سیب کا درخت ۔ زندگی (11). ساڑھے تین سو سال پہلے لنکن شائر کے کسی باغ میں آئزک نیوٹن نے سوال کیا، “سیب نیچے کیوں گرتا ہے؟”۔ اس سوال کا جواب فزکس اور سائنس میں انقلاب ثابت ہوا۔ لیکن اس مشہور منظر میں نیوٹن نے ایک اور سوال نہیں کیا تھا اور وہ یہ کہ “سیب آخر اوپر پہنچا کیسے تھا؟”۔ اگر سیب کا نیچے گرنا معمہ تھا تو ہوا اور پانی کے ملاپ سے اس گول سیب کا درختوں کے اوپر نمودار ہونا کتنا بڑا معمہ تھا؟ آخر نیوٹن مقابلتاً اتنے سادہ سے سوال کے بارے میں ہی کیوں متفکر ہوئے اور سیب کے بننے کی اتنا بڑا گتھی ان کی نظر سے کیوں اوجھل رہ گئی؟ نیوٹن کے اس بارے میں متجسس نہ ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ سترہویں صدی کا نکتہ نظر یہ تھا کہ اگرچہ ہر شے کے لئے مکینکس (بشمول جاندار اشیاء کے) ایک ہی ہیں لیکن جاندار اشیاء کی اندرونی ڈائمنامکس پرسرار قوت کا نتیجہ ہیں جو سائنس کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ بائیولوجی، بائیوکیمسٹری اور مالیکیولر بائیولوجی میں ہونے والی پیشرفت نے وائٹل ازم کو سائنس سے بعد میں نکالا تھا اور اب تو کوئی بھی سنجیدہ سائنسدان اس بارے میں کوئی شک نہیں رکھتا کہ زندگی سائنس کے دائرہ کار میں ہے۔ لیکن پیراڈائم کو تبدیل ہوتے وقت لگتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایم آئی ٹی دنیا کی یونیورسٹیوں میں صفِ اول کا ادارہ ہے۔ اس کے اساتذہ میں 9 نوبل انعام یافتہ ہیں۔ ناسا کی سپیس فلائٹس میں سے کسی بھی دوسرے ادارے کے مقابلے میں یہاں کے گریجویٹس کا حصہ ہے۔ کوفی عنان جیسے سیاستدان، ہیولیٹ جیسے بزنس مین، رچرڈ فائن مین جیسے سائنسدان یہاں سے پڑھے ہیں۔ یہاں سے تعلق رکھنے افراد میں سے 97 نوبل انعام جیت چکے ہیں۔ اپریل 2007 میں اس یونیورسٹی کے کوانٹم انفارمیشن تھیوری پر کام کرنے والے فزسٹ اور ریاضی دان اپنے کلب میں اکٹھے تھے جہاں نئی تحقیق کا ایک دوسرے کو بتاتے تھے۔ گروپ میں سے ایک نے بتایا کہ ایک پیپر چھپا ہے جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ پودے کوانٹم کمپیوٹر ہیں۔ سیٹ لائیڈ بتاتے ہیں کہ اس فقرے کو سنتے ہی ایک قہقہ بلند ہوا۔ “کوانٹم کے نام پر گپ بازی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے”۔ ان کے اس ردِ عمل کی یہ وجہ تھی کہ دنیا کے تیزترین دماغوں اور اچھی فنڈنگ کے ساتھ برسوں سے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ کوانٹم کمپیوٹر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ جبکہ یہ آرٹیکل بتاتا تھا کہ گھاس کی پتی وہ کوانٹم کمالات دکھا سکتی ہے جو کوانٹم کمپیوٹرز کی بنیاد ہیں۔ “ہم کوانٹم کمپیوٹر بنا تو نہیں سکے لیکن اگر یہ مضمون ٹھیک تھا تو ہم سلاد میں انہیں کھا رہے تھے! be/A9tKncAdlHQ