پاکستان کی معیشت 3 دہائیوں سے جمود کا شکار قرار

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- نوبل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات پروفیسر ڈیرون عجم اوغلو نے پاکستان کی معیشت کوگزشتہ تین دہائیوں سے جمودکاشکار قرار دیتے ہوئے کہاکہ کمزور ادارے۔
- ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے عالمی منظرنامے میں پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچرکی کمی کے باعث مزید پیچھے رہ جانے کے خطرے سے دوچار۔
- ان کاکہناتھاکہ پاکستان اپنے توانائی بحران پر قابو پانے کیلیے ٹرانسپورٹ کے شعبے کوبجلی پر منتقل کرسکتاہے،تاہم طاقتورمفاداتی گروہوں کی مزاحمت اس راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس (“From Potential to Performance”) میں ملک کی معاشی صورتحال پرماہرینِ معاشیات کی سخت تنقید نے نئی بحث چھیڑ دی۔
نوبل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات پروفیسر ڈیرون عجم اوغلو نے پاکستان کی معیشت کوگزشتہ تین دہائیوں سے جمودکاشکار قرار دیتے ہوئے کہاکہ کمزور ادارے، تعلیم پر ناکافی سرمایہ کاری اور ٹیکس وصولیوں کی کم شرح ملک کی معاشی پسماندگی کی بنیادی وجوہات ہیں۔
ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے عالمی منظرنامے میں پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچرکی کمی کے باعث مزید پیچھے رہ جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔کانفرنس میں شریک معروف ماہرِ معاشیات پروفیسر عاطف میاں نے بھی پاکستان میں اسٹریٹجک وژن کی کمی،اشرافیہ کی بالادستی،غیر مساوی معاشی ترقی اور داخلی امن کے قیام میں ناکامی کو بنیادی مسائل قرار دیا۔
ان کاکہناتھاکہ پاکستان اپنے توانائی بحران پر قابو پانے کیلیے ٹرانسپورٹ کے شعبے کوبجلی پر منتقل کرسکتاہے،تاہم طاقتورمفاداتی گروہوں کی مزاحمت اس راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











