بدھ، 4 نومبر 2026ء24 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
بریکنگ نیوز
وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےلاہور: غیر ملکی خاتون مبینہ زیادتی کیس کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظوروفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےلاہور: غیر ملکی خاتون مبینہ زیادتی کیس کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظوروفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےلاہور: غیر ملکی خاتون مبینہ زیادتی کیس کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظوروفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےلاہور: غیر ملکی خاتون مبینہ زیادتی کیس کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور
Critical Thinking•7 جولائی 2020•وقت اشاعت: رات 9:58
🇬🇧 English

صحیح تر کی طرف

صحیح تر کی طرف
🎙️ اپنا پسرور ڈیپ ڈائیو (Google NotebookLM انداز)2-میزبان آڈیو پوڈکاسٹ

مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ

👨‍💼
اسد

میزبان و براڈکاسٹر

👩‍💼
عظمیٰ

تجزیہ کار و شریک میزبان

00:00--:--
🎧 مکمل پوڈکاسٹ سماعت کے لیے تیار ہے
مطالعہ کی سہولیات:

فلسفے میں پوسٹ ماڈرن ازم ایک پوزیشن ہے جس کے مطابق حقیقت اور سچ ایک کلچرل بیانیہ ہے۔ فلسفے کے اس خیال کو سائنس مخالف استعمال سائنس کو ڈِس کریڈٹ کرنے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں کہ ہر سائنسی دریافت بھی بس ایک کلچرل بیانیہ ہے۔ اور اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بدلتی رہے گی۔ کیا یہ ایک معقول بیانیہ ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علم آگے کی طرف کیسے بڑھتا ہے۔ اس کی ایک مثال آئزک آئیساموف زمین کی شکل سے دیتے ہیں۔ قدیم یونانیوں نے معلوم کر لیا تھا کہ زمین گول ہے۔ بعد میں بہتر مشاہدات سے معلوم ہوا کہ یہ خطِ استوا سے معمولی سی ابھری ہوئی ہے۔ اس سے بھی بہتر سیٹلائیٹ ڈیٹا ملنے پر پتا لگا کہ جنوبی کرہ شمالی کرے سے بہت معمولی سا بڑا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ پہاڑوں اور وادیوں کے بارے میں تو ہم جانتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ زمین کی اصل شکل زیادہ سے زیادہ باریک تفصیل کے ساتھ ڈیفائن ہوتی گئی۔

لیکن یہ تفصیلات اس بنیادی سمجھ کو تبدیل نہیں کرتیں کہ زمین تقریبا گول ہے۔ کوئی نیا مشاہدہ یہ نہیں بتائے گا کہ یہ کیوب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اجرامِ فلکی کی حرکات کی وضاحت کے لئے بطلیموس کے بنائے گئے ماڈل میں زمین نظامِ شمسی کا مرکز تھی اور سیاروں کی حرکات کی وضاحت ایپی سائیکلز کے پیچیدہ سسٹم سے تھی۔ کاپرنیکس نے ایک مختلف ماڈل استعمال کیا جس میں مرکز سورج تھا۔ اس وقت کے مشاہدات اتنے زیادہ نفیس نہیں تھے۔ اس لئے ایسا نہیں تھا کہ کوپرنیکس کا ماڈل بہتر وضاحت کرتا تھا۔ کوپرنیکس کا ماڈل کیوں کامیاب رہا اور اب ہم سورج کو نظامِ شمسی کا مرکز کہتے ہیں؟ اس لئے کہ بعد میں آنے والے زیادہ ایکوریٹ آبزرویشن کی اس ماڈل سے بہتر وضاحت کی جا سکتی تھی۔ لیکن کاپرنیکس کے ماڈل میں مدار دائرے تھے۔ اور نئی آبزرویشن اس پر فٹ نہیں ہوتی تھیں۔ پھر کیپلر آئے اور انہوں نے سیاراتی حرکات کے تین قوانین دریافت کئے جن میں مدار بیضوی تھے۔ اور اسی طرح پھر ہم رفتہ رفتہ جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی تک جا پہنچے۔

کوئی نیا مشاہدہ ہمیں واپس بطلیموس تک نہیں لے جا سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی سائنسی شعبہ اپنے میں الگ دنیا نہیں۔ اس کو ایک مکمل تصویر میں ہی کہیں فٹ ہونا ہے کیونکہ یہ سب reality کی وضاحت کے لئے ہے۔ اور اسی لئے ہر شعبے کو ایک دوسرے سے متفق ہونا ہے۔ ایک دوسرے کی سپورٹ کرنی ہے۔

کاپرنیکس اور کیپلر کا سسٹم اس لئے کامیاب رہا کیونکہ یہ بعد میں آنے والی دوسری دریافتوں سے مطابقت رکھتا تھا۔ جیسا کہ گریویٹی۔ یہ وہ فورس تھی جو وضاحت کر دیتی تھی کہ آخر سیارے ویسے ہی کیوں حرکت کرتے ہیں جو یہ ماڈل بتاتا ہے۔ بطلیموس کے ماڈل کے ایپی سائیکل کو سپورٹ کرنے کے لئے کوئی تھیوریٹیکل فورس نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنسدانوں کو نئے خیالات کہاں سے آتے ہیں؟ یہ کہیں سے بھی آ سکتے ہیں۔ کوئی پابندی نہیں۔ بیٹھے بیٹھے خیال سوجھے، خواب میں آئے، کسی فکشن کی کتاب سے نکالا جائے، کسی کلچرل خیال کا حصہ ہو، نشے میں وارد ہو ۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔ جو چیز اہم ہے جو خیال کا سورس نہیں بلکہ later justification ہے۔ یعنی یہ آئیڈیا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے۔

اور یہ وہ کسوٹی ہے جس کی وجہ سے سائنسی علم محض کلچرل بیانیہ نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کلچرل کہانیاں نہیں، خیالات کو زندہ رہنے کے لئے خود کو مفید ثابت کرنا پڑتا ہے۔ حقیقت اور سچ ایک کو ناقابلِ اعتبار قرار دے دینا ہارے ہوئے کھلاڑی کی بازی کو الٹا دینے جیسی دلیل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پوسٹ ماڈرن ازم کی معتدل پوزیشن بالکل بے بنیاد نہیں اور کا سائنس پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ سائنسدان کوئی خلائی مخلوق نہیں، انسان ہی ہیں۔ اس کا کلچرل پہلو بھی ہے۔ سائنسدان بھی اپنے تعصبات اور کلچرل مفروضات رکھتے ہیں۔ سائنس کے ادارے بھی جانبداری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ سائنس آگے نہیں بڑھ سکتی۔ کیونکہ اس کو معروضی حقیقت سے ٹیسٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کلچرل تعصبات بالآخر ناکام ہو کر نکل ہی جاتے ہیں۔ ابھی تک سائنس کی تاریخ کو دیکھا جائے تو پتا لگتا ہے کہ

دنیا کو جانا جا سکتا ہے
دنیا اس قابل ہے کہ اس کو جانا جائے
دنیا کو ہم بہتر جانتے جا رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کارل پاپر نے کہا تھا کہ “سائنس کی تاریخ انسانی خیالات کی تاریخ ہے۔ غیرذمہ داری کی، خطرناک خوابوں کی، ضد کی اور غلطیوں کی۔ لیکن یہ ایک ایسی ایکٹیویٹی ہے جس میں غلطیوں پر خاص طریقے سے تنقید ہوتی ہے اور عام طور پر وقت پر اصلاح بھی”۔

وہ جو کام نہیں کرتا، بالآخر ختم ہو ہی جاتا ہے۔ جی پی ایس کام کرتا ہے، اس سے ہم راہنمائی لے لیتے ہیں۔ آسٹرولوجی کام نہیں کرتی، ادارے اس کو استعمال کر کے اگلے سال کی پلاننگ نہیں کرتے۔ حقیقت صرف کلچرل بیانیہ نہیں ہے۔

تحریر: وہارا امباکر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ساتھ لگی تصویر سائنسی انقلابوں کے کوہن سائیکل کے ماڈل کی ہے۔ کوہن نے paradigm shift کا لفظ متعارف کروایا تھا۔ کئی بار سائنس سے انکار کے اس طریقے کو یہ سائکل دکھا کر “کوہنین” کہا جاتا ہے کہ سائنس میں کچھ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ دلچسپ چیز یہ ہے کہ کوہن خود بھی کوہینین نہیں تھ)ے۔
صحیح تر کی طرف
فلسفے میں پوسٹ ماڈرن ازم ایک پوزیشن ہے جس کے مطابق حقیقت اور سچ ایک کلچرل بیانیہ ہے۔ فلسفے کے اس خیال کو سائنس مخالف استعمال سائنس کو ڈِس کریڈٹ کرنے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں کہ ہر سائنسی دریافت بھی بس ایک کلچرل بیانیہ ہے۔ اور اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بدلتی رہے گی۔ کیا یہ ایک معقول بیانیہ ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علم آگے کی طرف کیسے بڑھتا ہے۔ اس کی ایک مثال آئزک آئیساموف زمین کی شکل سے دیتے ہیں۔ قدیم یونانیوں نے معلوم کر لیا تھا کہ زمین گول ہے۔ بعد میں بہتر مشاہدات سے معلوم ہوا کہ یہ خطِ استوا سے معمولی سی ابھری ہوئی ہے۔ اس سے بھی بہتر سیٹلائیٹ ڈیٹا ملنے پر پتا لگا کہ جنوبی کرہ شمالی کرے سے بہت معمولی سا بڑا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ پہاڑوں اور وادیوں کے بارے میں تو ہم جانتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ زمین کی اصل شکل زیادہ سے زیادہ باریک تفصیل کے ساتھ ڈیفائن ہوتی گئی۔

لیکن یہ تفصیلات اس بنیادی سمجھ کو تبدیل نہیں کرتیں کہ زمین تقریبا گول ہے۔ کوئی نیا مشاہدہ یہ نہیں بتائے گا کہ یہ کیوب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اجرامِ فلکی کی حرکات کی وضاحت کے لئے بطلیموس کے بنائے گئے ماڈل میں زمین نظامِ شمسی کا مرکز تھی اور سیاروں کی حرکات کی وضاحت ایپی سائیکلز کے پیچیدہ سسٹم سے تھی۔ کاپرنیکس نے ایک مختلف ماڈل استعمال کیا جس میں مرکز سورج تھا۔ اس وقت کے مشاہدات اتنے زیادہ نفیس نہیں تھے۔ اس لئے ایسا نہیں تھا کہ کوپرنیکس کا ماڈل بہتر وضاحت کرتا تھا۔ کوپرنیکس کا ماڈل کیوں کامیاب رہا اور اب ہم سورج کو نظامِ شمسی کا مرکز کہتے ہیں؟ اس لئے کہ بعد میں آنے والے زیادہ ایکوریٹ آبزرویشن کی اس ماڈل سے بہتر وضاحت کی جا سکتی تھی۔ لیکن کاپرنیکس کے ماڈل میں مدار دائرے تھے۔ اور نئی آبزرویشن اس پر فٹ نہیں ہوتی تھیں۔ پھر کیپلر آئے اور انہوں نے سیاراتی حرکات کے تین قوانین دریافت کئے جن میں مدار بیضوی تھے۔ اور اسی طرح پھر ہم رفتہ رفتہ جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی تک جا پہنچے۔

کوئی نیا مشاہدہ ہمیں واپس بطلیموس تک نہیں لے جا سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی سائنسی شعبہ اپنے میں الگ دنیا نہیں۔ اس کو ایک مکمل تصویر میں ہی کہیں فٹ ہونا ہے کیونکہ یہ سب reality کی وضاحت کے لئے ہے۔ اور اسی لئے ہر شعبے کو ایک دوسرے سے متفق ہونا ہے۔ ایک دوسرے کی سپورٹ کرنی ہے۔

کاپرنیکس اور کیپلر کا سسٹم اس لئے کامیاب رہا کیونکہ یہ بعد میں آنے والی دوسری دریافتوں سے مطابقت رکھتا تھا۔ جیسا کہ گریویٹی۔ یہ وہ فورس تھی جو وضاحت کر دیتی تھی کہ آخر سیارے ویسے ہی کیوں حرکت کرتے ہیں جو یہ ماڈل بتاتا ہے۔ بطلیموس کے ماڈل کے ایپی سائیکل کو سپورٹ کرنے کے لئے کوئی تھیوریٹیکل فورس نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنسدانوں کو نئے خیالات کہاں سے آتے ہیں؟ یہ کہیں سے بھی آ سکتے ہیں۔ کوئی پابندی نہیں۔ بیٹھے بیٹھے خیال سوجھے، خواب میں آئے، کسی فکشن کی کتاب سے نکالا جائے، کسی کلچرل خیال کا حصہ ہو، نشے میں وارد ہو ۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔ جو چیز اہم ہے جو خیال کا سورس نہیں بلکہ later justification ہے۔ یعنی یہ آئیڈیا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے۔

اور یہ وہ کسوٹی ہے جس کی وجہ سے سائنسی علم محض کلچرل بیانیہ نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کلچرل کہانیاں نہیں، خیالات کو زندہ رہنے کے لئے خود کو مفید ثابت کرنا پڑتا ہے۔ حقیقت اور سچ ایک کو ناقابلِ اعتبار قرار دے دینا ہارے ہوئے کھلاڑی کی بازی کو الٹا دینے جیسی دلیل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پوسٹ ماڈرن ازم کی معتدل پوزیشن بالکل بے بنیاد نہیں اور کا سائنس پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ سائنسدان کوئی خلائی مخلوق نہیں، انسان ہی ہیں۔ اس کا کلچرل پہلو بھی ہے۔ سائنسدان بھی اپنے تعصبات اور کلچرل مفروضات رکھتے ہیں۔ سائنس کے ادارے بھی جانبداری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ سائنس آگے نہیں بڑھ سکتی۔ کیونکہ اس کو معروضی حقیقت سے ٹیسٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کلچرل تعصبات بالآخر ناکام ہو کر نکل ہی جاتے ہیں۔ ابھی تک سائنس کی تاریخ کو دیکھا جائے تو پتا لگتا ہے کہ

دنیا کو جانا جا سکتا ہے
دنیا اس قابل ہے کہ اس کو جانا جائے
دنیا کو ہم بہتر جانتے جا رہے ہیں


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کارل پاپر نے کہا تھا کہ “سائنس کی تاریخ انسانی خیالات کی تاریخ ہے۔ غیرذمہ داری کی، خطرناک خوابوں کی، ضد کی اور غلطیوں کی۔ لیکن یہ ایک ایسی ایکٹیویٹی ہے جس میں غلطیوں پر خاص طریقے سے تنقید ہوتی ہے اور عام طور پر وقت پر اصلاح بھی”۔

وہ جو کام نہیں کرتا، بالآخر ختم ہو ہی جاتا ہے۔ جی پی ایس کام کرتا ہے، اس سے ہم راہنمائی لے لیتے ہیں۔ آسٹرولوجی کام نہیں کرتی، ادارے اس کو استعمال کر کے اگلے سال کی پلاننگ نہیں کرتے۔ حقیقت صرف کلچرل بیانیہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ساتھ لگی تصویر سائنسی انقلابوں کے کوہن سائیکل کے ماڈل کی ہے۔ کوہن نے paradigm shift کا لفظ متعارف کروایا تھا۔ کئی بار سائنس سے انکار کے اس طریقے کو یہ سائکل دکھا کر “کوہنین” کہا جاتا ہے کہ سائنس میں کچھ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ دلچسپ چیز یہ ہے کہ کوہن خود بھی کوہینین نہیں تھے۔)



اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں

تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں

چینل جوائن کریں ↗

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

اسی زمرے کی مزید خبریں

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

تمام خبریں دیکھیں
4 نومبر 2026•44 منٹ پہلے•عائشہ نور

وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیے

اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے عمل سے متعلق 6 اہم ترین قانونی اصول واضح کرتے ہوئے بڑا فیصلہ جاری کر دیا۔

4 نومبر 2026•1 گھنٹے پہلے•عائشہ نور

سابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعمل

اسلام آباد : الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے حالیہ انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مؤقف سپریم کورٹ کےحتمی فیصلوں کے برعکس۔

4 نومبر 2026•4 گھنٹے پہلے•سلمان بٹ

وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا

اسلام آباد : فاسٹ موڈ ایوارڈز 2026 میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا۔

4 نومبر 2026•5 گھنٹے پہلے•وقاص احمد (مورخ و سینئر محقق)

شہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)

تزکِ جہانگیری کے چودہویں سال کے احوال کے مطابق، مغل شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نورجہاں نے کشمیر سفر کے دوران پسرور کے عظیم الشان پختہ تالاب پر پڑاؤ کیا اور اس کے فنِ تعمیر کو سراہا۔

4 نومبر 2026•5 گھنٹے پہلے•طاہر محمود

پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیا

لاہور : پنجاب کے متعدد شہر شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں ، جبکہ جھنگ 678 ائیر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔

4 نومبر 2026•7 گھنٹے پہلے•طاہر محمود

مولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاری

محمد اکرم خان پانیزئی کے حوالے سے ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد کے تحت نوٹس جاری کیے گئے۔

صحیح تر کی طرف | اپنا پسرور