چوہدری خوشی محمد ناظرؔ
عظیم کلاسیکی شاعر، خالقِ نظم 'جوگن' و مقتدر بیوروکریٹ
اردو اور پنجابی زبان کے صاحبِ طرز شاعر جن کی طویل نظم 'جوگن' اردو ادب کا شاہکار سمجھی جاتی ہے اور جن کے کلام کے علامہ محمد اقبال بھی معترف تھے۔

تفصیلی احوالِ زندگی و سوانح
چوہدری خوشی محمد ناظرؔ خطۂ پسرور و کوٹلی لوہاراں کے معزز زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ریاست پٹیالہ اور ریاست جموں و کشمیر کے انتظامی ڈھانچے میں انتہائی اہم مناصب پر خدمات انجام دیں اور کشمیر میں وزیرِ داخلہ اور ریونیو کمشنر کے عہدے تک پہنچے۔ اس اعلیٰ سرکاری حیثیت کے باوجود ان کی روح ایک درویش اور سچے شاعر کی تھی۔
ان کا شعری مجموعہ 'نغمۂ فردوس' اردو اور پنجابی شاعری کے کلاسیکی خزانوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی شاہکار نظم 'جوگن' نے برصغیر کے ادبی افق پر تہلکہ مچا دیا تھا۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ان کی شعری باریکیوں اور زبان دانی کے بڑے قدردان تھے۔ چوہدری خوشی محمد ناظر نے پسرور اور سیالکوٹ کی زرعی تہذیب، ندی نالوں، کسانوں کے جذبات اور پنجاب کے حسن کو اپنی شاعری میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
نمایاں تاریخی کارنامے و یادگار خدمات
اردو شاعری کی لازوال اور کلاسیک نظم 'جوگن' کی تخلیق
شاہکار شعری مجموعہ 'نغمۂ فردوس' کی اشاعت
ریاست پٹیالہ و کشمیر میں پسماندہ طبقات اور کاشتکاروں کے لیے تعلیمی و زرعی اصلاحات
علامہ محمد اقبال کے ہم عصر و معتمد علمی و ادبی رفیق
مستند تاریخی کتب و مآخذ (Primary Sources)
مندرجہ بالا احوالِ زندگی اور تاریخی واقعات درج ذیل مستند تواریخ، سرکاری گزٹیرز اور تاریخی دستاویزات سے تصدیق شدہ ہیں:
متعلقہ علاقہ و گاؤں
اس شخصیت کا تعلق تحصیل تحصیل پسرور کے علاقے پسرور و مضافات سے ہے۔
پسرور و مضافات کی مکمل معلومات دیکھیںتحصیل پسرور کی تمام تاریخی شخصیات
تحصیل پسرور کے تمام مغل نوابوں، صوفیاء، 1965ء جنگی ہیروز اور ادباء کی فہرست دیکھیں۔
مکمل ڈائریکٹری دیکھیں
