طاہر محمود
تصدیق شدہ صحافیTahir Mahmood • نامہ نگار، دیہی ترقی و زرعی امور
چونڈہ، قلعہ کالروالہ، بدولہی اور باجوہ بیلٹ کے کسانوں، غلہ منڈی کے نرخ اور دیہی یونین کونسلز کے نمائندے۔
طاہر محمود کی شائع کردہ خبریں و رپورٹس (430)
زید اور کورسیا (4)
ایک محفل میں کسی واقف کار سے بات چیت چھڑ گئی جو ناقابلِ یقین تھی۔ ہم انہیں “زید” کہہ لیتے ہیں۔ سیاست، ویکسین اور بہت کچھ اور۔ وہ کسی اور ہی متبادل حقیقت میں رہائش پذیر تھے۔ ہاں، مج...
سپیس ٹائم کی معزولی
تصور کریں وہ وقت جب آپ نے وادی کاغان کا سفر کیا تھا۔ یا گاڑیوں کے لئے کسی نئے ڈیزائن کا۔ یا اپنے قریبی دوست کے شادی کا۔ یا اس دن کا جب لاہور ریڈیو سٹیشن سے اعلان کیا گیا ہو گا، “ک...
اوٹزی کے عشق (۴۰)
ستمبر 1991 میں ایک جرمن جوڑی کو کوہ پیمائی کرتے وقت ایک مردہ جسم ملا۔ اس کا نوے فیصد حصہ گلیشیر کی برف میں مضبوطی سے جما ہوا تھا۔ صرف سر اور کاندھے باہر تھے۔ برف میں یہ شخص بالکل م...
کچھ عام، کچھ خاص ۔ صحرا کی یاد (۳۵)
فرض کیجئے کہ آپ بچپن سے بہت سے پرندے دیکھتے رہے ہیں اور دماغ نے یہ عمومی اصول بنا لیا ہے کہ ایسے جاندار جن کے پر ہوں، وہ اڑ سکتے ہیں۔ لیکن آپ نے چڑیاگھر میں شترمرغ دیکھے ہیں۔ اب ...
یاد کا گنجلک (۳۰)
آئن سٹائن نے اپنے آخری الفاظ 1955 میں پرنسٹن کے ہسپتال میں ادا کئے۔ اپنی آخری سوچیں الفاظ میں بیان کیں۔ ہر ایک کو تجسس تھا کہ اس عظیم سائنسدان نے آخری وقت میں کیا کہا لیکن ہم ک...
کشمکش سے تنظیم (۲۵)
کسی شہر میں منشیات فروش ڈیلر اپنے علاقے کی حدود کا تعین کیسے طے کرتے ہیں؟ دو باتیں ممکن ہیں۔ شہر کی پلاننگ کرنے والے ایک اجلاس بلائیں جس میں تمام منشیات فروش شرکت کریں اور علاقوں ک...
دریا میں گھوڑا اور آبشار (۲۰)
دسیوں ہزار لوگ 1980 کی دہائی میں ایک عجیب چیز نوٹس کرنے لگے۔ جب وہ آئی بی ایم کا سیاہ اور سفید لوگو اپنے فلاپی ڈِسک میں دیکھتے تو یہ الفاظ سرخ نظر آتے۔ جب وہ کتاب کے صفحات پڑھتے ...
قیدی (۱۵)
دسمبر 1995 میں جین بوبی فرنچ میگزین ایلے کے چیف ایڈیٹر تھے۔ ایک روز، بغیر کسی پیشگی وارننگ کے، انہیں سٹروک ہوا۔ وہ کوما میں چلے گئے۔ بیس روز بعد انہیں ہوش آیا۔ وہ اپنے گرد و پیش س...
نئی حسیات (۱۰)
ہمارے گرد انفارمیشن کا سیلاب ہے۔ خبروں کی کہانیاں، بازار کے فیشن، معیشت کے اعداد اور بہت کچھ۔ اور ان کے تجزئے سے ہم آج کا اور آنے والے وقت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ...
زندہ دماغ (۵)
سکول کا طالبعلم جب دنیا کے نقشے کو دیکھتا ہے تو تصور کرتا ہے کہ ممالک کی سرحدیں بنیادی حقائق ہیں جو کبھی تبدیل نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس ایک ماہر مورخ یہ بات اچھی طرح سے سمجھتا ہے ک...
روشنی
ولیم نورڈہوس سادہ تجربات کی ایک سیریز کر رہے تھے۔ انہوں نے لکڑیوں کو آگ لگائی۔ انسان دسیوں ہزار سال سے لکڑی کاٹ کر جلاتے آئے ہیں لیکن نورڈہوس کے پاس ایک جدید آلہ بھی تھا جو روشن...
ٹوائلٹ
“بیان کی شائستگی ختم ہو رہی ہے۔ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ یہ سب بدبوار ہے”۔ لندن سٹی پریس کے 1858 کے اداریے کی یہ سرخی تھی۔ اس میں بدبو ایک استعارہ تھا جو سیاستدانوں کی ناشائستہ زبان کو ...













