جزیرے کا سبق ۔ ایسٹر آئی لینڈ (7). ایسٹر آئی لینڈ کی آٹھ صدیوں کی کہانی انسانوں کی کہانی ہے۔ ہمت اور مہم جوئی۔ تعاون سے کامیابی۔ حیران کن جدتیں۔ کامیابی اور مقابلہ بازی۔ سیاسی نظام۔ منظم معاشرت۔ انقلاب۔ کھیلیں اور تفریح۔ خوشی اور غم۔ خوشحالی اور فاقہ زدگی۔ جنگ و جدل۔ وہی کچھ جو انسان کرتے رہے ہیں۔ ایسٹر آئی لینڈ دنیا کی ان بہت ہی کم جگہوں میں سے ہے جہاں پر لکھائی شروع ہوئی۔ یہ ان کا منفرد رانگو رانگو رسم الخط ہے۔ یہاں پر رہنے والوں کو شاید علم بھی نہیں ہو گا کہ دنیا میں ان کے علاوہ بھی کوئی بستا ہے۔ سینکڑوں ٹن وزنی یادگاریں بنانا ان کے دنیا پر چھوڑے گئے نشان ہیں۔ یہاں تک کہ ماحولیاتی تباہی نے انہیں آن لیا۔ معاشرہ گرا دیا۔ کیتھرین اورلیاک سوال کرتی ہیں کہ “جب آپ کو پتا ہے کہ آپ کا انحصار جنگل پر ہے تو اس کو کیسے تباہ کر سکتے ہیں؟” یہ ایک بہت ہی اہم سوال ہے۔ جیرڈ ڈائمنڈ کہتے ہیں، “میں کئی بار سوچتا ہوں کہ وہ شخص جو جزیرے سے پام کا آخری درخت کاٹ رہا تھا، وہ کیا سوچ رہا تھا”۔ ویسا ہی جیسے آج کہا جاتا ہے؟ “ماحول نہیں، معیشت! blogspot. com/2019/02/blog-post_53. html