بلند شرح سود، پاکستان کا 49 کروڑ ڈالر قرض لینے سے انکار

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق قرض کی لاگت تقریباً 8 فیصد تھی، جبکہ حکومت کو توقع تھی کہ یہ سہولت تقریباً 6 فیصدشرح سود پر حاصل ہوسکے۔
- سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس نے گزشتہ ہفتے یہ فیصلہ کیا۔
- یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی مجموعی مالیاتی ضروریات بدستور بلندہیں۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان نے زیادہ شرح سودکے باعث اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ٹریڈفنانس کارپوریشن (آئی ٹی ایف سی) کی جانب سے 49 کروڑ ڈالر کے تجارتی قرض کی پیشکش مستردکردی۔
وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق قرض کی لاگت تقریباً 8 فیصد تھی، جبکہ حکومت کو توقع تھی کہ یہ سہولت تقریباً 6 فیصدشرح سود پر حاصل ہوسکے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس نے گزشتہ ہفتے یہ فیصلہ کیا۔ ایک سال کی مدت کیلیے پیش کیے گئے اس قرض کومستردکرنے کے بعد وزارت خزانہ نے اقتصادی امورڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ آئی ٹی ایف سی یاکسی دوسرے ذریعے سے مسابقتی شرح پر نئی قرض سہولت حاصل کرنے کے امکانات تلاش کیے جائیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی مجموعی مالیاتی ضروریات بدستور بلندہیں۔ وزارت خزانہ کے مالی سال 2026-27 کے سالانہ قرضہ منصوبے کے مطابق ملک کی مجموعی مالیاتی ضروریات 28 ہزار 647 ارب روپے رہنے کاتخمینہ ہے، جومجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 20 فیصد کے برابر۔
رپورٹ کے مطابق ان ضروریات میں تقریباً 7 ہزار ارب روپے کا وفاقی مالیاتی خسارہ اور 21 ہزارارب سے زائدکے ملکی و بیرونی قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگیاں شامل ہیں۔
وزارت خزانہ نے خالص بیرونی مالیاتی ضروریات 813 ارب روپے، یعنی تقریباً 2۔8 ارب ڈالر، بتائی ہیں، تاہم قرضوں کی واپسی کے باعث نئے قرضوں کاحجم اس سے زیادہ ہوگا۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










