عمارتوں کا مستقبل. شہروں کا غیررومانوی پہلو بیان کرنا ہو تو ان کو کنکریٹ کے جنگل کہہ دیا جاتا ہے۔ عمارت بنتی ہے، اس کو شیشے یا سٹیل یا دوسری اشیاء سے ڈھک دیا جاتا ہے کہ کنکڑیٹ نظر نہ آئے۔ جیسے یہ ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہو۔ ہم اس کو چھپانا چاہتے ہیں۔ اس سے ڈیم اور پل بنانا تو ٹھیک لیکن شہر کے اندر ہم اس کی صورت نہیں دیکھنا چاہتے۔ ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔ 1960 کی دہائی میں اس سے تعمیر آزادی کا اظہار تھا۔ اس نے شہروں کو بنایا تھا۔ان کو بدلا تھا۔ اس دہائی میں بنے رومانوی آرکیٹکچر اب ماضی کا حصہ رہ گئے ہیں۔ پھر کہیں ۔۔ یہ کنکشن ٹوٹ گیا تھا۔ شاید کئی خراب کوالٹی کے بھدے پلازے۔ شاید اس پر لکھے نعرے۔ شاید کنکریٹ کے کئی منزلہ فلیٹوں میں رہنے والوں کا انفرادیت کھو جانے کا احساس۔ یہ ضروری، سستا، فنکشنل، گرے، داغدار، غیرانسانی اور سب سے بڑھ کر بدصورت میٹیریل بن گیا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ بھدا ڈیزائن خواہ سٹیل کا ہو، لکڑی کا یا اینٹ کا۔ بھدا ہی ہوتا ہے۔ کنکریٹ کے ساتھ البتہ یہ لیبل چپک گیا۔ ورنہ اس کی جمالیاتی خوبصورتی میں کوئی خاص مسئلہ نہیں۔ سڈنی اوپرا ہاوٗس کو دیکھ لیں۔ اس منفرد عمارت کی نشانی، اس کے خول، کنکریٹ سے بنے ہیں۔ لندن کا باربیکن سنٹر ایک مثال ہے جس کا غیرمعمولی اور زبردست آرکیٹکچر بتاتا ہے کہ ٹھیک استعمال سے کیا کچھ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن پچھلے پچاس برسوں سے کنکریٹ ناقابلِ قبول ہے۔ بنیادوں میں اور ڈھانچے تک ٹھیک۔ اس سے باہر نہیں۔ لیکن اب اسے کے کئی نئے ورژن آ رہے ہیں جو اس کا جمالیاتی حسن کا تاثر بحال کرنے کے لئے ہیں۔ ان میں سے ایک خود اپنی صفائی کر لینے والی کنکریٹ ہے۔ اس میں ٹائٹینیم ڈائی آکسائیڈ کے ذرے ہوتے ہیں۔ یہ سطح پر بیٹھے ہوتے ہیں لیکن خوردبینی اور شفاف ہیں۔ جب یہ سورج سے الٹراوائلٹ شعاعیں جذب کرتے ہیں تو اس سے آزاد ریڈیکل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مٹی سے چھوئیں تو اس کو توڑ دیتے ہیں۔ ہوا یا بارش اس کو صاف کر دیتی ہے۔ عمارت خود ہی صاف ہو جاتی ہے۔ اس طرح کی سب سے پہلے بننے والی عمارت روم میں ایک چرچ ہے۔ (جو ساتھ تصویر میں نظر آ رہی ہے)۔ blogspot. com/2019/10/blog-post_6. blogspot. com/2019/10/blog-post_16. blogspot. com/2019/10/blog-post_7. html