پنجاب کے نجی شیلٹر ہومز میں مقیم بچوں کا تحفظ، حکومتی نگرانی کا نظام غیر مؤثر

پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
📌 اہم نکات (خلاصہ):
- چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو (سی پی ڈبلیو بی) کے مطابق پنجاب میں اب تک صرف 14 شیلٹر ہومز کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں جبکہ 50 سے زائد ادارے غیر رجسٹرڈ ہیں۔
- ان اداروں میں مجموعی طور پر 5 ہزار 762 بچے مقیم تھے تاہم، چار سال گزرنے کے باوجود حکومت کے پاس ان اداروں اور وہاں رہائش پذیر بچوں کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔
- سی پی ڈبلیو بی کے مطابق مزید چار سے پانچ اداروں کی رجسٹریشن کی درخواستیں زیرغور ہیں، لائسنس جاری کرنے سے قبل متعلقہ حکام عمارتوں، عملے۔
اپنا پسرور (مانیٹرنگ ڈیسک): پنجاب میں سینکڑوں یتیم، لاوارث اور غیر محفوظ حالات سے دوچار بچوں کے لیے شیلٹر ہومز (پناہ گاہیں) تحفظ کی جگہ تصور کیے جاتے ہیں جبکہ بچوں کو رہائش فراہم کرنے والے متعدد نجی ادارے اب بھی حکومتی نگرانی کے مؤثر نظام سے باہر ہیں، جس کے باعث حکام کے پاس اس حوالے سے واضح اور تازہ ترین معلومات موجود نہیں کہ ان اداروں میں کتنے بچے رہ رہے ہیں، انہیں کن حالات میں رکھا گیا ہے اور آیا ان کی حفاظت یقینی بنائی جا رہی ہے یا نہیں۔
چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو (سی پی ڈبلیو بی) کے مطابق پنجاب میں اب تک صرف 14 شیلٹر ہومز کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں جبکہ 50 سے زائد ادارے غیر رجسٹرڈ ہیں، بیورو نے یونیسیف پاکستان کے اشتراک سے22- 2021 میں کیے گئے ایک سروے میں پنجاب کے 105 رہائشی اداروں کی نشان دہی کی تھی، جن میں 41 سرکاری اور 64 نجی ادارے شامل تھے۔
ان اداروں میں مجموعی طور پر 5 ہزار 762 بچے مقیم تھے تاہم، چار سال گزرنے کے باوجود حکومت کے پاس ان اداروں اور وہاں رہائش پذیر بچوں کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔
سی پی ڈبلیو بی کے مطابق مزید چار سے پانچ اداروں کی رجسٹریشن کی درخواستیں زیرغور ہیں، لائسنس جاری کرنے سے قبل متعلقہ حکام عمارتوں، عملے، دستیاب سہولیات اور بچوں کی دیکھ بھال کے انتظامات کا معائنہ کرتے ہیں جبکہ لائسنس کے اجرا کے بعد وقتاً فوقتاً ان اداروں کا معائنہ بھی کیا جاتا۔
نجی شیلٹر ہومز ایسے وقت میں بچوں کو رہائش، خوراک، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرتے ہیں جب سرکاری اداروں میں گنجائش محدود ہے تاہم غیر رجسٹرڈ اداروں کی مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث بچوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں، ماضی میں پیش آنے والے متعدد واقعات نے بھی ان اداروں میں بچوں کے رہائشی حالات اور ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر سوالات اٹھائے ہیں۔
خیال رہے کہ ملتان میں 15 سالہ یتیم وسیم عباس کے حالیہ قتل نے ادارہ جاتی نگہداشت میں رہنے والے بچوں کے تحفظ کے معاملے کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے، وسیم ایک این جی او کے زیرانتظام یتیم خانے میں رہائش پذیر تھا، مبینہ طور پر اسے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ایک ٹھیکیدار کے ساتھ بھیجا گیا، جہاں سے واپسی کے دوران ٹھیکیدار نے اس کا پیچھا کیا اور گاڑی تلے روند دیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اپنا پسرور کا آفیشل واٹس ایپ چینل فالو کریں
تمام بریکنگ نیوز، فوری الرٹس اور تصویری خبریں براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر مفت پائیں










