خواب ۔ جانوروں کے، انسانوں کے

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
مستند قدرتی اردو گفتگو • میزبان: اسد اور عظمیٰ • اسٹوڈیو براڈکاسٹ
میزبان و براڈکاسٹر
تجزیہ کار و شریک میزبان
دوسرے جانداروں میں بھی ایسا ہی ہے؟ جتنے بھی جانداروں میں ہم پیمائش کر سکتے ہیں، ان میں سے تمام نان ریم کی نیند کی حالت کا تجربہ کرتے ہیں۔ البتہ کیڑے، جل تھلیے، مچھلیاں اور اکثر رینگنے والے جانور ریم کی واضح حالت میں داخل نہیں ہوتے۔ پرندے اور ممالیہ مکمل طور پر ریم کی حالت میں داخل ہوتے ہیں۔ یعنی یہ خواب دیکھتے ہیں۔ اس سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ ارتقا کی تاریخ میں خواب کی انٹری کچھ دیر سے ہوئی۔
اس میں استثنا سمندری جانور وہیل اور ڈولفن ہیں۔ اس کی ایک اچھی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ ریم نیند کے دوران ہمارا جسم مکمل طور پر مفلوج ہو جاتا ہے۔ ایسا ہونا اس لئے ضروری ہے تا کہ ہم خواب میں مناظر پر ایکشن اپنے بازو اور ٹانگوں سے نہ لیں۔ پانی کے جانوروں کے لئے تیرنا ضروری ہے۔ انہیں سطح پر آ کر سانس بھی لینا پڑتا ہے۔ اگر یہ مکمل طور پر مفلوج ہو جائیں تو ڈوب جائیں گے۔
جب ہم ایک اور طرح کا گروپ دیکھتے ہیں جن میں فر سیل جیسے ممالیہ جانور ہیں جو کچھ وقت سمندر میں ہوتے ہیں اور کچھ وقت پانی میں۔ جب یہ زمین پر ہوتے ہیں تو ان کی نیند میں ریم اور نان ریم دونوں ہوتے ہیں، جب یہ سمندر میں سوتے ہیں تو نان ریم یا بالکل ختم ہو جاتی ہے یا پہلے سے دسویں حصے سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ جب خشکی پر آتے ہیں تو پھر ریم نیند شروع۔
ایک وقت میں خیال تھا کہ انڈے دینے والے ممالیہ جیسا کہ پلاٹیپس ریم نیند نہیں رکھتے۔ لیکن پھر پتہ لگا کہ یہ بھی رکھتے ہیں، البتہ اس کا ایک مختلف ورژن ہے۔ ان کا کورٹیکس (دماغ کا بیرونی سطح والا حصہ) اس نیند کی لہریں نہیں رکھتا لیکن جب اس کو گہرا کر کے دیکھا گیا تو دماغ کی بیس پر خواب والی اس نیند کی خوبصورت برقی ایکٹیویٹی نظر آئی اور یہ کسی بھی دوسرے ممالیہ سے زیادہ تھی۔
خواب والی نیند کی یہ ایک شکل حال میں ایک آسٹریلین چھپکلی میں نظر آئی ہے۔
نان ریم نیند کی ارتقائی تاریخ زیادہ پرانی ہے لیکن کیا یہ والی نیند خواب والی نیند سے زیادہ اہم ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ ہم تیزی سے دریافت کر رہے ہیں کہ اس کی اہمیت گرم خون والے جانوروں کے جسم کے بہت سے فنکشنز میں ہے۔ جذبات کی ریگولیشن، یادداشت کی ایسوسی ایشن، تخلیقی صلاحیت، جسم کے درجہ حرارت کی ریگولیشن اور دل کی صحت کا اس پر اثر ہوتا ہے۔
نیند ایک ایسی چیز ہے جس میں انسان تمام ایپس سے بہت مختلف ہے۔ نیو ورلڈ اور اولڈ ورلڈ منکی میں تمام کی نیند دس سے پندرہ گھنٹے کے درمیان ہے اور تمام پرائمیٹ میں خواب والی نیند کا دورانیہ نو فیصد ہے۔ انسان کی نیند آٹھ گھنٹے ہے اور خواب والی نیند کا دورانیہ بیس سے پچیس فیصد ہے۔ تقریباً تمام پرائمیٹ درختوں کی شاخوں پر یا گھونسلا بنا کر سوتے ہیں۔ گریٹ ایپ اپنا گھونسلا ہر روز بناتے ہیں۔ جبکہ انسان زمین پر سوتے ہیں (یا اس سے تھوڑا سا اوپر بستر پر)۔
زمین پر سونے کا مطلب یہ تھا کہ خطرہ زیادہ ہونے کی وجہ سے نیند کا دورانیہ کم ہو گیا۔ فطرت کا خوبصورت حل نیند کا زیادہ گہرا ہونا تھا۔ اس کیلئے خواب والا حصہ بڑھ سکتا تھا۔ گرنے کا خطرہ نہ ہونے کی وجہ سے خواب والے حصے کی نیند کا دورانیہ زیادہ ہو سکتا تھا۔ خواب والا حصہ بڑھنے کا مثبت تعلق تخلیقی صلاحیت اور جذبات سے ہے۔ انسان کی ایک بڑی خاصیت اس کا سوشل ہونا ہے۔ خواب والی نیند جذبات اور چہروں کو پہچان کے لئے ضروری ہے۔ یہ اس خواب والے حصے کی نیند کی وجہ سے ممکن ہوا۔ کم مگر گہری نیند سے ضرورت پوری کرنے کا مطلب یہ رہا کہ جاگنے کے دورانئے میں اضافے سے جاگنے والی شعوری حالت کے لئے اضافی وقت مل گیا۔ تخلیقی صلاحیت میں بہتری، بہتر معاشرتی تعلقات اور دستیاب ہونے والا اضافی وقت۔۔۔۔۔
خواب تو بہت سے جانور دیکھتے ہیں لیکن انسان جیسے نہیں۔ تو اگر چمپینزی یا گریٹ ایپ یا کوئی بھی دوسری نوع چاند پر نہیں پہنچ سکی، کمپیوٹر نہیں بنا سکی، ویکسین ایجاد نہیں کر سکی تو اس میں ایک وجہ ہمارے خواب ہیں۔ اور یہ محاورے والے نہیں، سوتے میں دیکھے جانے والے خواب ہیں۔

پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں











