بدھ، 4 نومبر 2026ء24 جمادی الاول، 1448 ہجریھ
بریکنگ نیوز
شاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں گر کر زخمی ہوگئے: وکیلوفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےشاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں گر کر زخمی ہوگئے: وکیلوفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےشاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں گر کر زخمی ہوگئے: وکیلوفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گےشاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، بیرک میں گر کر زخمی ہوگئے: وکیلوفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیےسابق جج جسٹس (ر) منصور علی شاہ کے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعملوفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیاشہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)پنجاب میں فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ، سانس لینا دشوار ہوگیامولانا فضل الرحمان اداروں کے ریڈار پر آگئے، مبینہ مالی معاون کو بھی ایف آئی اے کے نوٹس جاریبرطانوی راج کے گزیٹیئرز میں تحصیل پسرور کی تاریخ (1849ء تا 1947ء) (قسط اول)لاہور: کمسن بیٹی سے زیادتی کے الزام میں باپ گرفتارمتحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا، مولانا فضل الرحمن میزبانی کریں گے
مٹر کے دانے ۔ جین (۳)
🎙️ اپنا پسرور ڈیپ ڈائیو (Google NotebookLM انداز)2-میزبان آڈیو پوڈکاسٹ

مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ

👨‍💼
اسد

میزبان و براڈکاسٹر

👩‍💼
عظمیٰ

تجزیہ کار و شریک میزبان

00:00--:--
🎧 مکمل پوڈکاسٹ سماعت کے لیے تیار ہے
مطالعہ کی سہولیات:
مٹر کے دانے ۔ جین (۳). آگیسٹین کی خانقاہ کے ایک مذہبی راہنما گریگور جوہان مینڈل کو پھولوں کا شوق تھا۔ ان کا دوسرا شوق بائیولوجی کی سائنس تھا۔ مینڈیل نے 1853 میں مٹر کاشت کئے۔ یہ انہوں نے پہلی بار نہیں کیا تھا۔ وہ پچھلے تین سال سے یہاں پر یہ تجربات کر رہے تھے۔ مٹروں کی 34 اقسام جمع کر چکے تھے۔ پہلے ان کی بریڈنگ کر کے کنفرم کرنا تھا کہ ایک طرح کے مٹر اپنی اگلی نسل ویسی ہی پیدا کرتے ہیں۔ اگلی نسل پچھلی جیسی ہی ہوتی ہے۔ یہ ان کے تجربات کے لئے بنیادی میٹیریل بنا۔ اگر لمبے پودے کا ملاپ لمبے سے ہو، نتیجہ لمبا ہو گا، چھوٹے کا چھوٹے سے تو چھوٹا ہو گا۔ اسی طرح کچھ سٹرین سموتھ بیج پیدا کرتے تھے، کچھ شکنوں والے۔ کچھ سبز اور کچھ زرد۔ کچھ میں پھلی پک کر ڈھیلی رہ جاتی تھی، کچھ میں ٹائٹ ہوتی تھی۔ انہوں نے سات خاصیتوں کی فہرست بنائی۔ بیچ کی ساخت ۔ سموتھ یا شکن والی بیج کا رنگ ۔ سبز یا زرد پھول کا رنگ ۔ سفید یا بنفشی پھول کی جگہ ۔ پودے کے کنارے پر یا شاخ پر پھلی کا رنگ ۔ سبز یا زرد پھلی کی شکل ۔ سموتھ یا شکن والی پودے کا قد ۔ لمبا یا چھوٹا سات خاصیتیں اور دو ممکنہ صورتیں۔ (مینڈیل نے دو سے تجربات کئے، ورنہ یہ صورتیں زیادہ ہوتی ہیں)۔ ان کو بائیولوجی میں allele کہا جاتا ہے۔ زرد اور سبز بیج رنگ کے الیل ہیں۔ ایک جیسے الیل اپنے جیسی نسل پیدا کرتے ہیں لیکن اگر ان کو ملا دیا جائے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تجربات بہت مہارت اور محنت والا کام تھا۔ مٹر خود اپنے پولن سے فرٹیلائیز ہو سکتا ہے۔ تجربے کے لئے اسے روکنے کے لئے مینڈیل کو پہلے ہر پھول پر سے اینتھر کاٹنے پڑتے تھے۔ پولن کو ایک برش کے ذریعے ایک پھول سے دوسرے پر منتقل کرنا ہوتا تھا۔ وہ اکیلے ہی کام کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ ایسے تجربات چوہوں پر کرنے کی کوشش کی تھی لیکن چرچ میں چوہے پالنے سے منع کر دیا گیا تھا۔ مٹر اگانے پر کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ مینڈیل نے ان کے لئے ایک چرچ کے باہر کی جگہ کو استعمال کر لیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنٹرولڈ طریقے سے پہلی ملی جلی نسل 1857 میں آنا شروع ہوئی۔ آٹھ سال تک تجربات جاری رہے۔ بونا، پولینیٹ کرنا، توڑنا، چھلکا اتارنا، گنتی کرنا، اور اس کو دہرانا۔ یہ مینڈیل کی زندگی تھی۔ چھوٹی سی سوچ سے بڑے اصول نکلتے ہیں۔ سائنسی انقلاب کی آمد کی بنیاد ایک چیز پر تھی۔ اور وہ یہ کہ قوانینِ فطرت ایک ہی جیسے ہیں اور ہر جگہ پر ہیں۔ جو قوت سیب گراتی ہے، بالکل وہی سیاروں کی گردش بھی کرواتی ہے۔ اسی طرح اگر یہ مٹر کے دانے کسی یونیورسل وراثتی قانون کا پتا دے دیتے ہیں تو یہی قانون انسانوں پر ویسا ہی لاگو ہو گا۔ مینڈیل کا باغ چھوٹا سا تھا لیکن وہ جانتے تھے کہ جس پر کام کر رہے ہیں، وہ بہت کچھ بتا دے گا۔ مینڈل نے لکھا، “تجربات میں پیشرفت سست رفتاری سے ہو رہی تھی۔ یہ صبرآزما کام تھا۔ میں نے پھر تلاش کر لیا کہ اگر بیک وقت کئی چیزوں پر اکٹھا کام کیا جائے تو پیشرفت تیز ہو سکتی ہے۔ اس سے ڈیٹا کی آمد تیز ہو گئی۔ جب ڈیٹا ملنے لگا تو آہستہ آہستہ اس میں سے پیٹرن نظر آنے لگا”۔ اس پیٹرن کا مستقل ہونا، تناسب کا برقرار رہنا، اعداد کا ردھم ۔۔۔۔ مینڈیل نے وراثت کے عقدے کی اندرونی منطق کو پا لیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلا پیٹرن پہچاننا آسان تھا۔ ہائیبرڈ کی پہلی نسل میں خاصیتوں کا کوئی ملاپ نہیں ہوتا تھا۔ لمبے اور چھوٹے پودے سے لمبا پودا ہی بنتا تھا۔ گول بیج اور شکنوں والے بیج میں گول بیج ہی بنتے تھے۔ ساتوں خاصیتوں کے ساتھ ایسا تھا۔ مینڈیل نے غالب رہنے والی خاصیت کو dominant جبکہ غائب ہو جانے والی خاصیت کو recessive کہا۔ اگر مینڈیل اپنے تجربات یہیں پر روک دیتے تو وراثت کی تھیوری میں یہ بھی ایک بہت بڑا کنٹریبیوشن ہوتا۔ اس سے انیسویں صدی کی blend ہو جانے والی تھیوری غلط ثابت ہو گئی تھی۔ خاصیتیں ایک دوسرے سے ڈبے میں مکس ہونے والے رنگوں کی طرح نہیں ملتیں۔ ایک الیل دوسرے پر غالب رہتا ہے۔ لیکن یہ غائب ہو جانے والی خاصیت کہاں گئی؟ کیا اس کو غالب خاصیت نے نگل لیا؟ مینڈیل نے اس پر تجزیہ کرنے کے لئے دوسرا تجربہ کیا۔ ایک ہائیبرڈ کو دوسرے ہائیبرڈ سے ملایا۔ لمبے اور چھوٹے ہائیبرڈ کو ایک اور لمبے اور چھوٹے ہائیبرڈ سے۔ یہ دونوں پودے خود لمبے تھے لیکن تیسری نسل میں جو ہوا، وہ بالکل ہی غیرمتوقع تھا۔ چھوٹا قد تیسری نسل میں واپس آ گیا تھا۔ سفید پھول دوسری نسل میں بالکل غائب تھے، تیسری میں واپس آ گئے تھے۔ مینڈیل نے کہا کہ ہائیبرڈ دراصل مرکب ہے۔ غالب الیل ہے جو نظر آتا ہے لیکن مغلوب الیل بھی اس میں پایا جاتا ہے۔ مینڈل نے تیسری نسل میں تناسب کو گننا شروع کیا۔ ہر خاصیت مین پیٹرن نظر آ رہا تھا۔ نر اور مادہ سے آنے والی انفارمیشن کی منتقلی کا علم ہونے لگا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مینڈیل نے 1857 سے 1865 کے درمیان مٹروں کے دانے چھیل چھیل کر ڈرموں کے ڈرم بھر لئے۔ اس کو نوٹ بک میں لکھتے گئے۔ نتائج مستقل طور پر ایک ہی جیسے تھے۔ اٹھائیس ہزار پودے، چالیس ہزار پھول، چار لاکھ مٹر ۔۔۔ “اتنی محنت کرنا بہادری کا کام تھا”۔ یہ مینڈل نے بعد میں لکھا۔ یہ ایک باغبان کی نفاست اور تیز مشاہدہ تھا، جس نے بائیولوجی کے اہم ترین حصے کی وضاحت کر دی تھی۔ “وراثت والدین سے بچوں کو انفارمیشن کے پیکٹس کی صورت میں منتقل ہوتی ہے۔ ایک الیل باپ سے آتی ہے، ایک ماں سے۔ اگلی نسل کے لئے یہ بننے والے مادے میں یہ دونوں پھر الگ ہوتی ہیں اور ان میں سے ایک کا انتخاب ہوتا ہے۔ اگر کسی فرد میں دو مختلف الیل ہیں تو غالب الیل کی خاصیت ہو گی لیکن وہ دوسری کو آگے منتقل کر سکتا ہے۔ یہ انفارمیشن کے پارٹیکل برقرار رہتے ہیں”۔ مینڈیل نے ڈوپلر سے سبق لیا تھا۔ شور کے پیچھے موسیقی ہے۔ افراتفری کے پیچھے قانون ہے۔ اور ایک گہرا مصنوعی تجربہ ۔۔۔ پودوں کی طریقے سے افزائش ۔۔۔۔ ان رازوں کو افشا کر سکتا ہے۔ یہ تنوع بے ہنگم نہیں۔ وراثت کی انفارمیشن کے پیکٹ ہیں جو ایک نسل سے آگے جاتے ہیں۔ ہر خاصیت الگ ہے اور ناقابلِ تقسیم ہے۔ مینڈیل نے وراثت کے اس یونٹ کو نام تو نہیں دیا لیکن انہوں نے جین دریافت کر لی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈارون اور ویلیس کے پیپرز سے سات سال بعد 8 فروری 1865 کو مینڈیل نے اپنا پیپر پیش کیا۔ دو حصوں میں لکھے گئے اس پیپر کو کسانوں، ماہرینِ نباتات اور ماہرینِ حیاتیات کے لئے لکھا گیا تھا۔ چالیس لوگ سننے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ اس پیپر میں درجنوں ٹیبل تھے، جو ماہرینِ شماریات کے لئے بھی چیلنج ہو گا اور بائیولوجسٹس کے لئے تو شاید فارسی ہو گی۔ بائیولوجسٹ مورفولوجی پڑھتے ہیں، ریاضی نہیں۔ فطرت میں ریاضی کی موسیقی کا تصور فیثاغورث کے بعد فیشن سے باہر ہو چکا تھا۔ کس نے اس سے کیا اخذ کیا؟ معلوم نہیں۔ مینڈیل کا پیپر ایک غیرمعروف سالانہ جریدے میں شائع ہوا۔ خاموش طبع مینڈیل لکھنے میں بھی مختصر نویس تھے۔ اپنے ایک دہائی کے کام کو 44 صفحات میں قلمبند کر دیا۔ اس کی چالیس کاپیاں مینڈیل نے اپنے لئے کروائیں اور کئی سائنسدانوں کو بھیجیں۔ ایک سائنسدان کے الفاظ میں، "اس کے بعد جو ہوا، وہ بائیولوجی کی تاریخ میں سب سے عجیب خاموشی تھی"۔ 1866 سے 1900 کے درمیان اس پیپر کو صرف چار مرتبہ سائٹ کیا گیا اور یہ سائنسی لٹریچر سے گویا غائب ہو گیا۔ وہ سٹڈی جس نے جدید بائیولوجی کی بنیاد ڈالی، وہ ایک وسطی یورپ کے ایک زوال پذیر شہر سے شائع ہونے والے ایک جریدے کے صفحات میں گم ہو گئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مینڈیل نے یکم جنوری 1866 کو سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے پلانٹ فزیولوجسٹ کارل ناگیلی کو خط لکھا جس میں اپنے نتائج سے آگاہ کیا۔ دو مہینے بعد ناگیلی کا جواب آیا۔ انہوں نے اس کام کو اتنی اہمیت نہیں دی تھی۔ "یہ صرف تجرباتی نتائج ہیں۔ ان کی کوئی منطقی بنیاد نہیں"۔ (منطق کو تجربات پر بالاتر قرار دینی کی غلطی کئی بار کی جا چکی ہے)۔۔ مینڈیل نے اصرار جاری رکھا اور مزید خط لکھے۔ وہ ناگیلی کی حمایت کے طالب تھے۔ "مجھے معلوم ہے کہ میرے نتائج آپ کی عصری سائنس کے مطابق نہیں اور یہ بھی کہ یہ میرے اکیلے کے کئے گئے تجربات ہیں"۔ لیکن ناگیلی کے لئے یہ تسلیم کرنا ہی مشکل ہو رہا تھا کہ اس طریقے سے فطرت کا ایک گہراترین قانون (اور ایک خطرناک قانون) دریافت کیا جا سکتا ہے۔ ناگیلی ایک اور پودے پر سٹڈی کر رہے تھے۔ یہ پیلے پھولوں والی بوٹی ہاک ویڈ تھی۔ انہوں نے مینڈیل کو کہا کہ وہ اپنے نتائج اس پر دہرا کر دکھائیں۔ یہ غلط انتخاب تھا۔ مینڈیل نے مٹر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ یہ جنسی طور پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کی خاصیتیں آسانی سے شناخت کی جا سکتی ہیں۔ اس کو احتیاط کے ساتھ اپنی مرضی سے پولینیٹ کیا جا سکتا ہے۔ نہ ہی مینڈیل اور نہ ہی ناگیلی یہ جانتے تھے کہ ہاک ویڈ غیرجنسی طریقے سے بھی نسل بڑھا سکتا ہے۔ اسکو کراس پولینیٹ کرنا تقریباً ناممکن ہے اور ہائبرڈ بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے نکلنے والے نتائج بالکل بھی اچھے نہیں تھے۔ مینڈیل نے ان ہائیبرڈز کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں مٹر جیسے پیٹرن نظر نہیں آیا۔ اپنی کوشش تیز سے تیز کی ہزاروں بوٹیاں اگائیں۔ اسے چمٹے اور برش کی مدد سے 1867 سے 1871 تک اس پر تجربات کرتے رہے۔ خط و کتابت جاری رکھی۔ ناگیلی کے لئے ایک چھوٹے شہر کے مذہبی راہنما کو سنجیدہ سائنسدان کے طور پر لینا مشکل تھا۔ نومبر 1873 کو مینڈیل نے ناگیلی کو اپنا آخری خط لکھا۔ انہیں بتایا کہ وہ ناکام ہو گئے ہیں اور وہ نتائج نہیں حاصل کر سکے۔ چرچ میں انہیں اضافی ذمہ داریاں مل گئیں ہیں اور وہ اب انتظامی امور کو بھی دیکھیں گے۔ سائنس مینڈیل کی توجہ سے ہٹتی گئی۔ ایک انتظامی مسئلہ اور پھر اگلا۔ ان کی خانقاہ پر لگنے والے ٹیکس بڑھتے گئے۔ انتظامی معاملات نے اس شاندار سائنسدان کی سائنس کا گلا گھونٹ دیا۔ مینڈیل نے مٹروں پر ایک ہی پیپر لکھا۔ ان کی صحت 1880 کے بعد گرنا شروع ہو گئی۔ کام کم کر لیا۔ باغبانی کا شوق جاری رہا۔ 6 جنوری 1884 کو مینڈیل گردے فیل ہو جانے کے سبب چل بسے۔ مقامی اخبار نے ان کے انتقال کے بارے میں خبر لگائی جس میں ان کے سائنسی تجربات کا کوئی بھی تذکرہ نہیں تھا۔ ایک نوجوان پادری نے ان کی موت پر تبصرہ کیا، “شریف، مہربان اور اپنی مرضی کرنے والے۔ ان کو پھولوں سے پیار تھا”۔ (جاری ہے)

Follow Apna Pasrur Official WhatsApp Channel

Get breaking news, instant alerts, and district updates directly on your WhatsApp

Join Channel ↗

Related Tags & Topics:

You May Also Like

View All News
Nov 4, 2026•Recent•طاہر محمود

Shah Mehmood Qureshi's health is unwell, he fell in the barracks and got injured: Lawyer

Lahore (November 4, 2026): Former Foreign Minister Shah Mehmood Qureshi's condition suddenly deteriorated in Kot Lakhpat Jail. Lawyer Barrister Taimur Malik claimed that the nature of Shah Mehmood Qureshi

Nov 4, 2026•Recent•عائشہ نور

وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق 6 قانونی اصول واضح کردیے

اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے عمل سے متعلق 6 اہم ترین قانونی اصول واضح کرتے ہوئے بڑا فیصلہ جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی

Nov 4, 2026•Recent•عائشہ نور

Election Commission's strong reaction to the interview of former judge Justice (retd) Mansoor Ali Shah

Islamabad: The Election Commission, while reacting to the recent interview of former Supreme Court judge Justice (R) Mansoor Ali Shah, said that his position is contrary to the final decisions of the Supreme Court.

Nov 4, 2026•Recent•سلمان بٹ

وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا

اسلام آباد : فاسٹ موڈ ایوارڈز 2026 میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاط

Nov 4, 2026•Recent•وقاص احمد (مورخ و سینئر محقق)

شہنشاہ جہانگیر و ملکہ نورجہاں کا پسرور کے شاہی تالاب پر تاریخی قیام (1620ء)

تزکِ جہانگیری کے چودہویں سال کے احوال کے مطابق، مغل شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نورجہاں نے کشمیر سفر کے دوران پسرور کے عظیم الشان پختہ تالاب پر پڑاؤ کیا اور اس کے فنِ تعمیر کو سراہا۔

Nov 4, 2026•Recent•طاہر محمود

Air pollution has increased to dangerous levels in Punjab, making breathing difficult

LAHORE: Several cities of Punjab are in the grip of severe air pollution, while Jhang is at the forefront with an air quality index of 678. According to the details in different cities of Punjab