہ استاد کو عزّت۔
لاہور (خصوصی نامہ نگار): کچھ لوگوں کے تحفّظات بھی ہوں گے، مگر اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ اکثر وائس چانسلرز سے کہیں زیادہ موثر، مستعد اور بہتر منتظم ہیں۔ وہ اور ان کی ٹیم اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں پنجاب یونیورسٹی میں ایک بھرپور اور کامیاب کتاب میلہ منعقد کرنے پر مبارکباد کی مستحق ہے۔ دوسری یونیورسٹیوں اور کالجوں کو بھی اس طرح کے کتاب میلے منعقد کرنے میں ان کی پیروی کرنی چاہیے۔
2026 میں شائع ہونے والی میری تصانیف کے پبلشر سنگِ میل پبلیکیشنز کے علی کامران کی خواہش تھی کہ پنجاب یونیورسٹی بک فیئر کے تین دنوں میں سے ایک روز کچھ دیر کے لیے میں ان کے اسٹال پر جاؤں کیونکہ بہت سے لوگ مصنّف سے ملنا اور کتاب پر دستخط کروانا چاہتے ہیں، چنانچہ ان کے ساتھ طے ہوگیا کہ میں آخری روز یعنی 17 اکتوبر کو ایک گھنٹے کے لیے ان کے اسٹال پر رہوں۔
اس دوران پنجاب یونیورسٹی کے آئی ای آر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر عبدالقیوم چوہدری نے فون پر بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی میں میری تازہ تصانیف کی تقریب پذیرائی بھی 17 اکتوبر کو منعقد ہوگی، جس کی صدارت وائس چانسلر کریں گے۔ انھوں نے کتاب میلے میں شرکت کی بھی دعوت دی اور ساتھ ہی پیشکش کردی کہ اس بار آپ پنجاب یونیورسٹی کے مہمان بنیں اور یونیورسٹی کے ایگزیکٹو کلب میں ہی قیام کریں۔ میں نے ان کی دونوں پیشکشیں شکرئیے کے ساتھ قبول کرلیں۔ یونیورسٹی کے ایگزیکٹو کلب میں دوسری جامعات کے وائس چانسلرز، پروفیسر صاحبان اور گیسٹ اسپیکرز آکر ٹھہرتے ہیں اس لیے اس کا معیار ہر لحاظ سے بہت بہتر ہونا چاہیے، مگر یہاں آکر معلوم ہوا کہ رہائشی کمروں اور باتھ رومز کے حالات بڑے دگرگوں ہیں، انھیں بہتر کرنے کی اشد ضرورت۔
ہمارے زوال کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم بحیثتِ قوم نہ تعلیم کو اہمیّت دیتے ہیں اور نہ استاد کو عزّت۔ ہمارے حکمرانوں نے تمام تر مراعات اور اختیارات بے ہنر بیوروکریسی کی جھولی میں ڈال دیے ہیں، خزانے کی چابی بھی انھی کے حوالے ہے، وہ چاہیں تو اپنے دفتروں کو سیون اسٹار ہوٹل بنادیں اور اپنے ریسٹ ہاؤسز کو محلّات میں بدل دیں، اور وہ ایسا ہی کررہے ہیں۔ سنا ہے کہ لاہور کے جی او آر میں واقع افسروں کے ریسٹ ہاؤس کی تزئین وآزائش پر ساٹھ ستر کروڑ روپے سے بھی زیادہ لگادیے گئے ہیں، پنجاب حکومت کو چاہیے کہ پنجاب یونیورسٹی کے لیے بھی کچھ فنڈز مختص کریں، اساتذہ کا ریسٹ ہاؤس بھی اُن کے شایانِ شان ہونا چاہیے۔
یونیورسٹی کے وحید شہید ہال میں تصانیف کی تقریب کا وقت دو بجے رکھا گیا تھا، وائس چانسلر صاحب کے علاوہ کتابوں پر گفتگو کرنے والے مقرّرین میں ممتاز ماہرِ اقبالیات اور شعبۂ اردو کی سربراہ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین اور یونیورسٹی لاء کالج کے پرنسپل ڈاکٹر امان اللہ کے علاوہ سابق وفاقی سیکریٹری شمائل اخمد خواجہ اور سابق سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق احمد بھی شامل تھے، پانچویں مقرّر پنجاب اسٹوڈنٹس یونین کے سابق نائب صدر اور اپنے وقت کے سب سے بڑے مقرّر سیّد تنویر عباس تابش تھے، جن کی خطابت سے کبھی جامعہ پنجاب کے درودیوار گونجا کرتے تھے۔
، اُس روز انھوں نے مختصر تقریر کی مگر حاضرین ان کے دلنشین لب ولہجے، موثر ادائیگی، آواز کے زیر وبم اور بر محل اشعار سے مزّین خطاب سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ مصنف جس لاء کالج میں زیر تعلیم رہا تھا، ڈاکٹر امان اللہ اسی یونیورسٹی لاء کالج کے سربراہ ہیں، انھوں نے میری خودنوشت ’’جہدِ مسلسل‘‘ میں لاء کالج کے زمانۂ طالب علمی کے بارے میں تحریر کردہ واقعات پر گفتگو کی اور اُس وقت کے پرنسپل شیخ امتیاز علی صاحب مرحوم کی گوناگوں خوبیوں کے باعث ان کے ساتھ میری غیر معمولی عقیدت کا خاص طور پر ذکر کیا۔ لاہور پولیس کے سابق سربراہ چوہدری شفیق چونکہ مصنف کے ساتھ کام کر چکے تھے، اس لیے انھوں نے صاحبِ کتاب کے کردار پر فوکس کیا اور کہا کہ مصنف کی تحریر میں اس لیے اثر ہے اور ان کی کتابیں اس لیے زیادہ مقبول ہوئی ہیں کہ لوگ جانتے ہیں کہ لکھنے والے کا کردار ہر قسم کے داغ دھبوں سے پاک ہے، اور اس نے جو لکھا ہے پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھایا۔
نیک نام بیوروکریٹ اور سابق وفاقی سیکریٹری شمائل احمد نے میری کتاب ’’سمجھتا ہوں جسے حق‘‘ (جسے قلم فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے) پر بڑی سیر حاصل گفتگو کی، انھوں نے کہا کہ یہ کتاب صرف مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ مصنف کے نصف صدی پر محیط فکری سفر کا نچوڑ اور خلاصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنف کے کردار اور تحریر کی روانی اور شگفتگی کے باعث ان کی کتابوں کو بہت پذیرائی ملی ہے۔ انھوں نے تجویز کیا کہ کتاب کے کئی آرٹیکلز سول سروسز کے تربیتی اداروں میں ضرور پڑھائے جانے چاہئیں۔ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے اپنی گفتگو میں ’’افکارِ تازہ‘‘ کے ہر پہلو کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی دستا ویز ہے جو پاکستان کو درپیش مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کا حل بھی بتاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ والدہ کی یاد میں ذوالفقار چیمہ کا مضمون ’’ماں‘‘ پر لکھے گئے دنیا کے دس بہترین مضامین میں شمار کیا جائے۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











