داعش ۔ تاریخ کی تصویریں

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان

اوپر دائیں ۔ زرقاوی افغانستان جانے سے قبل۔ اس سے کچھ ہی عرصہ بعد انہوں نے افغان جنگ کا حصہ بننے کے لئے پشاور کا سفر کیا
نیچے بائیں ۔ زرقاوی کی اردن جیل میں لی گئی تصویر
نیچے بائیں ۔ یہ فریم القاعدہ عراق کی پراپیگنڈہ ویڈیو سے لیا گیا، جس میں زرقاوی کو لوگوں سے ملاقات کرتے، خوش گپیاں کرتے، پلاننگ کرتے اور ہتھیار چلاتے دکھایا گیا۔

اوپر دائیں ۔ اردن کے شاہ عبداللہ اور ان کی اہلیہ ملکہ رانیہ 2010 میں آفیشل پورٹریٹ کے لئے پوز کر رہے ہیں۔
نیچے بائیں ۔ گیارہ ستمبر کے ایک ماہ بعد شاہ عبداللہ دوئم وائٹ ہاوس میں امریکی صدر سے ملاقات کر رہیں ہیں۔ دونوں ممالک میں تعلقات اچھے رہے لیکن عبداللہ نے جارج بش کو وارننگ دی تھی کہ عراق پر حملہ اس خطے میں پنڈورا بکس کھول دے گا۔ اس تصویر کو داعش نے اپنے پراپیگنڈا میٹیرئل میں بھی استعمال کیا
نیچے دائیں ۔ شاہ عبداللہ دوئم قتل کئے گئے پائلٹ معاذ الکساسبیہہ کے والد کے ساتھ ان کے گھر کے باہر افسوس کر رہے ہیں

نیچے دائیں ۔ کیمپ بکا میں ابوبکر البغددی کی فروری 2004 میں لی گئی تصویر۔ مزاحمت کرنے والے گروپ ممبران کے ساتھ گرفتار ہوئے اور دس ماہ اس جگہ پر رہے
نیچے بائیں ۔ موصل کی النوری کی عظیم جامع مسجد میں داعش کے لیڈر البغدادی اسلامی خلافت کے قائم ہونے کا اور اپنی خلیفہ بن جانے کا اعلان کرتے ہوئے
نیچے دائیں۔ البغدادی کی جاری کردہ آخری ویڈیو جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ داعش کو کئی جگہ پیچھے ہٹنا پڑا ہے لیکن دشمن کو شکست دی جائے گی۔

اوپر دائیں ۔ عراق میں اقوامِ متحدہ کا ہیڈکوارٹر اب ملبے کا ڈھیر ہے۔ یہاں پر ہونے والے خودکش ٹرک حملے میں مشن چیف سمیت بائیس افراد ہلاک ہوئے۔ یہ القاعدہ عراق سے منسلک ابتدائی حملوں میں ہے۔
نیچے بائیں ۔ ناکام خود کش حملہ آور ساجدہ الرشاوی اپنی خودکش جیکٹ دکھا رہی ہیں جو 2005 میں کئے گئے حملے میں پھٹ نہ سکی۔ یہ تصویر دی جورڈن ٹائمز سے لی گئی ہے۔
نیچے بائیں ۔ داعش کی پراپیگنڈا ویڈیو سے منظر جس میں معاذ الکساسبیہہ کو دکھایا جا رہا ہے۔ بعد میں انہیں یہیں پر زندہ نذرِآتش کر دیا گیا۔

اوپر دائیں ۔ داعش کے فوجی رقہ کی سڑک پر مارچ کرتے ہوئے۔ مغربی شام کا شہر 2013 میں داعش کے پاس آیا اور اس حکومت کے پاس آنے والا پہلا شہر تھا۔
نیچے بائیں ۔ داعش کے نظامِ انصاف کی جھلک۔ شام اور عراق میں شہر کی نمایاں جگہ پر سزائے موت دی جاتی تھی۔ سر قلم سے مصلوب کئے جانے تک کے طریقے استعمال ہوتے تھے۔ یہاں پر رقہ شہر کے مین سکوائر میں نوجوان کو مصلوب کیا جا رہا ہے
نیچے دائیں ۔ داعش کی گاڑیوں کا قافلہ عراقی صحرا کو 2014 کے اوائل میں پار کر رہا ہے۔ یہاں پر موصل اور انبار کے صوبے کے بڑے علاقے پر کامیابی سے قبضہ کر لیا گیا تھا۔

دائیں ۔ ادلب میں باریشا کا مقام۔ امریکی فوج کا آپریشن جاری ہے جس میں بغدادی انتقال کر گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











