پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہرؒ
بین الاقوامی ماہرِ عربیات، مترجم و صدارتی تمغۂ امتیاز یافتہ اسکالر
پسرور کے معروف قصبے بڈیانہ سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ محقق، پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے سابق ڈین اور امام غزالی کی احیاء العلوم کے عظیم مترجم۔

تفصیلی احوالِ زندگی و سوانح
پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر تحصیل پسرور کے تاریخی قصبے بڈیانہ کے ایک علمی و روحانی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پسرور اور سیالکوٹ سے حاصل کی اور بعد ازاں قاہرہ (مصر) کی جامعہ الازہر اور پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ ترین ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ دنیائے اسلام میں عربی زبان و ادب، اسلامی فلسفے اور فقہ کے مستند ترین اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔
انہوں نے اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں شعبہ عربی کے سربراہ اور کالج کے ڈین کی حیثیت سے کئی دہائیوں تک علمی خدمات انجام دیں۔ ان کا سب سے شاندار کارنامہ حجۃ الاسلام حضرت امام ابو حامد الغزالیؒ کی تصنیف 'احیاء علوم الدین' (چار ضخیم جلدوں) کا جامع اور فصیح اردو ترجمہ ہے جسے علمی حلقوں میں سند کا درجہ حاصل ہے۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی بے لوث علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغۂ امتیاز سے نوازا۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل اور او آئی سی مجمع الفقہ کے اعزازی رکن بھی رہے۔
نمایاں تاریخی کارنامے و یادگار خدمات
امام غزالی کی شہرۂ آفاق کتاب 'احیاء العلوم' کا مستند و فصیح اردو ترجمہ (4 جلدیں)
پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے ڈین اور پروفیسر ایمریٹس کی حیثیت سے خدمات
حکومتِ پاکستان کی جانب سے علمی و ادبی خدمات پر صدارتی 'تمغۂ امتیاز'
عربی، اردو اور فارسی میں 30 سے زائد کتب اور 100 سے زائد تحقیقی مقالات کی تصنیف
مستند تاریخی کتب و مآخذ (Primary Sources)
مندرجہ بالا احوالِ زندگی اور تاریخی واقعات درج ذیل مستند تواریخ، سرکاری گزٹیرز اور تاریخی دستاویزات سے تصدیق شدہ ہیں:
متعلقہ علاقہ و گاؤں
اس شخصیت کا تعلق تحصیل تحصیل پسرور کے علاقے موضع بڈیانہ سے ہے۔
موضع بڈیانہ کی مکمل معلومات دیکھیںتحصیل پسرور کی تمام تاریخی شخصیات
تحصیل پسرور کے تمام مغل نوابوں، صوفیاء، 1965ء جنگی ہیروز اور ادباء کی فہرست دیکھیں۔
مکمل ڈائریکٹری دیکھیں
