اینٹارٹیکا کی سرد ہوا اور برسات کا موسم

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
اینٹارٹیکا کا مرکز بلند اور خشک سطحِ مرتفع ہے۔ برف کی تہوں سے ڈھکا ہوا لیکن برفباری یہاں پر شاذ ہی ہوتی ہے۔ یہ برف کا صحرا ہے۔ چمکدار سفید سطح یہاں پڑتی نخیف و نزار دھوپ کا بڑا حصہ ویسے ہی منعکس کر دیتی ہے اور درجہ حرارت منفی 80 درجے سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ خاموشی ہے۔ اور یہاں کی فضا بھی سست ہے۔ سردی کی وجہ سے ہوا کے مالیکیولز میں توانائی کم ہے۔ یہ مقابلتاً ذرا سست رفتار ہیں۔
ہوا جب اوپر سے سطح مرتفع پر اترتی ہے تو برف اس کی توانائی چرا لیتی ہے۔ سرد ہوا مزید سرد ہو جاتی ہے۔ چونکہ پریشر مستقل ہے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اس کا حجم کم ہو جاتا ہے اور کثافت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کثافت میں اضافے کا مطلب یہ کہ مالیکیول آپس میں قریب قریب آ جاتے ہیں۔ سست رفتاری کی وجہ سے یہ باہر کی اس ہوا پر اتنا دباوٗ نہیں ڈال سکتے جو انہیں قریب قریب دھکیل رہی ہے۔
اس برِاعظم میں زمین اس طرح ہے کہ مرکز میں اونچائی ہے اور یہاں سے سمندر کی طرف ڈھلوان ہے۔ تو یہ سرد اور کثیف ہوا سطح کے ساتھ ساتھ مرکز سے سمندر کی طرف لڑھکنے لگتی ہے۔ جیسے کوئی آبشار ہو۔ یہ ہوا ہمیشہ مرکز سے سمندر کی ست چلتی ہے۔ یہ اینٹارٹیکا کی کاٹابیٹک ہوائیں ہیں۔ اور اگر آپ قطبِ جنوبی کی طرف سفر کر رہے ہیں تو ہمیشہ آپ کے چہرے پر یہ تیز اور سرد ہوا آپ کی سمت کے مخالف ٹکرا رہی ہو گی۔
یہ قطبِ جنوبی کے مہم جووٗں کے ساتھ کھیلی گئی فطرت کی ظالم کھیل تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اینٹارٹیکا میں چلنے والی ہوائیں کسی بھی دوسرے برِاعظم کے مقابلے میں تند و تیز ہیں۔ ساحل کے قریب زیادہ تیز جبکہ قطبِ جنوبی کے قریب ان کی رفتار کم ہوتی ہے۔ نہ کوئی عمارت، نہ درخت اور نہ کوئی اور رکاوٹ۔ ساحلِ سمندر پر یہ 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد تک پہنچ سکتی ہیں۔ اتنی تیز رفتار کہ ساحل کے قریب جمنے والی تیرتی سمندری برف کو بنتے ساتھ ہی دور لے جاتی ہیں اور جب فضا کا درجہ حرارت منفی 20 ڈگری ہو، تب بھی سمندر برف سے خالی رہتا ہے۔ اس تیز ہوا میں اڑتے برف کے ذرات کئی بار جن نت نئی آوازوں کو جنم دیتی ہے ۔۔۔ یہ وہ تجربہ ہے جسے محسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔
ڈھلوان پر لڑھکتی ہواوٗں کا مظہر ہمیں دنیا کے کئی مقامات پر نظر آتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمالیہ کے بلند پہاڑ پر گرمی کے پرسکون دن میں سورج کے کرنیں پڑ رہی ہیں اور پہاڑ کو گرم کر رہی ہیں۔ یہ گرمی اس کے قریب فضا میں منتقل ہو رہی ہے۔ اتنی ہی بلندی پر فضا کا وہ حصہ جو پہاڑ سے دور ہے، کم درجہ حرارت پر ہے۔ پہاڑ کا زمین پر ڈالے جانے سائے کا مطلب یہ ہے کہ کم بلندی والا حصہ بھی دھوپ سے محروم رہ کر سرد ہے۔
چوٹی پر ہوا گرم ہو چکی۔ اس نے کنوکشن کی وجہ سے بلند ہونا شروع کیا۔ یہاں پر ہوا کا دباوٗ کم ہو گیا۔ اس کو پر کرنے کے لئے نیچے سے ہوا بلند ہونے لگی۔ پہاڑ کی ڈھلوان پر چڑھتی یہ ہوا این ایباٹک ہوا کہلاتی ہے۔ اور اٹھتی ہوا جب اپنے ڈیو پوائنٹ سے کم پر پہنچ جاتی ہے تو کمولیس بادل بنتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوٹی کی طرف آنے والی ہوا کے اس مظہر کو گلائیڈر پائلٹ اپنے جہاز کو بلند کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
اور یہ برِصغیر میں سالانہ ایک خاص موسم میں آنے والے مون سون کی ایک وجہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیٹ ایباٹک ہوا
https://en.wikipedia.org/wiki/Katabatic_wind
این ایباٹک ہوا
https://en.wikipedia.org/wiki/Anabatic_wind
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں







