سیاسی بے چینی پر مبنی رجحانات

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- آپ سمجھتے ہیں کہ ہم نے فلاں فلاں اصلاحات کردی ہیں، اس لیے سسٹم ٹھیک چل رہا ہے تو کچھ حد تک یہ استدلال ٹھیک۔
- یہ حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں حکومتوں کے لیے جینزی خطرے کے طور پر سامنے آرہی ہیں اور نہ صرف ان کی طاقت بڑھ رہی ہے بلکہ جین زی سے اگلی نسل بھی نیا خطرہ بن رہی۔
- پاکستان میں روائتی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی سیاست دم توڑ رہی ہے اوران کی قیادت کی نئی نسل میں کوئی اہمیت نہیں۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): یہ جو اس وقت معاشرے کے اندر ایک سیاسی، سماجی اور معاشی بے چینی محسوس کی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ اس سے کیسے نمٹا جاسکے گا۔اگرچہ اشرافیہ کے غالب حصے کا خیال ہے کہ موجود نظام کو خطرہ نہیں ہے لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس نظام کو اگر کوئی خطرہ ہے بھی تو وہ نظام کے اندر سے ہے۔کیونکہ جب آپ مختلف معاملات پر داخلی طور پر کمزور ہوتے ہو تو باہر بیٹھی قوتیں اس خلا سے فائدہ اٹھا کر آپ کو مزید کمزور کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
آپ سمجھتے ہیں کہ ہم نے فلاں فلاں اصلاحات کردی ہیں، اس لیے سسٹم ٹھیک چل رہا ہے تو کچھ حد تک یہ استدلال ٹھیک ہے۔لیکن اپنے بنیادی معاملات پر سیاست میں تاحال ٹکراو کی صورت دیکھنے کو مل رہی ہے، اس سے کسی بھی طور پر نظریں ہم چرانھیں سکتے۔جب عام لوگوں بالخصوص نئی نسل کے معاشی معاملات حل نہیں ہوںگے اور ان کو معاشی تحفظ نہیں دیا جائے گا تو وہ زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہیں گے۔بالخصوص ایک ایسے موقع پر جب دنیا کی سیاست میں ایک طرف جینزی بڑی قوت کے طور پر سامنے آئے ہیں تو دوسری طرف ان کی آوازوں کو ڈیجیٹل دنیا کی بنیاد پر طاقت مل گئی۔
یہ حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں حکومتوں کے لیے جینزی خطرے کے طور پر سامنے آرہی ہیں اور نہ صرف ان کی طاقت بڑھ رہی ہے بلکہ جین زی سے اگلی نسل بھی نیا خطرہ بن رہی ہے۔ نئی نسل کوئی نظریاتی جنگ نہیں بلکہ جذباتیت کے زیر اثر حکومتوں کے خلاف بھڑک رہی ہے ۔یہ ہی کچھ پاکستان میں بھی برپا کرنے کی کوشش ہورہی ہے اور انھیں موجودہ حکمرانی کے نظام کے خلاف اٹھنے پر اکسایا جارہا۔
پاکستان میں روائتی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی سیاست دم توڑ رہی ہے اوران کی قیادت کی نئی نسل میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔کیونکہ فرسودہ جماعتوں کی قیادت نئی نسل کے مسائل کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ۔جس کی بنیاد پر نئی نسل میں اس نظام اور اس سے جڑے افراد کے خلاف سخت ردعمل پایا جاتا ہے۔ ہم مجموعی طور پر ان محرکات کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ عام لوگوں کے اصل مسائل کیا ہیں یا ان کو کن بنیادوں پر تحفظات یا گلے شکوے ہیں۔
جب اس نئی نسل کو کاکروچ کا طعنہ دیں گے تو اس کا نتیجہ وہی نکلے گا جو بھارت میں سامنے آیا ہے ۔یہ جو تعلیم ،صحت،روزگار میں بڑھتے ہوئے مسائل ہیں جن میں مہنگی، تعلیم یا فیسوں میں اضافہ ،صحت میں بڑھتے ہوئے اخراجات،روزگار کا عدم تحفظ یا آمدنی کے محدود ذرائع اور سیاسی نظام میں ان کے لیے محدود آپشن یا عملاً سیاسی تناؤ اور گھٹن اس کا حل سیاسی اور حکمرانی کے نظام سے نکالنا ہوگا۔وگرنہ اشرافئی اور عوام کے درمیان بڑھتا فاصلہ معاشرتی ٹکراؤ کی شکل میں سامنے آسکتا۔
جب تک ہم اس نئی یا پرانی نسل کے معاملات کو سمجھنے کیے اپنے موجودہ سیاسی،معاشی ،قانونی اور سماجی نظام کا جائزہ اور تجزیہ نہیں کریں گے تو بہتری یا مثبت تبدیلی کا نیا بیانیہ سامنے نہیں آسکے گا۔یہ جو سیاست اور اقدار کی کشمکش کو اشرافیہ کے مفادات تک محدود کرکے دیکھنا ہے، اس خیال کو ہر صورت توڑنا ہوگا۔کیونکہ یہ جو جنگ عام افراد اور طاقت ور طبقات کے درمیان ہے، اس میں توازن پیدا کرنا ہوگا اور اس نظام میں عام آدمی کے حصے کو یقینی بنانا ہوگا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں







