ریکارڈ کے باوجود نادرا درخواست کی جانچ پڑتال میں وقت کیوں لگتا ہے؟

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نادرا نے بتایا کہ بعض اوقات زیادہ عمر کے افراد پہلی مرتبہ شناختی کارڈ بنوانے کے لیے نادرا دفتر آتے ہیں۔
- انہوں نے کہا کہ نادرا افسر کے لیے یہ تصدیق کرنا ضروری ہوتا ہے کہ درخواست گزار کا خاندانی ریکارڈ کیا ہے اور اسے نادرا کے نظام میں اس کے خاندان کے ساتھ کیسے منسلک کیا جائے۔
- اس مقصد کے لیے نادرا افسر صرف موجودہ دستاویزات پر انحصار نہیں کرتا بلکہ ضرورت پڑنے پر پرانے سرکاری ریکارڈ یا پرانے شناختی کارڈ سے بھی مدد لی جاسکتی۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): اسلام آباد : نادرا کے پاس تمام تر ریکارڈ ہونے کے باوجود درخواست گزار کی جانچ پڑتال میں وقت کیوں لگتا ہے؟ اس جواب میں نادرہ ترجمان نے وضاحت دے۔
پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نادرا نے بتایا کہ بعض اوقات زیادہ عمر کے افراد پہلی مرتبہ شناختی کارڈ بنوانے کے لیے نادرا دفتر آتے ہیں، ان کے لیے شناخت کی تصدیق اور خاندانی ریکارڈ سے لنک قائم کرنے کا عمل نسبتاً مختلف اور تاخیر کا سبب بن سکتا۔
انہوں نے کہا کہ نادرا افسر کے لیے یہ تصدیق کرنا ضروری ہوتا ہے کہ درخواست گزار کا خاندانی ریکارڈ کیا ہے اور اسے نادرا کے نظام میں اس کے خاندان کے ساتھ کیسے منسلک کیا جائے۔ اس سے پہلے یہ بھی تصدیق کی جاتی ہے کہ درخواست گزار پاکستانی شہری ہے یا نہیں۔
اس مقصد کے لیے نادرا افسر صرف موجودہ دستاویزات پر انحصار نہیں کرتا بلکہ ضرورت پڑنے پر پرانے سرکاری ریکارڈ یا پرانے شناختی کارڈ سے بھی مدد لی جاسکتی۔
ترجمان کے مطابق نادرا کے قیام سے قبل شناختی کارڈز کے اجرا کا دستی نظام موجود تھا، جس میں شہریوں کے شناختی کارڈ کا ریکارڈ محفوظ کیا جاتا تھا، اس لیے پرانے ریکارڈ کی تلاش اور تصدیق میں بعض اوقات ایک یا دو دن یا اس سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا۔
اس عمل کا مقصد درخواست گزار کی شناخت، پاکستانی شہریت اور خاندانی تعلق کو درست طریقے سے ثابت کرکے اسے نادرا کے ڈیٹا بیس میں شامل کرنا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










