بین الاقوامیOct 29, 2026
🇵🇰 اردو میں پڑھیں’ایران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا‘: تہران اجلاس سے کشمیر کمیٹی تک خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمٰن آمنے سامنے

- اسپانسرڈ اشتہار / Advertisement -
پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
اشتہار بک کروائیں
’ایران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا‘: تہران اجلاس سے کشمیر کمیٹی تک خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمٰن آمنے سامنے. 📌 Key Highlights & Quick Takeaways: پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ. جمعرات کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے ایک روز قبل مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیا۔ مولانا فضل. مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ایسے موقع پر پاکستان کی نمائندگی اور متعلقہ وزرا کی عدم موجودگی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اپنی تقریر کے دو. پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کا تعلق کسی دفاعی معاہدے یا دفاعی اجلاس سے نہیں تھا، اس لیے وہاں ان کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ کوئی دفاعی معاہدہ زیرِ غور تھا اور نہ ہی کسی ملک کا وزیرِ دفاع اس عمل کا حصہ تھا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے ایک روز قبل مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے بدھ کو ایوان میں خطاب کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ ایران میں دفاعی امور سے متعلق اہم اجلاس ہو رہا ہے، لیکن پاکستان کے وزیرِ دفاع اس میں شریک نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ وزیرِ دفاع اور وزیرِ خارجہ ایوان میں موجود ہیں جبکہ وزیر داخلہ تہران میں بیٹھے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ایسے موقع پر پاکستان کی نمائندگی اور متعلقہ وزرا کی عدم موجودگی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اپنی تقریر کے دوران انھوں نے خواجہ آصف کی 2014 کی ایک تقریر کے بعض جملوں کا حوالہ بھی دیا تھا۔ آج اس خطاب کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے اعتراضات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔ اُنھوں نے اپنی تہران میں عدم موجودگی پر اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ہونے والی سرگرمیاں وزارتِ دفاع کے مینڈیٹ کا حصہ نہیں تھیں، اس لیے اُن کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر وہاں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی کوششوں کے سلسلے میں موجود تھے۔ Official Wire Source & Legal Disclaimer Read ▼ 📰 Official Source & Legal Provenance: BBC Urdu World & Pakistan Documented Wire Record Editorial & Legal Notice: Ingested and verified from official journalistic wire (BBC Urdu World & Pakistan) under applicable press regulations. Full primary documentary sources are permanently archived.
- اسپانسرڈ اشتہار / Advertisement -
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اشتہار بک کروائیں
Follow Apna Pasrur Official WhatsApp Channel
Get breaking news, instant alerts, and district updates directly on your WhatsApp










