تعلیمی مساوات، روشن مستقبل کی جدوجہد

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے سرکاری اسکولوں اور مدارس کے پانچ لاکھ ہونہار طلبہ و طالبات کو کروم بکس اور انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ اسی تناظر میں اہمیت رکھتا۔
- اس منصوبے میں مدارس کے طلبہ کو شامل کرنا بھی قابلِ توجہ ہے، کیونکہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کسی مخصوص طبقے یا تعلیمی ادارے کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔
- اس منصوبے کے لیے ٹوکیو کیئر فاؤنڈیشن کی معاونت، انٹرنیٹ کی سہولت اور ضروری تعلیمی سامان کی فراہمی امید افزا پیش رفت۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): کسی قوم کے مستقبل کا فیصلہ اس کے ایوانوں میں ہونے والی تقریروں سے نہیں، ان مواقع سے ہوتا ہے جو وہ اپنے محروم ترین بچے کو فراہم کرتی ہے، اگر ایک غریب گھرانے کا ذہین طالب علم جدید علوم تک رسائی حاصل کرلے تو اس کی کامیابی صرف اس خاندان کی تقدیر نہیں بدلتی، بلکہ پورے معاشرے کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول دیتی ہے۔ اس کے برعکس اگر قابلیت وسائل کی قلت، فرسودہ تعلیمی نظام اور حکومتی غفلت کی نذر ہوجائے تو قومیں اپنے ہی ہاتھوں اپنے مستقبل کی بنیادیں کمزور کردیتی ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے سرکاری اسکولوں اور مدارس کے پانچ لاکھ ہونہار طلبہ و طالبات کو کروم بکس اور انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، تاہم اس اقدام کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ ڈیجیٹل وسائل کی یہ فراہمی قومی نظامِ تعلیم کی وسیع تر اصلاحات سے کس حد تک منسلک کی جاتی۔
وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ دو برس میں پانچ لاکھ مستحق اور باصلاحیت طلبہ کو جدید آلات فراہم کیے جائیں گے، تاکہ وہ گھر بیٹھے برقی کتب خانوں سے استفادہ کرسکیں، دنیا بھر کے علمی ذخیرے تک رسائی حاصل کریں اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتیں نکھار سکیں۔ اس منصوبے میں مدارس کے طلبہ کو شامل کرنا بھی قابلِ توجہ ہے، کیونکہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کسی مخصوص طبقے یا تعلیمی ادارے کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ قابلیت نہ مذہبی اور عصری تعلیم کی تقسیم کی پابند ہے، نہ شہری اور دیہی حدود کی۔ ایک دور افتادہ بستی میں بیٹھا ذہین طالب علم بھی وہی علمی امکانات حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے جو بڑے شہر کے کسی خوش حال گھرانے کے بچے کو میسر ہیں۔
اس منصوبے کے لیے ٹوکیو کیئر فاؤنڈیشن کی معاونت، انٹرنیٹ کی سہولت اور ضروری تعلیمی سامان کی فراہمی امید افزا پیش رفت ہے۔ ماضی میں دس برس کے دوران چھ لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے مقابلے میں دو برس میں پانچ لاکھ کروم بکس فراہم کرنے کا ہدف حکومتی ترجیحات میں تیزی کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم محض آلات کی تعداد کو کامیابی کا حتمی پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ان آلات سے کتنے طلبہ کی تعلیمی استعداد میں اضافہ ہوگا، کتنے نوجوان ڈیجیٹل مہارتیں سیکھیں گے اور کتنے افراد ان صلاحیتوں کو باعزت روزگار میں تبدیل کرسکیں گے۔ کمپیوٹر علم تک رسائی کا وسیلہ ہے، علم کا متبادل نہیں، اس کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ، موزوں نصاب، مستحکم انٹرنیٹ اور رہنمائی کا موثر نظام بھی درکار ہے۔اگر کسی طالب علم کو کروم بک تو مل جائے لیکن اس کے اسکول میں بجلی، قابلِ اعتماد انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل تدریس کی سہولت موجود نہ ہو تو یہ قومی سرمایہ اپنی پوری افادیت حاصل نہیں کرسکے گا۔ اسی طرح آلات کی تقسیم میں شفافیت، مستحق طلبہ کی درست نشاندہی، ان کی حفاظت، مرمت اور تکنیکی معاونت کے مستقل انتظامات بھی ضروری ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ منصوبے کے نتائج باقاعدگی سے شائع کرے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ کتنے طلبہ مستفید ہوئے، ان کی تعلیمی کارکردگی میں کیا تبدیلی آئی اور اس سرمایہ کاری نے عملی زندگی کے لیے کون سی نئی استعداد پیدا کی۔ اس طرح ایک خوش آئند اعلان قابلِ پیمائش قومی منصوبے میں تبدیل ہوسکتا۔
اسی کے ساتھ دانش اسکولوں کا منصوبہ بھی اہم ہے۔ وزیراعظم کے مطابق ملک بھر میں ستائیس دانش اسکول زیر ِ تعمیر ہیں، جہاں مستحق بچوں کو مفت تعلیم اور سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ ایسے ادارے اس تصور کو تقویت دے سکتے ہیں کہ غربت کسی بچے کی ذہانت اور مستقبل پر فیصلہ کن مہر نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم دانش اسکولوں کی کامیابی اسی وقت وسیع قومی تبدیلی کا ذریعہ بنے گی جب معیاری تعلیم چند مخصوص اداروں تک محدود رہنے کے بجائے عام سرکاری اسکولوں تک بھی پہنچے۔ چند مثالی درس گاہیں قومی تعلیمی نظام کی عمومی کمزوری کا مکمل متبادل نہیں بن سکتیں۔ ریاست کی اصل آزمائش یہ ہے کہ وہ لاکھوں عام بچوں کے لیے بھی معیاری تعلیم کے امکانات پیدا کرے۔
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی صورتِ حال اس ضرورت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ کراچی، لاہور اور فیصل آباد جیسے بڑے شہری مراکز میں سرکاری جامعات مختلف علمی اور فنی شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی آبادی، داخلوں کی طلب، تحقیقی ضروریات اور جدید پیشہ ورانہ تعلیم کے تقاضوں کے مقابلے میں ان کی گنجائش اور وسائل کا جامع جائزہ ناگزیر ہے۔ ملک بھر میں موجود یونیورسٹیاں اور دیگر سرکاری ادارے اعلیٰ تعلیم کے اہم مراکز ہیں جو اہم کردار ادا کررہی ہیں۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











