جمعہ، 23 اکتوبر 2026ء12 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
اپنا پسرور
اپنا پسرور
pasrur.pk
بریکنگ نیوز
اسلام آباد؛ سی این جی اسٹیشن پر گیس لیکیج دھماکا، ایک شخص جاں بحقپاکستان کی سفارتی مساعیٹیکسٹائل مصنوعات کی قدر میں اضافے کی ضرورتریپ کیس ملزم کے خاندان کی متاثرہ لڑکی کو دو کروڑ تک کی پیشکش کا انکشاف ہوا ہے، مریم نوازسابق کرکٹر سلیم یوسف کی بیٹی اداکارہ ایمن سلیم پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئیںپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدلحافظ نعیم الرحمان نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیےماورہ حسین اور امیر گیلانی پہلی بار والدین بن گئےاپنا شناختی کارڈ نمبر زبانی یاد ہے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نادرا نے بڑی مشکل آسان کردیلاہور زیادتی کیس، غیرملکی خاتون زیادتی کے الزام سے مکر گئی، ملزم کو بے قصور قرار دے دیااسلام آباد؛ سی این جی اسٹیشن پر گیس لیکیج دھماکا، ایک شخص جاں بحقپاکستان کی سفارتی مساعیٹیکسٹائل مصنوعات کی قدر میں اضافے کی ضرورتریپ کیس ملزم کے خاندان کی متاثرہ لڑکی کو دو کروڑ تک کی پیشکش کا انکشاف ہوا ہے، مریم نوازسابق کرکٹر سلیم یوسف کی بیٹی اداکارہ ایمن سلیم پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئیںپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدلحافظ نعیم الرحمان نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیےماورہ حسین اور امیر گیلانی پہلی بار والدین بن گئےاپنا شناختی کارڈ نمبر زبانی یاد ہے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نادرا نے بڑی مشکل آسان کردیلاہور زیادتی کیس، غیرملکی خاتون زیادتی کے الزام سے مکر گئی، ملزم کو بے قصور قرار دے دیااسلام آباد؛ سی این جی اسٹیشن پر گیس لیکیج دھماکا، ایک شخص جاں بحقپاکستان کی سفارتی مساعیٹیکسٹائل مصنوعات کی قدر میں اضافے کی ضرورتریپ کیس ملزم کے خاندان کی متاثرہ لڑکی کو دو کروڑ تک کی پیشکش کا انکشاف ہوا ہے، مریم نوازسابق کرکٹر سلیم یوسف کی بیٹی اداکارہ ایمن سلیم پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئیںپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدلحافظ نعیم الرحمان نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیےماورہ حسین اور امیر گیلانی پہلی بار والدین بن گئےاپنا شناختی کارڈ نمبر زبانی یاد ہے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نادرا نے بڑی مشکل آسان کردیلاہور زیادتی کیس، غیرملکی خاتون زیادتی کے الزام سے مکر گئی، ملزم کو بے قصور قرار دے دیااسلام آباد؛ سی این جی اسٹیشن پر گیس لیکیج دھماکا، ایک شخص جاں بحقپاکستان کی سفارتی مساعیٹیکسٹائل مصنوعات کی قدر میں اضافے کی ضرورتریپ کیس ملزم کے خاندان کی متاثرہ لڑکی کو دو کروڑ تک کی پیشکش کا انکشاف ہوا ہے، مریم نوازسابق کرکٹر سلیم یوسف کی بیٹی اداکارہ ایمن سلیم پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئیںپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدلحافظ نعیم الرحمان نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیےماورہ حسین اور امیر گیلانی پہلی بار والدین بن گئےاپنا شناختی کارڈ نمبر زبانی یاد ہے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نادرا نے بڑی مشکل آسان کردیلاہور زیادتی کیس، غیرملکی خاتون زیادتی کے الزام سے مکر گئی، ملزم کو بے قصور قرار دے دیا
کاروبار7 گھنٹے پہلے•23 اکتوبر 2026•وقت اشاعت: رات 8:57
🇬🇧 English

ٹیکسٹائل مصنوعات کی قدر میں اضافے کی ضرورت

طاہر محمودسینئر سب ایڈیٹر
ٹیکسٹائل مصنوعات کی قدر میں اضافے کی ضرورت

📌 اہم نکات (خلاصہ):

  • اس کے لیے صنعتی تحقیق، تربیت یافتہ افرادی قوت، جدید مشینری، معیار کی جانچ، برانڈنگ اور عالمی خریداروں کے ساتھ طویل مدتی تجارتی تعلقات اہم ہیں۔
  • عالمی منڈی میں مقابلہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ کون سستا کپڑا بناتا۔
  • اس کے علاوہ مصنوعات کی یکسانیت، ماحول دوست پیداوار اور خریدار کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا۔

اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم بتاتا ہے کہ یہ شعبہ قومی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، تاہم برآمدات کی اصل قوت جانچنے کے لیے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ملک اپنی پیداوار میں کتنی مقامی قدر شامل کر رہا ہے۔ کپاس برآمد کرنا بے شک ایک معاشی سرگرمی ہے، دھاگہ تیار کرنا اس سے آگے کا مرحلہ ہے، کپڑے کی تیاری، رنگائی، ڈیزائننگ، سلائی، پیکنگ اور اپنے برانڈ کا نام ہو، اس کے تحت عالمی منڈی میں فروخت کرنا قدر میں مزید اضافے کے امکانات پیدا کر دیتا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ دھاگہ برآمد کرنا بے فایدہ ہے، بعض اوقات یہ مصنوعات بھی منافع بخش تجارت کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن طویل مدت میں پاکستان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ زیادہ قدر والی مصنوعات میں سرمایہ کاری کے ذریعے برآمدی آمدنی کیسے بڑھائی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ہی مقدار میں کپاس سے تیار ہونے والے مختلف درجوں کے سامان کی قیمت مختلف ہو سکتی ہے، اگر پاکستان جدید ٹیکنالوجی، بہتر معیار، ڈیزائن اور موٹر مارکیٹنگ کے ذریعے اپنی مصنوعات کی عالمی قیمت بڑھا سکتا ہے تو ایسی صورت میں اسے اپنی پیداواری صلاحیت سے زیادہ فایدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے صنعتی تحقیق، تربیت یافتہ افرادی قوت، جدید مشینری، معیار کی جانچ، برانڈنگ اور عالمی خریداروں کے ساتھ طویل مدتی تجارتی تعلقات اہم ہیں۔

عالمی منڈی میں مقابلہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ کون سستا کپڑا بناتا ہے۔ ایک وقت تھا اٹھارہویں صدی میں جب یہ دیکھا جاتا تھا کہ کسی شے کی تیاری میں کس ملک کو تخصیص حاصل ہے، یعنی اگر کپڑا ہے تو کون سا ملک ایسا ہے جہاں اس کا خام مال کپاس تیار ہوتا ہے اور اس بنا پر وہ سستا ترین کپڑا تیار کر سکتا ہے، لیکن اب معیار اہمیت اختیار کر گیا۔

معیار کے ساتھ بروقت ترسیل اور خاص طور پر پاکستان تمام تر خصوصیت کا حامل ہونے کے باوجود بروقت ترسیل کے کھاتے میں پیچھے چلا جاتا ہے کیونکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، ہڑتال، ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور ملک گیر ہڑتال یا پھر بندرگاہ میں ہڑتال کے باعث بروقت روانگی ممکن نہیں ہوتی اور بعض اوقات بات آرڈر کینسل ہونے تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعات کی یکسانیت، ماحول دوست پیداوار اور خریدار کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ جسے اکثر تجارتی اعداد و شمار میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے جیسے کہ ٹیکسٹائل برآمدات میں سہ ماہی بنیاد پر 5 فی صد اضافے کا جائزہ لیں تو یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ فیکٹری میں مشین چلانے کے لیے بجلی چاہیے، کپڑے کو رنگنے اور مختلف مراحل کے لیے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی اور کیمیکلز کی ضرورت ہوتی ہے۔ خام مال خریدنے کے لیے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ برآمدی آرڈرز کی تکمیل کے لیے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے، اگر پیداواری لاگت بڑھ جائے تو صنعتکار کے سامنے مشکل انتخاب آتا ہے منافع کم کرے، مصنوعات کی قیمت بڑھائے، پیداوار گھٹائے یا نئی سرمایہ کاری موخر کر۔

عالمی منڈی میں خریدار اضافی لاگت قبول نہیں کرتا۔ وہ دوسرے ممالک کے سپلائرز سے بھی قیمت اور معیار کا تقابل کرتا ہے کہیں سے اسے ذرا بھی فایدہ لگ رہا ہو اپنی خریداری کا رخ اس جانب موڑ دیتا ہے اور پہلے ہی کئی ملکوں کے صنعتکار اپنی پراڈکٹ لیے اس کے دروازے پر کھڑے ہوتے ہیں اور اسے بہترین پیکیج یا پیشکش کر رہے ہوتے ہیں لہٰذا پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے لیے توانائی کی مناسب قیمتوں اور بجلی گیس کی مستقل فراہمی، موثر ٹرانسپورٹ، آسان مالیاتی سہولیات ،ٹیکس کا نظام اور دیگر باتیں انتہائی اہم ہیں۔

⚖️ قانونی و صحافتی ماخذ، مصدقہ ریکارڈ و ڈس کلیمر پڑھیں ▼
📰 باضابطہ ماخذ و تصدیق: ایکسپریس نیوز قومی صحافتی و دستاویزی ریکارڈ

قانونی و ادارتی وضاحت (Disclaimer): یہ رپورٹ ملکی ضوابط (PECA 2016 / PEMRA) کے تحت معتبر قومی خبر رساں ادارے ایکسپریس نیوز کے جاری کردہ حقائق کی روشنی میں عوامی آگاہی کے لیے شائع کی گئی ہے۔ خبر کے تمام اصل صحافتی و دستاویزی ماخذ کا ریکارڈ ادارے کے پاس محفوظ ہے۔

اپنا پسرور ویب ڈیسک: یہ رپورٹ مصدقہ صحافتی و ادارتی ذرائع کی روشنی میں قارئین کے لیے شائع کی گئی ہے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں

تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں

چینل جوائن کریں ↗

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں (آپ کی دلچسپی کی خاص خبریں)

پسرور، پاکستان اور گردونواح کی اہم اور مقبول خبریں جو قارئین کی توجہ کا مرکز ہیں

تمام خبریں دیکھیں
23 اکتوبر 2026•1 دن پہلے•میاں اشفاق

پولیس افسران کے تبادلہ جات اور تعیناتیوں کے احکامات جاری

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن (ر) دوست محمد نے درج ذیل پولیس افسران کے تبادلہ جات اور تعیناتیوں کے احکامات جاری کیے ہیں: تھانہ سٹی ڈسکہ سے سب انسپکٹر محمد امین ایس ایچ او تھانہ پھوکلیا

25 جولائی 2026•Mian Ashfaq

دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا ایک ایسا رہنما جسے تاریخ نے کم یاد رکھا

دیوان بہادر ستیہ پرکاش سنگھا، معروف بہ نام ایس۔ پی۔ سنگھا، پسرور میں پیدا ہونے والے ماہرِ تعلیم، قانون دان، منتظم اور پارلیمانی رہنما تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی 1933ء کی سرکاری تاریخ

17 ستمبر 2024•Admin

‏پنجاب کانسٹیبلری میں ڈرائیورز کی بھرتیاں

‏پنجاب کانسٹیبلری میں ڈرائیورز کی بھرتیاں کانسٹیبلان (Bs-07) کی خالی آسامیوں کی بھرتی کے لیے اشتہار جاری۔ اہلیت کے معیار پر پورا اترنے والے تمام امیدواران بھرتی کے لیے اپلائی کر سک...

4 ستمبر 2024•Mian Ashfaq

پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈ ایف اے (12) کے رزلٹ کا اعلان کر رہے ہیں

رزلٹ دیکھنے کے لیے نیچے رزلٹ بٹن پر کلک کریں http://dlvr.it/TCnQLJ