توجہ اور محنت. "آنکھیں روح کی کھڑکی ہیں"۔ قدیم کہاوت ہمارے ذہن کے کام کرنے کا خودکار یا آٹومیٹک نظام سسٹم ون ہے۔ ذہن پر زور دے کر سوچنے والا نظام سسٹم ٹو ہے۔ (تفصیل نیچے دئے گئے مضمون میں) اگر کبھی ذہن پر فلم بنے تو سسٹم ون ہیرو ہو گا، جبکہ سسٹم ٹو سپورٹنگ کردار۔ سسٹم ٹو کی بڑی خاصیت اس کی کاہلی ہے۔ یہ کام کرنے سے کتراتا ہے۔ اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری زندگی میں زیادہ تر کنٹرول سسٹم ون کے پاس ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر اپنے سسٹم ٹو کو کبھی پوری قوت سے کام کرتا محسوس کرنا ہو تو مندرجہ ذیل مشق موثر رہے گی۔ یہ پانچ سیکنڈ میں کوگینٹو صلاحیت کی حد تک لے جائے گی۔ اس کو شروع کرنے کے لئے چار ہندسوں کے اعداد کے کئی کارڈ بنا کر رکھ لیں (ہر ہندسہ مختلف ہو)۔ اب ہم نے مندرجہ ذیل مشق کرنی ہے جو "جمع ایک" کہلاتی ہے۔ ایک ردھم بجانا شروع کریں۔ کوئی بھی ٹون جو ہر سیکنڈ کے بعد بجے۔ (موبائل پر میٹرو ٹون بجائی جا سکتی ہے)۔ ایک کارڈ سے چار ہندسے بآواز بلند پڑھیں۔ دو بار بیٹ بجنے کا انتظار کریں۔ اب ہر ہندسے میں ایک جمع کر کے اونچی آواز میں پڑھیں۔ یعنی اگر کارڈ پر 5294 لکھا ہے تو 6305 پڑھنا ہے۔ اگلے سیکنڈ میں اگلا کارڈ اٹھا کر پڑھیں۔ ردھم برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کم ہی لوگ "جمع ایک" کی مشق میں چار ہندسوں سے زیادہ بڑے اعداد پر کام کر سکتے ہیں۔ اگر اس سے زیادہ مشکل چیلنج چاہیے تو وہ "جمع تین" ہے (یعنی ہر ہندسے میں تین جمع کرنے ہیں)ْ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب ذہن کام کر رہا ہے تو جسم کیا کر رہا ہے؟ اس کو جاننے کے لئے ایک میز پر کتابوں کے دو ڈھیر رکھیں، اپنی ٹھوڑی ایک پر رکھیں اور ویڈیو بنانے کے لئے کیمرہ دوسرے پر۔ "جمع ایک" یا "جمع تین" کرتے وقت اس کیمرہ کے لینز کو دیکھتے رہیں۔ پتلیوں کا سائز آپ کو بتا دے گا کہ آپ کتنی محنت کرتے رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایکہارڈ ہیس نے آرٹیکل لکھا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ آنکھ روح کی کھڑکی کا کام کرتی ہے۔ ان کی اہلیہ نے ان کو بتایا تھا کہ جب وہ فطرت کی خوبصورت تصاویر دیکھتے ہیں تو پتلیاں پھیل جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنے کام میں دریافت کیا کہ جب کسی کو ایک ہی خاتون کی دو تصاویر دکھائی جائیں جن میں ایک کی پتلیاں پھیلی ہوں (اس کو ہم شعوری طور پر نہیں پہچان پاتے) تو پھیلی پتلیوں والی خاتون زیادہ پرکشش لگتی ہیں۔ پھیلی پتلیاں دلچسپی کی علامت ہیں۔ ہیس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ذہنی مشق اور پتلیوں کے پھیلنے کا تعلق ہے اور یہ حساس ہے۔ مشکل سوالات حل کرتے وقت یہ پھیلاو زیادہ ہوتا ہے۔ ہیس کے اس کام کو سب سے زیادہ جیکسن بیٹی نے آگے بڑھایا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹی اور کاہنیمین نے ایک سیٹ اپ بنایا۔ اس میں شرکاء اپنی ٹھوڑی کو ٹکا سکتے تھے اور مشق کے وقت کیمرہ کو گھور سکتے تھے اور ساتھ ردھم پر بجتی میٹرٹون پر مشق کر سکتے تھے۔ ہر سیکنڈ کے بعد ان کی تصاویر لی جا رہی ہوتی تھیں۔ اس تجربے کے بعد ہر تصویر پر ان کی پتلیوں کی پیمائش کی جاتی تھی۔ یہ پیمائش ایک واضح کہانی بتا دیتی تھی۔ blogspot. com/2019/12/blog-post_56. html