افضل احسن رندھاوا
لیجنڈری پنجابی ناول نگار، ادیب، وکیل و سابق رکن قومی اسمبلی
پنجابی زبان کے عالمی شہرت یافتہ فکشن نگار، جن کے ناول 'دیوا تے دریا' اور 'دوآبا' پنجاب کے کسانوں اور مٹی کے لازوال مرقع ہیں، آپ 1972ء میں قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔

تفصیلی احوالِ زندگی و سوانح
افضل احسن رندھاوا کا آبائی تعلق تحصیل پسرور کے مضافاتی گاؤں اور چونڈہ روڈ کی کسان برادری سے تھا۔ انہوں نے مشن ہائی اسکول پسرور اور مرے کالج سیالکوٹ سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں قانون کی ڈگری حاصل کر کے وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ رندھاوا صاحب نے پنجاب کی مٹی، نالہ ڈیک کے پانیوں اور پسرور کی دیہی اقدار کو پنجابی فکشن کے اعلیٰ ترین شاہکاروں میں ڈھالا۔
ان کے ناول 'دیوا تے دریا' کو پنجاب بھر میں جدید پنجابی ناول نگاری کا سنگِ میل قرار دیا گیا جس کا کئی ملکی و غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ اس کے علاوہ ان کے ناول 'دوآبا'، 'سورج گرہن' اور افسانوی مجموعے 'رن تلوار تے گھوڑا' بین الاقوامی سطح پر پڑھائے جاتے ہیں۔ وہ 1972ء کے عبوری آئین کے وقت پاکستان کی قومی اسمبلی کے متحرک رکن رہے اور انہوں نے کسانوں اور محنت کشوں کے حقوق کے لیے پارلیمان میں آواز بلند کی۔
نمایاں تاریخی کارنامے و یادگار خدمات
پنجابی ادب کے شاہکار ترین ناول 'دیوا تے دریا' اور 'دوآبا' کی تخلیق
اکادمی ادبیاتِ پاکستان کا باوقار کمالِ فن ایوارڈ اور صدارتی پرائیڈ آف پرفارمنس
1972ء میں قومی اسمبلی آف پاکستان (MNA) کے منتخب رکن کی حیثیت سے آئینی خدمات
پنجابی زبان و ثقافت کو بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے نصاب تک پہنچانا
مستند تاریخی کتب و مآخذ (Primary Sources)
مندرجہ بالا احوالِ زندگی اور تاریخی واقعات درج ذیل مستند تواریخ، سرکاری گزٹیرز اور تاریخی دستاویزات سے تصدیق شدہ ہیں:
متعلقہ علاقہ و گاؤں
اس شخصیت کا تعلق تحصیل تحصیل پسرور کے علاقے موضع بھڑتھ و چونڈہ روڈ سے ہے۔
موضع بھڑتھ و چونڈہ روڈ کی مکمل معلومات دیکھیںتحصیل پسرور کی تمام تاریخی شخصیات
تحصیل پسرور کے تمام مغل نوابوں، صوفیاء، 1965ء جنگی ہیروز اور ادباء کی فہرست دیکھیں۔
مکمل ڈائریکٹری دیکھیں
