وادی گلوان میں بھارتی فوجیوں کی پٹائی، چین نے ویڈیو جاری کردی. بیجنگ : چین اور بھارت کے درمیان گزشتہ برس لداخ کی گلوان وادی میں ہونے والی جھڑپ کے بعد کی ویڈیو جاری کردی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ متعدد بھارتی فوجی انتہائی زخمی حالت میں ہیں اور ان کے جسم کے مختلف حصوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔ ان فوجیوں سے چلا بھی نہیں جا رہا جس کے باعث انہیں پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے یا چینی فوج) کے جوان سہارا دے کر لے جا رہے ہیں۔ یہ وہ فوجی ہیں جنہیں گلوان وادی میں گزشتہ برس جھڑپ کے دوران چین نے گرفتار کیا تھا۔ گزشتہ برس 15 جون کو چینی اور بھارتی فوج میں سرحد پر جھڑپ ہوئی تھی جس 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ Today, HD version of Indian soldiers captured by Chinese PLA emerged. #GalwanValley last year, Indian soldiers violated the reached consensus and launched provocative attacks against Chinese personnel, leading to serious physical conflicts. pic. twitter. com/34PgYuo3sd — Shen Shiwei沈诗伟 (@shen_shiwei) October 15, 2021 چین کی جانب سے گزشتہ دنوں بھارتی فوجیوں کی تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں جن میں متعدد زخمی بھارتی فوجیوں کو چینی فوج کی حراست میں دیکھا جاسکتا ہے۔ Images circulating on #China social media now allegedly show PLA soldiers with injured #Indian army men اور equipment, these images appear to be of اور around the #Galwanvalley incident Veracity unknown pic. twitter. com/HhP27AYCKh — d-atis☠️ (@detresfa_) October 9, 2021 بی بی سی کے مطابق بھارتی میڈیا پر اس حوالے سے مکمل خاموشی ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اس بارے میں کوئی بات نہیں کی جا رہی ۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت سے اس کی وضاحت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس کے ترجمان نے مودی سرکار سے سوال کیا ہے کہ وہ بتائے کہ ان ویڈیوز اور تصاویر کے بارے میں کیا کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز اور تصاویر ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب بھارت اور چین کے سرحدی تنازعے پر ہونے والے مذاکرات کا 13 واں دور مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ گزشتہ برس کی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے چین یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ مذاکرات صرف ان کی شرطوں پر ہی ہوں گے۔