فضل الٰہی پہلوان (رستمِ پسرور)
خطۂ پنجاب کے مایہ ناز پہلوان و دیسی اکھاڑوں کے استاد
پسرور کے روایتی اکھاڑوں کے بے تاج بادشاہ، جنہوں نے گوجرانوالہ، لاہور اور سیالکوٹ کے عظیم الشان دنگلوں میں نام پیدا کر کے پسرور کا نام روشن کیا۔

تفصیلی احوالِ زندگی و سوانح
پسرور کی تاریخ میں جہاں علم و ادب اور روحانیت کے چراغ روشن رہے، وہیں یہ خطہ طاقت، دیسی اکھاڑوں اور پہلوانی کی صدیوں پرانی روایت کا امین بھی رہا ہے۔ فضل الٰہی پہلوان کا تعلق پسرور کے روایتی پہلوان گھرانے سے تھا۔ انہوں نے نوعمری میں ہی مٹی کے اکھاڑوں میں قدم رکھا اور گوجرانوالہ کے اکھاڑہ جات کے بڑے بڑے نامی گرامی پہلوانوں کو زیر کیا۔
انہوں نے تقسیمِ ہند سے قبل اور بعد کے دور میں لاہور کے منٹو پارک (اقبال پارک)، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے تاریخی دنگلوں میں پسرور کی نمائندگی کی اور 'رستمِ پسرور' کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے پسرور شہر میں کئی نوجوانوں کو اکھاڑے کی تربیت دی اور منشیات و برائیوں سے دور رکھ کر صحت مند روایات کو پروان چڑھایا۔ پسرور کے سالانہ میلوں میں ان کے شاگردوں کے دنگل پورے خطے میں شوق سے دیکھے جاتے تھے۔
نمایاں تاریخی کارنامے و یادگار خدمات
پنجاب کے تاریخی دنگلوں میں ناقابلِ شکست رہ کر 'رستمِ پسرور' کا خطاب پانا
پسرور شہر میں دیسی اکھاڑے کا قیام اور نوجوانوں کی بلا معاوضہ جسمانی و اخلاقی تربیت
پنجاب کی قدیم روایتی پہلوانی اور میلوں کی ثقافت کو زندہ رکھنا
ضلع سیالکوٹ کے اسپورٹس گزٹ میں تاریخ ساز پہلوان کی حیثیت سے اندراج
مستند تاریخی کتب و مآخذ (Primary Sources)
مندرجہ بالا احوالِ زندگی اور تاریخی واقعات درج ذیل مستند تواریخ، سرکاری گزٹیرز اور تاریخی دستاویزات سے تصدیق شدہ ہیں:
متعلقہ علاقہ و گاؤں
اس شخصیت کا تعلق تحصیل تحصیل پسرور کے علاقے شہر پسرور سے ہے۔
شہر پسرور کی مکمل معلومات دیکھیںتحصیل پسرور کی تمام تاریخی شخصیات
تحصیل پسرور کے تمام مغل نوابوں، صوفیاء، 1965ء جنگی ہیروز اور ادباء کی فہرست دیکھیں۔
مکمل ڈائریکٹری دیکھیں
