بان باجوہ و چونڈہ کے تاریخی باجوہ عمائدین
آئینِ اکبری اور قرونِ وسطیٰ کے نامور زرعی و قبائلی عمائدین
پسرور کے قدیم ترین باجوہ جٹ قبیلے کے سردار، جن کے زرعی و عسکری اثر و رسوخ اور قلعہ جات کا تذکرہ آئینِ اکبری اور برطانوی سیٹلمنٹ رپورٹس میں باقاعدہ محفوظ ہے۔

تفصیلی احوالِ زندگی و سوانح
پسرور کا گاؤں 'بان باجوہ' اور اس سے ملحقہ زرعی بستیاں باجوہ قبیلے کا تاریخی مرکز سمجھی جاتی ہیں۔ آئینِ اکبری میں پرگنہ پسرور کے تحت باجوہ زمینداروں کا باضابطہ ذکر ملتا ہے جو شاہی دربار کو گھڑ سوار اور پیادہ سپاہ فراہم کرتے تھے۔ اٹھارویں صدی میں سکھ مثلوں کے دور میں سردار جودھ سنگھ باجوہ اور سردار دیوان سنگھ باجوہ نے پسرور اور چونڈہ کے گرد و نواح میں اپنے مضبوط قلعہ جات اور گڑھیاں قائم کیں۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں اس علاقے کے سرداروں نے لاہور دربار کی اعلیٰ انتظامیہ اور گھڑ سوار دستوں میں اہم مناصب سنبھالے۔ انگریز مؤرخ سر ڈینزل ابٹسن اور ای اے پرنسپ نے اپنی تاریخی کتب میں تسلیم کیا کہ تحصیل پسرور کے باجوہ سردار اپنی مہمان نوازی، عسکری روایت اور زرعی اصلاحات کے باعث پورے خطۂ رچنا دوآب میں باوقار مقام رکھتے تھے۔
نمایاں تاریخی کارنامے و یادگار خدمات
عہدِ اکبری میں پرگنہ پسرور کے شاہی ریونیو اور گھڑ سوار دستوں کی قیادت
پسرور میں کسانوں کی آبادکاری اور باسمتی چاول کی باقاعدہ کاشت کا تاریخی فروغ
بان باجوہ اور چونڈہ میں قلعہ بندی اور عوامی دفاعی نظام کی بنیاد
برصغیر کے تاریخی ریونیو اور قبائلی ریکارڈز میں ممتاز تسلیم شدہ حیثیت
مستند تاریخی کتب و مآخذ (Primary Sources)
مندرجہ بالا احوالِ زندگی اور تاریخی واقعات درج ذیل مستند تواریخ، سرکاری گزٹیرز اور تاریخی دستاویزات سے تصدیق شدہ ہیں:
متعلقہ علاقہ و گاؤں
اس شخصیت کا تعلق تحصیل تحصیل پسرور کے علاقے موضع بان باجوہ و چونڈہ سے ہے۔
موضع بان باجوہ و چونڈہ کی مکمل معلومات دیکھیںتحصیل پسرور کی تمام تاریخی شخصیات
تحصیل پسرور کے تمام مغل نوابوں، صوفیاء، 1965ء جنگی ہیروز اور ادباء کی فہرست دیکھیں۔
مکمل ڈائریکٹری دیکھیں
