میجر ضیاء الدین احمد عباسی شہید (ستارہ جرات)
ہیرو معرکۂ چونڈہ و محافظِ تحصیل پسرور 1965ء
25 کیولری کے نڈر اسکواڈرن کمانڈر، جنہوں نے چونڈہ، گڈگور اور فلورہ میں بھارتی 1st آرمرڈ ڈویژن کے درجنوں ٹینک تباہ کر کے پسرور اور ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔

تفصیلی احوالِ زندگی و سوانح
میجر ضیاء الدین احمد عباسی شہید، پاک فوج کی مایہ ناز آرمرڈ رجمنٹ '25 کیولری' (جسے بعد ازاں 'Men of Steel' کا خطاب ملا) کے بی اسکواڈرن کے کمانڈر تھے۔ ستمبر 1965ء میں جب بھارتی فوج نے چونڈہ-پسرور سیکٹر سے اپنے 1st آرمرڈ ڈویژن (جس میں 225 جدید سینچورین اور شرمن ٹینک شامل تھے) کے ساتھ پاکستان کو دولخت کرنے اور پسرور پر قبضہ کر کے جی ٹی روڈ کاٹنے کے لیے حملہ کیا، تو اس وقت محاذ پر پاکستان کے پاس ٹینکوں کی شدید کمی تھی۔
11 ستمبر 1965ء کو چونڈہ کے قریب گڈگور اور وزیروالی کے محاذ پر میجر عباسی نے اپنے چند پیٹن ٹینکوں کے ساتھ دشمن کے پورے بریگیڈ کو ایسا کاری جواب دیا کہ بھارتی ٹینکوں کی قطاریں جلتی چلی گئیں۔ وہ ٹینک کے کمانڈر کپولا پر سر نکال کر بغیر کسی خوف کے اپنے اسکواڈرن کو گن فائر کی ہدایات دے رہے تھے کہ دشمن کا ایک گولہ ان کے ٹینک پر لگا اور انہوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی اس بے مثال قربانی اور قیادت نے دشمن کے حملے کی کمر توڑ دی اور پسرور کی سرزمین دشمن کے قبضے سے محفوظ رہی۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں بعد از شہادت 'ستارہ جرات' کے اعلیٰ فوجی اعزاز سے نوازا۔
نمایاں تاریخی کارنامے و یادگار خدمات
معرکۂ چونڈہ میں دشمن کی 1st بلیک ایلیفنٹ آرمرڈ ڈویژن کی پیش قدمی کو روکنا
گڈگور اور فلورہ محاذ پر دشمن کے 18 سے زائد سینچورین ٹینک تباہ کروانا
پسرور-سیالکوٹ ریلوے لائن اور شہر پسرور کے دفاع کو یقینی بنانا
حکومتِ پاکستان کی طرف سے بعد از شہادت 'ستارہ جرات' کا اعزاز
مستند تاریخی کتب و مآخذ (Primary Sources)
مندرجہ بالا احوالِ زندگی اور تاریخی واقعات درج ذیل مستند تواریخ، سرکاری گزٹیرز اور تاریخی دستاویزات سے تصدیق شدہ ہیں:
متعلقہ علاقہ و گاؤں
اس شخصیت کا تعلق تحصیل تحصیل پسرور کے علاقے قصبہ چونڈہ سے ہے۔
قصبہ چونڈہ کی مکمل معلومات دیکھیںتحصیل پسرور کی تمام تاریخی شخصیات
تحصیل پسرور کے تمام مغل نوابوں، صوفیاء، 1965ء جنگی ہیروز اور ادباء کی فہرست دیکھیں۔
مکمل ڈائریکٹری دیکھیں
