نواب فداء خان (خانِ دوراں)
نوابِ پسرور و میرِ عماراتِ شاہجہانی
مغل دربار کے بااثر امیر اور پسرور کے تاریخی گورنر، جنہوں نے پسرور میں حوضِ شاہی (عظیم تالاب)، باغات اور بارہ دریاں تعمیر کروائیں جن کا ذکر تزکِ جہانگیری میں ملتا ہے۔

تفصیلی احوالِ زندگی و سوانح
نواب فداء خان جنہیں مغل دربار سے 'خانِ دوراں' کا معزز خطاب عطا کیا گیا تھا، مغل شہنشاہ نور الدین محمد جہانگیر اور شہنشاہ شاہجہان کے دور میں خطۂ پسرور کے بااختیار نواب اور جاگیردار رہے۔ مغل درباری تواریخ 'عملِ صالح' اور 'شاہجہان نامہ' کے مطابق نواب فداء خان فنِ تعمیر کے دلدادہ تھے اور انہوں نے پسرور کو ایک اجاڑ بستی سے نکال کر لاہور اور جموں کے درمیان ایک پررونق شاہی تجارتی پڑاؤ میں تبدیل کیا۔
نواب فداء خان کا سب سے بڑا اور لازوال کارنامہ پسرور کا وہ عظیم الشان پختہ تالاب (حوضِ شاہی) تھا جو ایک وسیع رقبے پر تعمیر کیا گیا جس کے چاروں طرف پختہ سیڑھیاں، برآمدے، فوارے اور باغات لگوائے گئے۔ شہنشاہ جہانگیر نے اپنی خود نوشت 'تزکِ جہانگیری' میں 1620ء کے دوران کشمیر روانگی کے وقت پسرور میں نواب فداء خان کے بنائے ہوئے اسی تالاب اور شکارگاہ میں قیام کیا اور تالاب کی خوبصورتی کی کھلے دل سے تعریف کی۔ نواب فداء خان کے دور میں پسرور میں کئی مساجد، سرائیں اور پل تعمیر ہوئے جن کے آثار برطانوی دور کے گزیٹیئرز میں بھی محفوظ ہیں۔
نمایاں تاریخی کارنامے و یادگار خدمات
پسرور میں تاریخی حوضِ شاہی (عظیم تالاب) اور بارہ دریوں کی تعمیر
لاہور-جموں شاہی تجارتی گزرگاہ پر مسافر خانوں اور سرائے کا قیام
شاہی مغل لشکر کے لیے پسرور میں مستقل چھاؤنی و اناج ذخیرہ گاہ کی بنیاد
پسرور میں نالہ ڈیک کے پانی سے زرعی اراضی کی باقاعدہ نہری تقسیم
مستند تاریخی کتب و مآخذ (Primary Sources)
مندرجہ بالا احوالِ زندگی اور تاریخی واقعات درج ذیل مستند تواریخ، سرکاری گزٹیرز اور تاریخی دستاویزات سے تصدیق شدہ ہیں:
متعلقہ علاقہ و گاؤں
اس شخصیت کا تعلق تحصیل تحصیل پسرور کے علاقے شہر پسرور سے ہے۔
شہر پسرور کی مکمل معلومات دیکھیںتحصیل پسرور کی تمام تاریخی شخصیات
تحصیل پسرور کے تمام مغل نوابوں، صوفیاء، 1965ء جنگی ہیروز اور ادباء کی فہرست دیکھیں۔
مکمل ڈائریکٹری دیکھیں
