اسلام آباد بلدیاتی انتخابات؛ الیکشن کمیشن کا 21 اکتوبر کا آرڈر اور انتخابی شیڈول چیلنج

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- چوہدری امجد علی کی جانب سے بیرسٹر عادل عزیز قاضی نے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرانی حلقہ بندیوں کی قانونی حیثیت کا تعین کیے بغیر الیکشن نہیں کرایا جا سکتا۔
- عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فیصلے تک الیکشن کے عمل کو معطل يا ملتوی کیا جائے۔
- اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن، وزارت داخلہ، وزارت قانون اور سی ڈی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): اسلام آباد بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کا 21 اکتوبر کا آرڈر اور انتخابی شیڈول اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔
چوہدری امجد علی کی جانب سے بیرسٹر عادل عزیز قاضی نے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرانی حلقہ بندیوں کی قانونی حیثیت کا تعین کیے بغیر الیکشن نہیں کرایا جا سکتا۔ اسلام آباد بلدیاتی اداروں کی قانونی مدت فروری 2021 میں ختم ہو چکی ہے۔ الیکشنز ایکٹ 2017 کے مطابق مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر انتخابات کرانا قانونی لازمی۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فیصلے تک الیکشن کے عمل کو معطل يا ملتوی کیا جائے۔ جب تک قانونی تنازع حل نہیں ہوتا، قانونی طور پر نئى اور شفاف حلقہ بندیاں کرانے کا حکم دیا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن، وزارت داخلہ، وزارت قانون اور سی ڈی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا حکم جاری کیا تھا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










