حضرت شاہ دریا دیوان اور شاہ ببنؒ (میاں برخوردار)
پسرور کے قدیم صوفیائے کرام و اولیائے کاملین
پسرور کے قدیم اور روحانی بزرگ جن کے مزارات صدیوں سے شہر کے مرکز میں واقع ہیں اور جن کے دم قدم سے خطۂ پسرور میں امن، محبت اور تصوف کی خوشبو پھیلی۔

تفصیلی احوالِ زندگی و سوانح
حضرت شاہ دریا دیوان اور شاہ ببن میاں برخوردارؒ پسرور کے ان قدیم روحانی بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی آمد مغل شہنشاہ شاہجہان اور اورنگزیب عالمگیر کے دور میں ہوئی۔
آپ دونوں بزرگوں نے خطۂ پسرور میں صوفیانہ رواداری، لنگر عام اور اخوت کی عظیم مثالیں قائم کیں۔ شاہ دریا دیوان کا مزار پسرور کے تاریخی حصے میں نالہ ڈیک کے قریب واقع ہے جہاں صدیوں تک مسافروں اور درویشوں کے لیے قیام و طعام کا بندوبست رہتا تھا۔ برطانوی عہد کے ابتدائی ریکارڈز 1855ء اور 1883ء کے گزٹیر میں بھی ان مزارات کے اوقاف اور تاریخی میلوں کا مفصل اندراج موجود ہے۔
نمایاں تاریخی کارنامے و یادگار خدمات
خطۂ پسرور میں تصوف، روحانیت اور امن و رواداری کا فروغ
مسافروں، یتیموں اور ناداروں کے لیے مستقل لنگر خانوں کا قیام
پسرور کی لوک روایات اور روحانی شناخت کی تشکیل
مستند تاریخی کتب و مآخذ (Primary Sources)
مندرجہ بالا احوالِ زندگی اور تاریخی واقعات درج ذیل مستند تواریخ، سرکاری گزٹیرز اور تاریخی دستاویزات سے تصدیق شدہ ہیں:
متعلقہ علاقہ و گاؤں
اس شخصیت کا تعلق تحصیل تحصیل پسرور کے علاقے شہر پسرور سے ہے۔
شہر پسرور کی مکمل معلومات دیکھیںتحصیل پسرور کی تمام تاریخی شخصیات
تحصیل پسرور کے تمام مغل نوابوں، صوفیاء، 1965ء جنگی ہیروز اور ادباء کی فہرست دیکھیں۔
مکمل ڈائریکٹری دیکھیں
